Seerat-ul-Nabi 20

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مذاق اڑانے والے

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مذاق اڑانے والے
جواب میں حضرت خباب بن ارت ؓ نے فرمایا:
اللہ کی قسم میں محمد ﷺ کا دین نہیں چھوڑ سکتا‘‘
اسی طرح ان مذاق اڑانے والوں میں سے ایک اسود بن یغوث بھی تھا۔ یہ حضور ﷺ کا ماموں زاد تھا۔ جب بھی مسلمانوں کو دیکھتا تو اپنے ساتھیوں سے کہتا:
’’دیکھو!تمہارے سامنے روئے زمین کے وہ بادشاہ آرہے ہیں جو کسری اور قیصر کے وارث بننے والے ہیں ۔‘‘
یہ بات وہ اس لئے کہتا تھا کیونکہ صحابہ ؓ میں سے اکثر کے لباس پھٹے پرانے ہوتے تھے ،وہ مفلس اور نادار تھے اور آپ ﷺ یہ پیش گوئی فرما چکے تھے کہ مجھے ایران اور روم کی سلطنتوں کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔
اسود آپ ﷺ سے یہ بھی کہا کرتا تھا:
’’محمد! آج تم نے آسمانوں کی باتیں نہیں سنائیں ،آج آسمان کی کیا خبریں ہیں ۔‘‘
یہ اور اس کے ساتھی جب آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو دیکھتے تو سیٹیاں بجاتے تھے،آنکھیں مٹکاتے تھے۔
اسی قسم کا ایک آدمی نضر بن حارث تھا۔ یہ بھی آپ ﷺ کا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا۔
ان میں سے اکثر لوگ ہجرت سے پہلے ہی مختلف آفتوں اور بلاؤں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوئے۔
ان مذاق اڑانے والوں میں سے ایک حضرت خالد بن ولیدؓ کا باپ ولید بن مغیرہ بھی تھا۔ یہ ابو جہل کا چچا تھا۔قریش کے دولت مند لوگوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔حج کے زمانے میں تمام حاجیوں کو کھانا کھلاتا تھا، کسی کو چولہا نہیں جلانے دیتا تھا،لوگ اس کی بہت تعریف کرتے تھے، اس کے قصیدے پڑھتے تھے ، اس کے بہت سے باغات تھے۔ایک باغ تو ایسا تھا جس میں تمام سال پھل لگتا تھا ،لیکن اس نے آپ ﷺ کو اس قدر تکالیف پہنچائیں کہ آپ ﷺ نے اس کے لئے بددعا فرما دی۔ اس کے بعد اس کا تمام مال ختم ہو گیا،باغات تباہ ہو گئے، پھر حج کے دنوں میں کوئی اس کا نام لینے والا بھی نہ رہا۔
ایک روز جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے ،اس وقت آپ ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر عرض کیا:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ ﷺ کو مذاق اڑانے والوں سے نجات دلاؤں ۔‘‘
ایسے میں ولید بن مغیرا ادھر سے گزرا۔جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے پوچھا:
آپ ﷺ اسے کیسا سمجھتے ہیں ؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا
اللہ تعالی کا برا بندہ ہے‘‘۔
یہ سن کر جبرائیل علیہ السلام نے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا اور بولے:
میں نے اسے انجام تک پہنچا دیا‘‘۔
پھر عاص بن وائل سامنے سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا:
اسے آپ ﷺ کیسا آدمی پاتے ہیں ؟
آپ ﷺ نے فرمایا :
یہ بھی ایک برا بندہ ہے‘‘۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیر کی طرف اشارہ کیا اور پھر بولے:
میں نے اسے انجام تک پہنچا دیاہے۔‘‘
اس کے بعد اسود وہاں سے گزرا۔ اس کے بارے میں آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ برا آدمی ہے، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور بولے:
میں نے اسے انجام تک پہنچا دیا ہے ۔‘‘ پھر حارث بن عیطلہ گزرا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا :’’میں نے اسے انجام تک پہنچا دیا ہے۔‘‘
اس واقعے کے بعد اسود بن یغوث اپنے گھر سے نکلا تو اس کو لو کے تھپیڑوں نے جھلسا دیا۔ اس کا چہرہ جل کر بالکل سیاہ ہو گیا۔ جب یہ واپس اپنے گھر میں داخل ہوا تو گھر کے لوگ اسے پہچان نہ سکے۔ انہوں نے اسے گھر سے نکال دیااور دروازے بند کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ زبردست پیاس میں مبتلا ہو گیا، مسلسل پانی پیتا رہتا تھا،یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا۔
حارث بن عیطلہ کے ساتھ یہ ہوا کہ اس نے ایک نمکین مچھلی کھا لی، اس کے بعد اسےشدید پیاس نے آلیا۔یہ پانی پیتا رہا، یہاں تک کہ اس کا بھی پیٹ پھٹ گیا۔
ولید بن مغیرہ ایک روز ایک شخص کے پاس سے گزرا وہ شخص تیر بنا رہا تھا ۔ اتفاق سے ایک تیر اس کے کپڑوں میں الجھ گیا۔ولید نے تکبر کی وجہ سے جھک کر اس کا تیر نکالنے کی کوشش نہ کی اور آگے بڑھنے لگا تو
وہ تیر اس کی پنڈلی میں چبھ گیا۔ اس کی وجہ سے زہر پھیل گیا اور وہ مر گیا۔
عاص بن وائل کے تلوے میں ایک کانٹا چبھا۔ اس کی وجہ سے اس کے پیر پر اتنا ورم آگیا کہ وہ چکی کے پاٹ کی طرح چپٹا ہو گیا۔ اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
حضرت ابن عباس ؓکی روایت کے مطابق یہ لوگ ایک ہی رات میں ہلاک ہوئے تھے۔
نبی کریم ﷺ نے محسوس فرمایا کہ قریش مکہ مسلمانوں کو بے تحاشا تکالیف پہنچا رہے ہیں اور مسلمانوں میں ابھی اتنی طاقت نہیں کہ وہ اس بارے میں کچھ کہہ سکیں ، چنانچہ آپ ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا :
تم لوگ روئے زمین پر ادھر ادھر پھل جاؤ ،اللہ تعالی پھر تمہیں ایک جگہ جمع فرما دے گا ‘‘۔
ہم کہاں جائیں ؟ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا۔
آپ ﷺ نے ملک حبشہ کی طرف اشار ہ کر تے ہوئے فرمایا:
تم لوگ ملک حبشہ کی طرف چلے جاؤ، اس لئے کہ وہاں کا باشاہ نیک ہے وہ کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا، وہ سچائی کی سر زمیں ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالی تمہاری ان مصیبتوں کا خاتمہ کر کے تمہارے لئے آسانیاں پیدا کر دے۔‘‘
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بچانے کے لئے ادھر سے ادھر کہیں گیا، چاہے وہ ایک بالشت ہی چلا اس کے لئے جنت واجب کر دی جاتی ہے۔
چنانچہ اس حکم کے بعد بہت سے مسلمان اپنے دین کو بچانے کے لئے اپنے وطن سے ہجرت کر گئے۔ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہجرت کی اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے تنہا ہجرت کی۔ جن لوگوں نے بیوی بچوں سمیت ہجرت کی ،ان میں حضرت عثمان غنی ؓ بھی تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی یعنی آپ ﷺ کی صاحب زادی حضرت رقیہؓ بھی ہجرت کر گیئں ۔
حضرت عثمان غنی ؓ سب سے پہلے ہجرت کرنے والے شخص ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں