26

سی پیک کی نئی قیادت.

49 / 100

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے، جو سی پیک اتھارتی کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، اس عظیم منصوبے کی کامیابی کیلئے انتھک محنت کی۔ ان کی جگہ ایک اور تجربہ کار کاروباری لیڈر خالد منصور کو وزیراعظم عمران خان نے اپنا معاونِ خصوصی مقرر کرکے سی پیک اتھارٹی کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ ان کی تعیناتی اعزازی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے جو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ہیں۔ سی پیک اتھارٹی کا منصب چھوڑتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے سی پیک کے تمام منصوبوں کو ونڈو کے طور پر اٹھانے اور چلانے کا موقع دیا۔ سی پیک کی ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی درست کہا کہ سی پیک پاکستان کی معاشی لائف لائن ہے۔ ان شاء اللہ یہ پاکستان کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک میں بدل دے گا۔ سی پیک معاملات کے نئے سربراہ خالد منصور نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خیالات کی تائید کی اور کہا ہے کہ سی پیک ہماری معاشی شہ رگ ہے، میں چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ بروئے کار لاتے ہوئے کوشش کروں گا کہ ہماری معیشت تیز ہو اور روزگار بڑھے۔ چینی پاکستان کیلئے ایسا ہی سوچتے ہیں جیسا ہم سوچتے ہیں سی پیک سے وابستہ ان دونوں شخصیات نے پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ پاکستانی قوم کی حقیقی خواہشات کے ترجمان ہیں۔ خالد منصور کو چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا 30سالہ تجربہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔ امیدِ واثق ہے کہ وہ پاک چین دوستی کی ایک بڑی علامت سی پیک منصوبے کو آگے بڑھانے میں مثالی کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں