Seerat-ul-Nabi 0

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – لوہے کی دیوار

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – لوہے کی دیوار
ان کے بدن، کھال، بال، غرض ہر چیز بالکل صحیح سلامت تھی ۔یعنی جیسے سوتے وقت تھے، بالکل ویسے ہی تھے ۔کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی ۔وہ آپس میں کہنے لگے: ” کیوں بھئی! بھلا ہم کتنی دیر تک سوتے رہےہیں ؟
ایک نے جواب دیا:
ایک دن یا اس سے بھی کم “
یہ بات اس نے اس لیے کہی تھی کہ وہ صبح کے وقت سوئے تھے اور جب جاگے تو شام کا وقت تھا ۔اس لیے انہوں نے یہی خیال کیا کہ وہ ایک دن یا اس سے کم سوئے ہیں ۔پھر ایک نے یہ کہہ کر بات ختم کردی
اس کا درست علم تو اللہ کو ہے “
اب انہیں شدید بھوک پیاس کا احساس ہوا ۔انہوں نے سوچا، بازار سے کھانا منگوانا چاہیے ۔پیسے ان کے پاس تھے ۔ان میں سے کچھ وہ الله کے راستے میں خرچ کرچکے تھے، کچھ ان کے پاس باقی تھے ۔ایک نے کہا:
ہم میں سے کوئی پیسے لے کر بازار چلاجائے اور کھانے کی کوئی پاکیزہ اور عمدہ چیز لے آئے اور جاتے ہوئے اور آتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں لوگوں کی نظر اس پر نہ پڑ جائے ۔سودا خریدتے وقت بھی ہوشیاری سے کام لے ۔کسی کی نظروں میں نہ آئے ۔اگر انہیں ہمارے بارے میں معلوم ہوگیا تو ہماری خیر نہيں ۔دقیانوس کے آدمی ابھی تک ہمیں تلاش کرتے پھررہے ہوں گے ۔
چنانچہ ان میں سے ایک غار سے باہر نکلا، اسے سارا نقشہ ہی بدلا نظر آیا۔اب اسے کیا معلوم تھا کہ وہ تین سو نو سال تک سوتے رہےہیں ۔اس نے دیکھا کوئی چیز اپنے پہلے حال پر نہيں تھی ۔شہر میں کوئی بھی اسے جانا پہچانا نظر نہ آیا ۔یہ حیران تھا، پریشان تھا اور ڈرے ڈرے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا ۔اس کا دماغ چکرارہا تھا، سوچ رہاتھا، کل شام تو ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئےہیں پھر یہ اچانک کیا ہوگیاہے ۔جب زیادہ پریشان ہوا تو اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا، مجھے جلد از جلد سودا لےکر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ جانا چاہیے ۔آخر وہ ایک دکان پر پہنچا، دکان دار کو پیسے دیے اور کھانے پینے کا سامان طلب کیا ۔دکان دار اس سکے کو دیکھ کر حیرت زده رہ گیا ۔اس نے وہ سکہ ساتھ والے دکان دار کو دکھایا اور بولا:
بھائی ذرا دیکھنا! یہ سکہ کس زمانے کا ہے؟
اس نے دوسرے کو دیا ۔اس طرح سکہ کئی ہاتھوں میں گھوم گیا ۔کئی آدمی وہاں جمع ہوگئے ۔آخر انہوں نے اس سے پوچھا:
تم یہ سکہ کہاں سے لائے ہو؟ تم کس ملک کے رہنے والے ہو؟
جواب میں اس نے کہا:
میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں ، کل شام ہی کو تو یہاں سے گیا ہوں ، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے ۔وہ سب اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور بولے:
یہ تو کوئی پاگل ہے، اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے چلو ۔
آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔وہاں اس سے سوالات ہوئے ۔اس نے تمام حال کہہ سنایا ۔
بادشاہ اور سب لوگ اس کی کہانی سن کر حیرت زدہ رہ گئے ۔آخر انہوں نے کہا: اچھا ٹھیک ہے ۔تم ہمیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے چلو….وہ غار ہمیں بھی دکھاؤ ۔
چنانچہ سب لوگ اس کے ساتھ غار کی طرف روانہ ہوئے ۔ان نوجوانوں سے ملے اور انہیں بتایا کہ دقیانوس کی بادشاہت ختم ہوئے تین صدیاں بیت چکی ہیں اور اب یہاں الله کے نیک بندوں کی حکومت ہے ۔بہرحال ان نوجوانوں نے اپنی بقیہ زندگی اسی غار میں گزاری اور وہیں وفات پائی ۔بعد میں لوگوں نے ان کے اعزاز کے طورپر پہاڑ کی بلندی پر ایک مسجد تعمیر کی تھی ۔ایک روایت یہ بھي ہےکہ جب شہر جانے والا پہلا نوجوان لوگوں کو لےکر غار کے قریب پہنچا تو اس نے کہا:
تم لوگ یہیں ٹھہرو، میں جاکر انہيں خبر کردوں ۔
اب یہ ان سے الگ ہوکر غار میں داخل ہوگیا ۔ساتھ ہی الله تعالٰی نے ان پر پھر نیند طاری کردی…بادشاہ اور اس کے ساتھی اسے تلاش کرتے رہ گئے…نہ وہ ملا اور نہ ہی وہ غار انہیں نظر آیا، الله تعالٰی نے ان کی نظروں سے غار کو اور ان سب کو چھپادیا ۔
ان کے بارے میں لوگ خیال ظاہر کرتے رہے کہ وہ سات تھے، آٹھواں ان کا کتا تھا، یا وہ نو تھے، دسواں ان کا کتا تھا ۔بہرحال ان کی گنتی کا صحیح علم الله ہی کو ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے ارشاد فرمایا:
انکے بارے میں زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ان کے بارے کسی سے دریافت کریں (کیونکہ ان کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے باتیں کرتے ہیں ۔کوئی صحیح دلیل ان کے پاس نہیں ) مشرکین کا دوسرا سوال تھا، ذوالقرنین کون تھا۔ذوالقرنین کے بارے تفصیلات یوں ملتی ہیں ” ذوالقرنین ایک نیک، خدا رسیدہ اور زبردست بادشاہ تھا۔ انہوں نے تین بڑی مہمات سر کیں ، پہلی مہم میں وہ اس مقام تک پہنچے، جہاں سورج غروب ہوتا ہے، یہاں انہیں ایک ایسی قوم ملی جس کے بارے میں اللہ نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اس قوم کو سزا دیں ، چاہیں تو ان کے ساتھ نیک سلوک کریں ۔
ذولقرنین نے کہا کہ
” جو شخص ظالم ہے، ہم اسے سزا دیں گے اور مرنے کے بعد الله تعالیٰ بھی اسے سزا دیں گے، البتہ مومن بندوں کونیک بدلہ ملے گا۔”
دوسری مہم میں وہ اس مقام تک پہنچے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، وہاں انہیں ایسے لوگ ملے، جن کے مکانات کی کوئی چھت وغیرہ نہیں تھی۔ تیسری مہم میں وہ دو گھاٹیوں کے درمیان پہنچے، یہاں کے لوگ ان کی بات نہیں سمجھتے تھے۔انہوں نے اشاروں میں یا ترجمان کے ذریعے یاجوج ماجوج کی تباہ کاریوں کا شکوہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے اور یاجوج ماجوج کے درمیان بند بنادیں ۔ذوالقرنین نے لوہے کی چادریں منگوائیں ۔ پھر ان سے ایک دیوار بنادی۔ اس میں تانبا پگھلا کر ڈالا گیا۔ اس کام کے ہونے پر ذوالقرنین نے کہا:
” یہ الله کا فضل ہے کہ مجھ سے اتنا بڑا کام ہوگیا ۔”
قیامت کے قریب یاجوج ماجوج اس دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ذوالقرنین کے بارے میں مختلف وضاحتیں کتابوں میں ملتی ہیں ۔ قرنین کے معنی دو سمتوں کے ہیں ۔ ذوالقرنین دنیا کے دو کناروں تک پہنچے تھے اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا گیا۔
بعض نے قرن کے معنی سینگ کے لیے ہیں ، یعنی دو سینگوں والے۔ ان کا نام سکندر تھا۔لیکن یہ یونان کے سکندر نہیں ہیں جسے سکندراعظم کہا جاتا ہے۔ یونانی سکندر کافر تھا جبکہ یہ مسلم اور ولی الله تھے۔ یہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ خضر علیہ السلام ان کی فوج کا جھنڈا اٹھانے والے تھے۔
تیسرے سوال یعنی روح کے بارے میں الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا:
” یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہے، آپ فرمادیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے قائم ہے، یعنی روح کی حقیقت اسی کے علم میں ہے، اس کے سوا اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔
روح کے بارے میں یہودیوں کی کتابوں میں بھی بالکل یہی بات درج تھی کہ روح الله کے حکم سے قائم ہے۔ اس کا علم الله ہی کے پاس ہے اور اس نے اپنے سوا کسی کو نہیں دیا۔ یہودیوں نے مشرکوں سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے روح کے متعلق کچھ بتایا تو سمجھ لینا، وہ نبی نہیں ہیں ۔ اگر صرف یہ کہا کہ روح الله کے حکم سے قائم ہے تو سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں ۔ آپ نے بالکل یہی جواب ارشاد فرمایا۔
لگے ہاتھوں یہاں ایک واقعہ بھی سن لیں ، جب مسلمانوں نے ہندوستان فتح کیا تو ہندو مذہب کا ایک عالم مسلمان عالموں سے مناظرہ کرنے کے لیے آیا۔ اس نے مطالبہ کیا۔
میرے مقابلے میں کسی عالم کو بھیجو، اس پر لوگوں نے امام رکن الدین کی طرف اشارہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں