119

شوگر شاہی ….

تاریخ میں سکھا شاہی کی انوکھی کہانیاں پڑھی تھیں، نوکر شاہی کے اُلٹے سیدھے کام دیکھے تھے، دھکا شاہی کو بھی کئی بار اپنے سامنے ہوتے دیکھا تھا مگر شوگر شاہی کا نامۂ اعمال پہلی بار مکمل طور پر سامنے آیا ہے۔ گنے کے کاشتکاروں کو کئی کئی سال ادائیگیاں نہیں ہوتیں اور یہاں حکومتی خزانے سے کارخانہ دار اللّے تللے اڑاتے ہیں۔ شوگر شاہی کی کہانی تو سکھا شاہی، نوکر شاہی اور دھکا شاہی کی مجموعی درازدستیوںسے بھی بڑھ کر ہے، کاش کوئی عوام اور خاص کر کاشتکار کے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے سامنے آئے۔ کارخانہ دار ہوں، آڑھتی ہوں یا سرکاری عمال‘ سب اسی سادہ اور غریب کاشتکار کو لوٹتے ہیں جو زمین کے پیٹ سے ملک بھر کے لوگوں کے لئے اناج اگاتا ہے، جو کھلے آسمان کے نیچے سادہ زندگی بسر کرتا ہے اور اس کا اناج کھانے، بیچنے اور اس سے قسم قسم کی مصنوعات بنانے والے شہروں میں ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے اس کے استحصال کے منصوبے بناتے ہیں۔

شوگر شاہی سے متعلقہ اسکینڈل بہت کچھ بےنقاب کر گیا مگر ابھی تو آغاز ہے، آگے بھی بہت کچھ ہوگا۔ حروفِ تہجی کے لفظ ’س‘ سے شروع ہونے والے دو الفاظ سیاست اور سکینڈل کا ساتھ چولی دامن کا ہے۔ سکینڈل طشت ازبام ہوتا ہے تو سیاست پر اس کے تا دیر اثرات رہتے ہیں۔ ’’دی پرنس‘‘ کے مصنف میکاولی نے کہا تھا کہ حکمران کسی کے باپ کو قتل کرا دے تو اس کے بیٹے اسے معاف کر سکتے ہیں لیکن اگر حکمران کسی کی زمین چھین لے یا کاروبار کو نقصان پہنچا دے تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرتے۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں اس سنہری قول کو کار فرما ہوتے دیکھا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے رائس ملوں اور چھوٹے بزنس مینوں کی ملکیت کو قومیانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس کے سیاسی اثرات آج تک محسوس ہوتے ہیں۔ پنجاب کے بازار اور کاروبار سے پیپلز پارٹی کو اس کے بعد سے کبھی ووٹ نہیں مل سکا۔ سبزی منڈیاں، پھل منڈیاں، آڑھتیں اور ملیں تب سے اب تک اینٹی پیپلز پارٹی رہی ہیں۔ ماضی سے حال میں آئیں تو عمران خان کے دلیرانہ فیصلے پر جہاں ہر طرف داد کے ڈونگرے برسیں گے وہاں اس کے دوررس سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

شوگر اسکینڈل انکوائری رپورٹ آنے کے بعد تحریک انصاف کے اندر اور اس کے اتحادیوں کے درمیان پہلے بڑے شگاف کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ جہانگیر ترین، چوہدری مخدوم اور دریشک جلد یا بدیر خانِ اعظم سے راستے جدا کر لیں گے۔ وقتی طور پر وہ اپنے ردِعمل کا اظہار نہیں کریں گے بظاہر دانت نکال کر، کھسیانی مسکراہٹ دکھا کر معاملے کو ٹالنے کی کوشش کریں گے لیکن اندرونِ خانہ وہ دانت پیستے ہوئے نئی حکمتِ عملی بنانا شروع کر چکے ہوں گے۔ میکاولی کے قول کی روشنی میں شوگر شاہی کا اب عمران خان سے گزارا مشکل ہے۔ دونوں کے درمیان سرد جنگ کبھی نہ کبھی کھلی جنگ بن جائے گی۔ جہانگیر ترین کے پاس اب جوابی وار کے سوا کون سا رستہ بچا ہے؟ مونس الٰہی اور چوہدری اس رپورٹ کے بعد کیسے اتحادی رہیں گے؟ مخدوم خسرو بختیار کیا اپنے بھائی عمر شہریار پر الزامات کو کبھی بھی ہضم کر پائیں گے؟ ہمایوں اختر، دریشک خاندان اور شوگر شاہی کے دوسرے بڑے بڑے نام اگر موجودہ حکومت سے سرعام رعایات لے سکتے ہیں تو کیا خفیہ طور پر اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے؟ ان کے رابطے، واسطے اور دھاگے مضبوط ہیں، وہ کمزور اور بحرانی دور کا فائدہ اٹھا کر اس وقت وار کریں گے۔

میرا تعلق اوسط درجے کے ایک کاشتکار گھرانے سے ہے، اس لئے بچپن ہی سے گنا اور شوگر ملز سے تعارف رہا۔ میرے والد کے پرانے کاغذات میں جوہر آباد شوگر ملز میں گنا دینے کا حساب کتاب ہے جو ہمارے رشتہ دار ٹرکوں اور ٹرالیوں پر بھر کر سرگودھا کے چکوک سے لاتے تھے۔ میں گورنمنٹ ہائی اسکول بھلوال میں زیر تعلیم تھا تو کئی بار گنے کا پرمٹ لینے نون شوگر ملز بھلوال جانا پڑتا جہاں میرے چچا خالد محمود وڑائچ کین ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ اُس زمانے میں کماد یا گنا ایک نقد جنس تھی۔ گنا ملوں کو سپلائی ہوتا اور ایک ماہ کے اندر ادائیگیاں ہو جاتی تھیں جبکہ گندم، چاول اور کپاس آڑھتیوں کو بیچی جاتیں جو سال بھر ادائیگی نہ کرتے۔ نون شوگر کے مالک نور حیات نون کھلے دل کے کارخانہ دار اور سیاستدان تھے اس لئے گنا کاشتکاروں کی ادائیگیوں میں کبھی تاخیر نہ ہوتی۔ کوہِ نور شوگر ملز جوہر آباد اس وقت سہگل خاندان کی ملکیت تھی، ملازمین کے لئے بہترین سہولتیں اور کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں ان کا بھی مسلمہ اصول تھا مگر جوں جوں وقت آگے بڑھتا گیا نئے نئے مل مالکان آتے گئے۔ کاشت کاروں کی ادائیگیوں میں تاخیر اور گنے کے ریٹ میں تغیر و تبدل نے اسے استحصالی کاروبار بنا دیا۔

کاشتکار گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے میں نے امریکی اور برطانوی کاشتکاروں سے کئی بار زراعت کے منافع بخش نہ ہونے پر سوال و جواب کیے۔ دنیا بھر کے کاشتکار شکایت کناں ہیں کہ مڈل مین اور کارخانہ دار انہیں ان کا جائز حصہ نہیں دیتے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ہو یا امریکہ، کاشتکار کہیں بھی متحد نہیں جبکہ شوگر ملز مالکان امریکہ میں بھی طاقتور لابی رکھتے ہیں۔ پاکستان ہی میں دیکھ لیں کروڑوں کاشتکار ہیں مگر ابھی تک پنجاب کے ایوانِ زراعت کا ذرہ برابر رسوخ نہیں ہے۔ دوسری طرف صرف ہزاروں تاجروں اور صنعتکاروں کی نمائندگی پر مبنی چیمبر آف کامرس کی مرضی اور تجاویز کے بغیر وفاقی بجٹ تک نہیں بن پاتا۔ کپاس کے کاشت کار بڑے بارسوخ ہیں، شاہ محمود قریشی، خسرو بختیار اور سید فخر امام جیسے طاقتور وزیروں نے تجویز پیش کی کہ کپاس کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری ریٹ مقرر ہونا چاہئے۔ معاصر اخبار کی رپورٹ کے مطابق رزاق دائود نے صنعتکار لابی کی نمائندگی کرتے ہوئے کابینہ کی اقتصادی کمیٹی سے اس تجویز کو اس بنیاد پر رد کروا دیا کہ ٹیکسٹائل ملز پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہیں اگر قیمت مقرر کر دی گئی تو اس صنعت کو نقصان پہنچے گا۔ ایک بار پھر صنعتکار جیت گئے اور کاشتکار ہار گئے۔

شوگر شاہی ہو، ٹیکسٹائل شاہی ہو، رائس شاہی ہو یا پھر آڑھت شاہی یہ سبھی کسانوں کا خون چوستے ہیں مگر انہیں کوئی سہولت اور رعایت دینے پر تیار نہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ کمزور اور استحصالی طبقات کی مدد کو آئے مگر ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت یہ سب طاقتور صنعتکار لابی کو خوش رکھنے میں لگے رہتے ہیں۔ وزیراعظم کی صنعتکاروں سے ملاقاتوں کی تصاویر آئے روز دیکھنے کو ملتی ہیں کیا کبھی کسی کاشتکار تنظیم کے عہدیدار سے بھی ملے ہیں۔ نواز شریف ہوں یا عمران خان، یہ سب صرف طاقتور لابیوں اور مافیا سے ڈرتے اور انہی کی پالیسیوں پر چلتے ہیں۔ آج شوگر شاہی نگاہِ عتاب میں ہے، عمران خان نے عتاب جاری رکھا تو وہ خود خطرے میں رہیں گے صلح کر لی تو پھر ہمیشہ کی طرح شوگر شاہی قائم ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں