سیر ۃ النبیﷺ 77

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک
ان کا یہ حال دیکھ کر حضرت طفیل بن عمرو رضی الله عنہ پھر حضور نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے عرض کیا:
اے اللّٰہ کے رسول!قومِ دوس مجھ پر غالب آگئی،اس لئے آپ ان کےلئے دعا فرمائیے –
آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
اے الله! قوم دوس کو ہدایت عطا فرما،انہیں دین کی طرف لے آ –
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ پھر اپنے لوگوں میں گئے-انہوں نے پھر دین اسلام کی تبلیغ شروع کی….وہ مسلسل انہیں تبلیغ کرتے رہے، یہانتک کہ حضور نبی کریم ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے-آخر وہ لوگ ایمان لے آئے-حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر مدینہ آئے،اس وقت تک غزوہ بدر، غزوہ احد، اور غزوہ خندق ہوچکے تھے اور نبی کریم ﷺ خیبر کے مقام پر موجود تھے -حضرت طفیل بن عمرو دوسی کے ساتھ ستر، اسی گھرانوں کے لوگ تھے،ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے-چونکہ یہ لوگ وہاں غزوہ خیبر کے وقت پہنچے تھے، اس لئے نبی کریم ﷺ نے تمام مسلمانوں کے ساتھ ان کا بھی حصہ نکالا-اگرچہ وہ جنگ میں شریک نہيں ہوئے تھے ۔
طائف کے سفر کے بعد معراج کا واقعہ پیش آیا جو حضور نبی کریم ﷺ پر اللّٰہ تعالیٰ کا خاص انعام اور نبوت کا بہت بڑا معجزہ ہے۔یہ واقعہ اس طرح ہواکہ حضور ﷺ مکہ معظمہ میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر رات کے آرام فرمارہےتھے کہ الله تعالٰی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیجا وہ آپ کو مسجد الحرام لے گئے پھر وہاں سے براق پر سوار کرکے مسجد اقصیٰ لےگئے جہاں تمام انبیاء علیہم السلام نے آپ کی اقتداء میں نماز اداکی۔اس کے بعد آپ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور آپ الله تعالٰی سے ہم کلام ہوئے ۔اس سفر کی کچھ اہم تفصیلات یہ ہیں :
حضور نبی کریم ﷺ بیت المقدس پہنچنے سے پہلے حضرت جبرئیل کے ساتھ چلے جارہےتھے کہ راستے میں ایک سرسبز علاقے سے گزر ہو۱۔حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا:
یہاں اترکر دو رکعت نماز پڑھ لیجیے ۔
آپ نے براق سے اترکر دو رکعتیں ادا کیں ۔جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا،آپ کو معلوم ہے یہ کونسا مقام ہے ۔آپ نے فرمایا نہیں ۔تب جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
یہ آپ نے طیبہ یعنی مدینہ منورہ میں نماز پڑھی ہے اور یہی آپ کی ہجرت گاہ ہے ۔(یعنی مکہ سے ہجرت کرکے آپ یہیں آنا ہے)
اس کے بعد براق پھر روانہ ہوا۔اس کا ہر قدم جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں پڑتا تھا۔ایک اور مقام پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: آپ یہاں اترکر نماز پڑھیے۔آپ نے وہاں بھی دو رکعت اداکی۔انہوں نے بتایا: آپ نے مدین میں نماز پڑھی ہے۔
اس بستی کا نام مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین کے نام پر رکھاگیا تھا۔
انہوں نے اسی مقام پر قیام کیا تھا۔اس کے بعد وہاں آبادی ہوگئ تھی۔حضرت شعیب علیہ السلام اسی بستی میں مبعوث ہوئے تھے۔
اس کے بعد پھر آپ اسی براق پر سوار ہوئے۔ایک مقام پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا،اب یہاں اتر کر نماز پڑھیے؛ آپ یہاں اترکر نماز پڑھیے؛ آپ دو رکعت نماز ادا کی۔جبرئیل علیہ السلام نے بتایا، یہ بیت اللحم ہے ۔
بیت اللحم بیت المقدس کے پاس ایک بستی ہے جہاں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی۔
اسی سفر میں آپ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کا حال دیکھا۔یعنی آپ کو آخرت کی مثالی شکل کے ذریعے مجاہدین کے حالات دکھائے گئے۔حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا :
یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں اللہ نے ان کی ہر نیکی کا ثواب سات سو گنا کردئے ہیں ۔
اسی طرح آنحضرت ﷺ کے سامنے دنیا لائی گئی،دنیا ایک حسین و جمیل عورت کی صورت میں دکھائی گئی۔اس عورت نے آپ سے کہا :
اے محمد! میری طرف دیکھیے میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ؛
آپ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا :
یہ کون ہے؟
انہوں نے بتایا :
یہ دنیا ہے اگر آپ اس طرف توجہ دیتے تو آپ کی امت آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اختیار کرلیتی۔
اس کے بعد آپ نے راستے میں ایک بڑھیا کو دیکھا آپ نے پوچھا :
یہ کون ہے؟
جبرئیل علیہ السلام نے بتایا :
یہ دنیا ہی ہے،دنیا کی عمر کا اتنا حصہ ہی باقی رہ گیا ہے جتنا کہ اس بڑھیا کا ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد امانت میں خیانت کرنے والے فرض نماز کو چھوڑنے والے،زکوۃ ادا نہ کرنے والے، بدکاری کرنے والے، رہزنی کرنے والے،( ڈاکہ ڈالنے والے )دکھائے گئے ۔ان کے بھیانک انجام آپ کو دکھائے گئے۔
امانت میں خیانت کرنے والے اپنے بوجھ میں اضافہ کیے جارہے تھے اور بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔فرض نمازوں کو چھوڑنے والوں کے سر کو کچلا جارہا تھا۔ان کے سر ریزہ ریزہ ہو رہے تھے اور پھر اصل حالت میں آجاتے تھے کچلنے کا عمل پھر شروع ہوجاتا تھا غرض انہیں ذرہ بھر مہلت نہیں دی جارہی تھی۔
اپنے مال میں زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کا انجام آپ نے دیکھا کہ ان کے ستر پر آگے اور پیچھے پھٹے ہوئے چیتھڑے لٹکے ہوئے تھے وہ اونٹوں اور بکریوں کی طرح چررہے تھے ….. اور زقوم درخت کے کڑوے پتے اور کانٹے کھا رہے تھے، زقوم درخت کے بارے میں آتا ہے کہ اس قدر کڑوا اور زہریلا ہے کہ اس کی کڑواہٹ کا مقابلہ دنیا کا کوئی درخت نہیں کرسکتا اس کا ایک ذرہ دنیا کے میٹھے دریاؤں میں ڈال دیا جائے تو تمام دریا کڑوے ہو جائیں ۔نبی اکرم ﷺ کا دنیا میں مذاق اڑانے والوں کو بھی یہ درخت کھلایا جائے گا۔اس درخت کے پتوں اور کانٹوں کے علاوہ وہ لوگ جہنم کے پتھر چباتے نظر آئے۔
بدکاروں کا انجام آپ نے دیکھا کہ ان کے سامنے دسترخوان لگے ہوئے تھےان دسترخوانوں میں سے کچھ نہایت بہترین بھنا ہوا گوشت تھا، کچھ میں بالکل سڑا ہوا گوشت تھا ۔وہ اس بہترین گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا بدبودار گوشت کھا رہے تھے اور بہترین گوشت نہیں کھا رہے تھے۔
ان کے بارے میں جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتلایا
“یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس پاک اور حلال عورتیں تھیں لیکن وہ ان کو چھوڑ کر بدکار عورتوں کے پاس جاتے تھے، یا یہ وہ عورتیں تھیں جن کے خاوند تھے،لیکن وہ ان کو چھوڑ کر بدکار مردوں کے پاس جاتی تھیں ۔”
سود کھانے والوں کا انجام آپ کو یہ دکھایا گیا کہ وہ خون کے دریا میں تیر رہے تھے اور پتھر نگل رہے تھے۔
آپ کو ایسے عالموں کا انجام دکھایا گیا جو لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے اور خود بے عمل تھے،ان کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے،اور جیسے ہی کٹ جاتے تھے،فوراً پیدا ہو جاتے تھے اور پھر اسی طرح کاٹے جانے کا عمل شروع ہو جاتا تھا۔یعنی انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں مل رہی تھی۔
چغل خوروں کے ناخن تانبےکےتھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔
مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کی نماز میں امامت فرمانے کے بعد حضور اکرم ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی، جلیل القدر انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کرائی گئی۔ پھر آپ ﷺ کو جنت کا حال دکھایا گیا۔ آپ کا گزر جنت کی ایک وادی سے ہوا۔ اس سے نہایت بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی اور مشک سے زیادہ خوشبودار ٹھنڈی ہوا آرہی تھی اور ایک بہترین آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ آواز کہہ رہی تھی:
“میرے عشرت کدے میں ریشم،موتی،سونا،چاندی،مونگے،شہد، دودھ اور شراب کے جام و کٹورے بہت زیادہ ہوگئے ہیں ۔”
اس پر اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں ؛
“ہر وہ مؤمن مرد اور عورت تجھ میں داخل ہوگا جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھتا ہو،میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراتا ہوگا،،،، نہ مجھ سے بڑھ کر یا میرے برابر کسی کو مانتا ہوگا۔ سن لے،، جس کے دل میں میرا ڈر ہے، اس کا دل میرے خوف کی وجہ سے محفوظ رہتا ہے، جو مجھ سے مانگتا ہے میں اسے محروم نہیں رکھوں گا، جو مجھے قرض دیتا ہے یعنی نیک عمل کرتاہے اور میری راہ میں خرچ کرتا ہے میں اسے بدلہ دوں گا، جو مجھ پر توکل اور بھروسہ کرتا ہے اس کی جمع پونجی کو اس کی ضرورت کے لئے پورا کرتا رہوں گا، میں ہی سچا معبود ہوں ، میرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ، میرا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا، مؤمن کی نجات یقینی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی برکت دینے والا ہے اور سب سے بہترین خالق یعنی پیدا کرنے والا ہے۔”
یہ سن کر میں نے کہا:
“بس اے میرے پروردگار میں خوش اور مطمئن ہوں ۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں