سیر ۃ النبیﷺ 22

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – غم کا سال

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – غم کا سال
جب نجران کے یہ لوگ آپ ﷺ سے باتیں کرچکے تو آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ قرآن کریم کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں ۔ آیات سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کے دلوں نے اس کلام کی سچائی کی گواہی دے دی۔چنانچہ فوراً ہی آپ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی صفات اور خبریں پڑھ رکھی تھیں ۔ اس لیے آپ کو دیکھ کر پہچان گئے کہ آپ ہی نبی آخرالزماں ہیں ۔
اس کے بعد یہ لوگ اٹھ کر جانے لگے تو ابوجہل اور چند دوسرے قریشی سرداروں نے انہیں روکا اور کہا:
” خدا تمہیں رسوا کرے، تمہیں بھیجا تو اس لیے گیا تھا کہ تم یہاں اس شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرکے انہیں بتاؤ مگر تم اس کے پاس بیٹھ کر اپنا دین ہی چھوڑ بیٹھے… تم سے زیادہ احمق اور بے عقل قافلہ ہم نے آج تک نہیں دیکھا۔”
اس پر نجران کے لوگوں نے کہا:
” تم لوگوں کو ہمارا سلام ہے… ہم سے تمہیں کیا واسطہ، تم اپنے کام سے کام رکھو،ہمیں اپنی مرضی سے کام کرنے دو۔”
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدۃ میں ان کی تعریف بیان فرمائی۔ اسی طرح قبیلہ اَزد کے ایک شخص جن کا نام ضماد تھا مکہ آئے۔ یہ صاحب جھاڑ پھونک سے جنات کا اثر زائل کیا کرتے تھے۔ مکہ کے لوگوں کو انہوں نے یہ کہتے سنا کہ محمد پر جن کا اثر ہے۔ یہ سن کر انہوں نے کہا:
” اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا عطا فرمادے۔”
اس کے بعد وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ان کا بیان ہے،میں نے آپ سے کہا:
” اے محمد! میں جھاڑ پھونک سے علاج کرتا ہوں ، لوگ کہتے ہے کہ آپ پر جنات کا اثر ہے۔اگر بات یہی ہے تو میں آپ کا علاج کرسکتا ہوں ۔”
ان کی بات سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:
” تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتاہے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ تعالٰی گمراہی نصیب کرتا ہے،اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔”
انہوں نے آپ کی بات سن کر کہا:
” یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ پڑھیے۔”
آپ نے کلمہ شہادت تین مرتبہ دہرایا۔تب انہوں نے کہا:
” میں نے کاہنوں کے کلمات سنے ہیں ۔جادوگروں اور شاعروں کے کلمات بھی سنے ہیں ۔مگر آپ کے ان کلمات جیسے کلمات کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ لایئے،میں اسلام قبول کرتا ہوں ۔”
چنانچہ ضماد رضی اللہ عنہ نے اسی وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپ نے فرمایا:
” اپنی قوم کے لیے بھی بیعت کرتے ہو۔”
جواب میں انہوں نے کہا:
“ہاں ! میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں ۔”
اس طرح یہ صاحب جو آپ پر سے جنات کا اثر اتارنے کی نیت سے آئے تھے، خود مسلمان ہوگئے۔ ایسے اور بھی بہت سے واقعات پیش آئے۔
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کو دس سال کا عرصہ گذر چکا تو آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا انتقال کرگئیں ۔اس سے چند دن پہلے ابوطالب فوت ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو حجون کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ ﷺ خود ان کی قبر میں اترے،انتقال کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 65 سال تھی۔ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں ہوا تھا۔ اس سال کو سیرت نگاروں نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا۔ کیونکہ ہر موقعے پر ساتھ دینے والی دو ہستیاں اس دنيا سے رخصت ہوگئ تھیں ۔ آپ ہر وقت غمگین رہنے لگے،گھر سے بھی کم نکلتے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا شادی کے بعد پچیس سال تک آپ کے ساتھ رہیں ۔اتنی طویل مدت تک آپ کا اور ان کا ساتھ رہا تھا۔
ابوطالب جب بیمار ہوئے تھے تو آپ صلی الله علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے آئے۔
اس وقت قریش کے سردار بھی وہاں موجود تھے۔آپ نے چچا سے فرمایا:
” چچا! لا الله الا اللہ پڑھ لیجئے تاکہ میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت کرسکوں ۔”
اس پر ابوطالب نے کہا:
” خدا کی قسم بھتجے! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد لوگ تمہیں اور تمہارے خاندان والوں کو شرم اور عار دلائیں گے اور قریش یہ کہیں گے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ کہہ دیاتو میں یہ کلمہ پڑھ کر ضرور تمہارا دل ٹھنڈا کرتا۔ میں جانتا ہوں ، تمہاری یہ کتنی خواہش ہے کہ میں یہ کلمہ پڑھ لوں … مگر میں اپنے بزرگوں کے دین پر مرتا ہوں ۔”
اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
“آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ جسے الله چاہے، ہدایت دیتا ہے اور ہدایت پانے والوں کاعلم بھی اسی کو ہے۔”(سورۃ القصص: آیات 56 )
اس طرح ابوطالب مرتے دم تک کافر ہی رہے، کفر پر ہی مرے۔ حضرت عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں ، میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ” اے الله کے رسول! ابوطالب ہمیشہ آپ کی مدد اور حمایت کرتے رہے، کیا اس سے انہیں آخرت میں فائدہ پہنچے گا۔” جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ہاں !مجھے ان کی قیامت کے دن کی حالت دکھائی گئی۔ میں نے انہیں جہنم کے اوپر والے حصے میں پایا، ورنہ وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔”( بخاری مسلم)
ابوطالب کے مرنے پر آپ صلیّ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” خدا کی قسم! میں اس وقت تک آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا، جب تک کہ مجھے اللہ تعالٰی ہی اس سے نہ روک دے۔”
اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی:
” پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں ۔اگرچہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں ،اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد یہ لوگ دوزخی ہیں ۔”( سورۃ التوبہ۔آیت ۱۱۳ )
اس سے بھی ثابت ہوا کہ ابوطالب ایمان پر نہیں مرے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رمضان کے مہینے میں ہوا تھا۔ ان کی وفات کے چند ماہ بعد آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرمائی۔آپ سے پہلے ان کی شادی ان کے چچا کے بیٹے سکران رضی الله عنہا سے ہوئی تھی۔ حضرت سکران رضی الله عنہا دوسری ہجرت کے حکم کے وقت ان کے ساتھ حبشہ ہجرت کرگئےتھے۔ پھر مکہ واپس آگئے تھے۔اس کے کچھ عرصہ ہی بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ جب حضرت سودہ رضی الله عنہا کی عدت کا زمانہ پورا ہوگیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔
اس نکاح سے پہلے حضرت سودہ رضی الله عنہانے ایک عجیب خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر سکران رضی الله عنہا سے یہ خواب بیان کیا۔ خواب سن کر سکران رضی اللہ عنہا نے کہا:
” اگر تم نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے تو میں جلد ہی مرجاؤں گا۔ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم تم سے نکاح فرمائیں گے۔”
دوسری رات انہوں نے پھر خواب دیکھا کہ وہ لیٹی ہوئی ہے، اچانک چاند آسمان سے ٹوٹ کر ان کے پاس آگیا۔ انہوں نے یہ خواب بھی اپنے شوہر کو سنایا، وہ یہ خواب سن کر بولے:
” اب شاید میں بہت جلد فوت ہوجاؤں گا۔”
اور اسی دن حضرت سکران رضی الله عنہا انتقال کرگئے۔ شوال کے مہینے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے نکاح فرمایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں