شیلٹر ہوم پر چھاپہ، 7 لڑکیاں تحویل میں لے لی گئیں 307

شیلٹر ہوم پر چھاپہ، 7 لڑکیاں تحویل میں لے لی گئیں

شہر کراچی کی ساوتھ روزن پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے ہمراہ شیلٹر ہوم پر چھاپہ مارا جس میں 7 لڑکیوں کو تحویل میں لے لیا گیا۔لڑکیوں پر تشدد کے حوالے سے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر تھی۔پولیس کی جانب سے کارروآئی کرتے ہوئے لڑکیوں کو تحویل میں لیا گیا جس کے بعد پولیس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کا کہنا ہے کہ استاد کے تشدد کے بعد ایک لڑکی مر چکی ہے جبکہ ان پر بھی تشدد کیا جاتا رہا ہے۔
بچیوں کو متعلقہ ادارے کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ان لڑکیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے جن کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں۔یہ واقع کراچی کے ایدھی سنٹر میں پیش آیا جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ یہ واقع 2017 میں پیش آیا جب 150 میں سے 7 لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی، اس کی وجہ لڑکیوں کی آپس میں لڑائی تھی۔

مزید بات کرتے ہوئے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ مرنے والی لڑکی کسی کی وجہ سے نہیں مری، وہ ذہنی مریض تھی جس کا علاج کیا جا رہا تھا۔پولیس کے ساتھ صرف وہی لڑکیاں گئی ہیں جو کہ یہاں رہنا نہیں چاہتی تھیں۔فیصل ایدھی کی جانب سے تشدد کے الزامات کو رد کیا گیا ہے۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ شیلٹر ہوم پر چھاپہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا، اس میں ایسی کوئی سچائی نہیں۔یاد رہے کہ یہ واقع کراچی کے شیلٹر ہوم ایدھی سنٹر میں پیش آیا جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے سماجی کارکن ایدھی صاحب کے نام سے نہ صرف منسوب ہے بلکہ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسی میں گزار دی۔اب ان کے بیٹے اس کو چلا رہے ہیں اور ان کی جانب اس لگنے والے الزامات کو رد کر دیا گیا ہے اور چھاپے کو غلط فہمی کا شکار کہا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں