Seerat-ul-Nabi 0

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – قتل کی کوشش

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – قتل کی کوشش
قریش تو یہ کہہ کر چلے گئے، ابوطالب پریشان ہوگئے – وہ اپنی قوم کے غصے سے اچھی طرح واقف تھے – دوسری طرف وہ اس بات کو پسند نہیں کرسکتے تھے کہ کوئی بھی شخص حضور نبی کریم ﷺ کو رسوا کرنے کی کوشش کرے، اس لیے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے کہا:
“بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھ سے یہ، یہ کہا ہے، اس لیے اپنے اوپر اور مجھ پر رحم کرو اور مجھ پر ایسا بوجھ نہ ڈالو جس کو میں اٹھا نہ سکوں -“
ابوطالب کی اس گفتگو سے نبی اکرم ﷺ نے خیال کیا کہ اب چچا ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں ، وہ بھی اب آپ کی مدد نہیں کرنا چاہتے، آپ کی حفاظت سے ہاتھ اٹھارہے ہیں ، اس لیے آپ نے فرمایا:
“چچا جان! اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں اور یہ کہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ، تو بھی میں ہرگز اسے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ خود اللہ تعالٰی اس کو ظاہر فرمادیں -“
یہ کہتے ہوئے آپ کی آواز بھرا گئی – آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے – پھر آپ اٹھ کر جانے لگے، لیکن اسی وقت ابوطالب نے آپ کو پکارا:
“بھتیجے! ادھر آؤ -“
آپ ان کی طرف مڑے تو انہوں نے کہا:
“جاؤ بھتیجے! جو دل چاہے کہو، اللہ کی قسم میں تمہیں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گا -“
جب قریش کو اندازہ ہوگیا کہ ابوطالب آپ کا ساتھ چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں تو وہ عمارہ بن ولید کو ساتھ لےکر ابوطالب کے پاس آئے اور بولے:
“ابوطالب! یہ عمارہ بن ولید ہے – قریش کا سب سے زیادہ بہادر، طاقت ور اور سب سے زیادہ حسین نوجوان ہے – تم اسے لےکر اپنا بیٹا بنالو اور اس کے بدلے میں اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالے کردو، اس لیے کہ وہ تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے دین کے خلاف جارہا ہے، اس نے تمہاری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ان کی عقلیں خراب کردی ہیں – تم اسے ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اسے قتل کردیں … انسان کے بدلے میں ہم تمہیں انسان دے رہے ہیں -“
قریش کی یہ بےہودہ تجویز سن کر ابوطالب نے کہا:
“اللہ کی قسم! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا – کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کوئی اونٹنی اپنے بچے کو چھوڑ کر کسی دوسرے بچے کی آرزومند ہوسکتی ہے -“
ان کا جواب سن کر مطعم بن عدی نے کہا:
“ابوطالب! تمہاری قوم نے تمہارے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا ہے اور جو بات تمہیں ناپسند ہے اس سے چھٹکارے کے لیے کوشش کی ہے – اب میں نہیں سمجھتا کہ اس کے بعد تم ان کی کوئی اور پیش کش قبول کرو گے -“
جواب میں ابوطالب بولے:
“اللہ کے قسم! انہوں نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا – بلکہ تم سب نے مل کر مجھے رسوا کرنے اور میرے خلاف گٹھ جوڑ کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے، اس لیے اب جو تمھارے دل میں آئے کرلو -“
بعد میں یہ شخص یعنی عمارہ بن ولید حبشہ میں کفر کی حالت میں مرا۔ اس پر جادو کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ وحشت زدہ ہوکر جنگلوں اور گھاٹیوں میں مارا مارا پھرا کرتا تھا۔ اسی طرح دوسرا شخص مطعم بن عدی بھی کفر کی حالت میں مرا۔
غرض جب ابو طالب نے قریش کی یہ پیش کش بھی ٹھکرادی تو معاملہ حد درجے سنگین ہوگیا۔ دوسری طرف ابو طالب نے قریش کے خطرناک ارادوں کو بھانپ لیا، انہوں نے بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کو بلایا، ان سے درخواست کی کہ سب مل کر آپ کی حفاظت کریں ، آپ کا بچاؤ کریں ۔ ان کی بات سن کر سوائے ابو لہب کے سب تیار ہوگئے۔ ابو لہب نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ یہ بدبخت سختی کرنے اور آپ کے خلاف آواز اٹھانے سے باز نہ آیا۔ اسی طرح جو لوگ آپ پر ایمان لےآئے تھے ان کی مخالفت میں بھی ابو لہب ہی سب سے پیش پیش تھا۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تکالیف پہنچانے میں بھی یہ قریش سے بڑھ چڑھ کر تھا۔
آپ کو تکالیف پہنچانے کے سلسلے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ فرماتے ہیں ، ایک روز میں مسجد حرام میں تھا کہ ابو جہل وہاں آیا اور بولا:
“میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، اگر میں محمد کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھ لوں ، تو میں ان کی گردن ماردوں ۔”
حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، یہ سن کر میں فوراً نبی کریم ﷺ کی طرف گیا اور آپ کو بتایا کہ ابو جہل کیا کہہ رہا ہے۔
نبی اکرم ﷺ یہ سن کر غصے کی حالت میں باہر نکلے اور تیز تیز چلتے مسجد الحرام میں داخل ہوگئے، یہاں تک کہ گزرتے وقت آپ کو دیوار کی رگڑ لگ گئی۔ اس وقت آپ سورة العلق کی آیت 1،2 پڑھ رہے تھے:
“ترجمہ: اے پیغمبر! آپ اپنے رب کا نام لے کر (قرآن) پڑھا کیجئے! وہ جس نے مخلوقات کو پیدا کیا۔ جس نے انہیں خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔”
تلاوت کرتے ہوئے آپ اس سورت کی آیت 6 تک پہنچ گئے:
“ترجمہ: سچ مچ بے شک کافر آدمی حد سے نکل جاتا ہے۔”
یہاں تک کہ آپ نے سورة کا آخری حصہ پڑھا جہاں سجدے کی آیت ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ سجدے میں گرگئے۔ اسی وقت کسی نے ابو جہل سے کہا:
“ابو الحکم! یہ محمد سجدے میں پڑے ہیں ۔”
یہ سنتے ہی ابو جہل فوراً آپ کی طرف بڑھا، آپ کے نزدیک پہنچا، لیکن پھر اچانک وآپس آگیا۔ لوگوں نے حیران ہوکر پوچھا:
“ابو الحکم! کیا ہوا؟”
جواب میں اس نے اور زیادہ حیران ہوکر کہا:
“جو میں دیکھ رہا ہوں ، کیا تمہیں وہ نظر نہیں آرہا؟”
اس کی بات سن کر لوگ اور زیادہ حیران ہوئے اور بولے:
“تمہیں کیا نظر آرہا ہے ابو الحکم؟”
اس پر ابو جہل نے کہا:
“مجھے اپنے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق نظر آرہی ہے۔”
اسی طرح ایک دن ابو جہل نے کہا:
“اے گروہ قریش! جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، محمد تمہارے دین میں عیب ڈال رہا ہے، تمہارے معبودوں کو برا کہہ رہا ہے، تمہاری عقلوں کو خراب بتا رہا ہے اور تمہارے باپ داداؤں کو گالیاں دے رہا ہے، اس لئے میں خدا کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ کل میں محمد کے لئے اتنا بڑا پتھر لے کر بیٹھوں گا جس کا بوجھ وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، جونہی وہ سجدے میں جائیں گے، میں وہ پتھر ان کے سر پر دے ماروں گا، اس کے بعد تم لوگوں کو اختیار ہے، چاہو تو اس معاملے میں میری مدد کرنا اور مجھے پناہ دینا، چاہو تو مجھے دشمنوں کے حوالے کر دینا، پھر بنی عبد مناف میرا جو بھی حشر کریں ۔”
یہ سن کر قریش نے کہا:
“اللہ کی قسم! ہم تمہیں کسی قیمت پر دغا نہیں دیں گے، اس لئے جو تم کرنا چاہتے ہو، اطمینان سے کرو۔”
دوسرے دن ابو جہل اپنے پروگرام کے مطابق ایک بہت بھاری پتھر اٹھا لایا اور لگا نبی اکرم ﷺ کا انتظار کرنے۔ ادھر نبی اکرم ﷺ بھی عادت کے مطابق صبح کی نماز کے بعد وہاں تشریف لے آئے۔ اس وقت آپ کا قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا۔ آپ نماز کے لئے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان کھڑے ہوا کرتے تھے، کعبے کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان کر لیا کرتے تھے۔ آپ نے آتے ہی نماز کی نیت باندھ لی۔ ادھر قریش کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے انتظار کررہے تھے کہ دیکھیں آج کیا ہوتا ہے؟ ابو جہل اپنے پروگرام میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ؟
پھر جونہی آپ سجدے میں گئے، ابو جہل نے پتھر اٹھایا اور آپ کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی وہ آپ کے نزدیک ہوا، ایک دم اس پر لرزہ طاری ہوگیا۔ چہرے کا رنگ اڑگیا۔ گھبراہٹ کے عالم میں وہاں سے پیچھے ہٹ آیا۔ ادھر پتھر پر اس کے ہاتھ اس طرح جم گئے کہ اس نے چاہا، ہاتھ اس پر سے ہٹالے، لیکن ہٹا نہ سکا۔ قریش کے لوگ فوراً اس کے گرد جمع ہوگئے اور بولے:
“ابو الحکم! کیا ہوا؟ “
اس نے جواب دیا:
“میں نے رات کو تم سے جو کہا تھا، اس کو پورا کرنے کے لئے میں محمد کی طرف بڑھا مگر جیسے ہی ان کے قریب پہنچا، ایک جوان اونٹ میرے راستے میں آگیا۔ میں نے اس جیسا زبردست اونٹ آج تک نہیں دیکھا۔ وہ ایک دم میری طرف بڑھا جیسے مجھے کھالے گا۔”
جب اس واقعے کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
“وہ جبرئیل علیہ السلام تھے اگر وہ میرے نزدیک آتا تو وہ ضرور اسے پکڑ لیتے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں