سیر ۃ النبیﷺ 78

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – طائف کا سفر

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – طائف کا سفر
ابو طالب کے انتقال کے بعد قریش کھل کر سامنے آ گئے۔ ایک روز انہوں نے آپ کو پکڑ لیا، ہر شخص آپ کو اپنی طرف کھینچنے لگا…اور کہنے لگا:
“یہ تو وہی ہے جس نے ہمارے اتنے سارے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا۔”
ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تڑپ کر یکدم آگے آگئے۔ اس بھیڑ میں گھس گئے۔ کسی کو انہوں نے مار کر ہٹایا،کسی کو دھکا دیا، وہ ان لوگوں کو آپ سے ہٹاتے جاتے اور کہتے جاتے تھے:
“کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے۔” اس پر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور انہیں اتنا مارا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگئے۔ ہوش آیا تو حضور اکرم صلی اللہ ھو علیہ وسلم کی خیریت معلوم کی، پتا چلا کہ خیریت سے ہیں تو اپنی تکلیف کو بھول گئے۔
شوال ۱۰ نبوی میں حضور اکرم ﷺ طائف تشریف لے گئے۔ اس سفر میں صرف آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ساتھ تھے۔ طائف میں ثقیف کا قبیلہ آباد تھا۔ آپ یہ اندازہ کرنے کے لئے طائف تشریف لے گئے کہ قبیلہ ثقیف کے دلوں میں بھی اسلام کے لیے کچھ گنجائش ہے یا نہیں ۔ آپ یہ امید بھی لے کر گئے تھے کہ ممکن ہے، یہ لوگ مسلمان ہو جائیں اور آپ کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں ۔
طائف پہنچ کر آپ نے سب سے پہلے اس قبیلے کے سرداروں کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ یہ تین بھائی تھے۔ ایک کا نام عبدیالیل تھا۔ دوسرے کا نام مسعود تھا۔ تیسرے کا نام حبیب تھا۔ ان تینوں کے بارے میں پوری طرح وضاحت نہیں ملتی کہ یہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے یا نہیں ۔
بہر حال! آپ نے ان تینوں سے ملاقات کی۔ اپنے آنے کا مقصد بتایا،اسلام کے بارے میں بتایا، انہیں اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ مخالفوں کے مقابلے میں ساتھ دینے کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک نے کہا:
“کیا وہ تم ہی ہو جسے خدا نے بھیجا ہے؟” ساتھ ہی دوسرے نے کہا:
” تمارے علاوہ خدا کو رسول بنانے کے لئے کوئی اور نہیں ملا تھا؟”اس کے ساتھ ہیں تیسرا بول اٹھا:
“خدا کی قسم! میں تم سے کوئی بات چیت نہیں کروں گا، کیونکہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو تمہارے ساتھ بات چیت کرنا بہت خطرناک ہے(یہ اس نے اس لیے کہا تھا کی وہ لوگ جانتے تھے، کسی نبی کے ساتھ بحث کرنا بہت خطرناک ہے) اور اگر تم نبی نہیں ہو تو تم جیسے آدمی سے بات کرنا زیب نہیں دیتا۔”
آپ ان سے مایوس ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے۔ان تینوں نے اپنے یہاں کے اوباش لوگوں کو اور اپنے غلاموں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ راستے میں بھی دونوں طرف لوگوں کا ہجوم ہوگیا۔ جب آپ ان کے درمیان سے گزرے تو وہ بد بخت ترین لوگ آپ ﷺ پر پتھر برسانے لگے۔ یہاں تک کہ آپ جو قدم اٹھاتے،وہ اس پر پتھر مارتے۔ آپ کے دونوں پاؤں لہولہان ہو گئے۔ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ جب چاروں طرف پتھر مارے گئے تو تکلیف کی شدت سے آپ بیٹھ گئے… ان بدبخت اوباشوں نے آپ کی بغلوں میں بازو ڈال کر آپ کو کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا… جونہی آپ نے چلنے کے لئے قدم اٹھائے، وہ پھر پتھر برسانے لگے۔
ساتھ میں وہ ہنس رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے۔
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا کہ وہ آپ کو پتھروں سے بچانے کے لئے خود کو ان کے سامنے کر رہے تھے، اس طرح وہ بھی لہو لہان ہو گئے، لیکن اس حالت میں بھی انہیں آپ ﷺ کی فکر تھی، اپنی کوئی پروا نہیں تھی۔ ان کے اتنے زخم آئے کہ سر پھٹ گیا۔
آخر آپ ﷺ اس بستی سے نکل کر ایک باغ میں داخل ہو گئے۔ اس طرح ان بدبخت ترین لوگوں سے چھٹکارا ملا۔ آپ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اس وقت تک زخموں سے بالکل چور ہو چکے تھےاور بدن لہو لہان تھے۔ آپ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی:
اے اللہ! میں اپنی کمزوری، لا چاری اور بے بسی کی تجھ سے فریاد کرتا ہوں ۔ یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا ساتھی ہے اور تو ہی میرا رب ہے اور میں تجھ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں … اگر مجھ پر تیرا غضب اور غصہ نہیں ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں ۔”
اُسی وقت اچانک آپ نے دیکھا کہ وہاں باغ کے مالک عتبہ اور شیبہ بھی موجود ہیں ۔وہ بھی دیکھ چکے تھے کہ طائف کے بدمعاشوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ انہیں دیکھتے ہی آپ اٹھ کھڑے ہوئے، کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ وہ دونوں اللہ کے دین کے دشمن ہیں ۔ ادھر ان دونوں کو آپ کی حالت پر رحم آگیا۔ انہوں نے فوراً اپنی نصرانی غلام کو پکارا۔ اس کا نام عداس تھا۔ عداس حاضر ہوا تو انہوں نے اسے حکم دیا:
اس بیل سے انگور کا خوشہ توڑو اور ان کے سامنے رکھ دو۔”
عداس نے حکم کی تعمیل کی۔ انگور آپ کو پیش کیے۔ آپ نے جب انگور کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو فرمایا:
“بسم اللہ!”
عداس نے آپ کے منہ سے بسم اللہ سنا تو اس نے اپنے آپ سے کہا: “اس علاقے کے لوگ تو ایسا نہیں کہتے۔”
آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: “تم کس علاقے کے رہنے والے ہو،تمہارا دین کیا ہے؟”
عداس نے بتایا کہ وہ نصرانی ہے اور نینویٰ کا رہنے والا ہے اس کے منہ سے نینویٰ کا نام سن کر آپ نے فرمایا:
” تم تو یونس (علیہ السلام) کے ہم وطن ہو جو متی کے بیٹے تھے۔”
عداس بہت حیران ہوا،بولا:
“آپ کو یونس بن متی کے بارے میں کیسے معلوم ہوا، خدا کی قسم جب میں نینویٰ سے نکلا تھا تو وہاں دس آدمی بھی ایسے نہیں تھے جو یہ جانتے ہوں کہ یونس بن متی کون تھے۔ اس لیے آپ کو یونس بن متی کے بارے میں کیسے معلوم ہو گیا؟”
اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“وہ میرے بھائی تھے،اللہ کے نبی تھے اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں ، اللہ تعالٰی ہی نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔”
آپ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ سنتے ہی عداس فوراً آپ کے نزدیک آگیا اور آپ کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا۔
باغ کے مالک عتبہ اور شیبہ دور کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے انہوں نے عداس کو آپ کے قدم چومتے دیکھا تو میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:
“تمہارے اس غلام کو تو اس شخص نے گمراہ کردیا۔”
پھر عداس ان کی طرف آیاتو ایک نے اس سے کہا:
“تیرا ناس ہو،تجھے کیا ہوگیا تھا کہ تو اس کے ہاتھ اور پیر چھونے لگا تھا۔”
اس پر عداس بولا:
“میرے آقا! اس شخص سے بہتر انسان پوری زمین پر نہیں ہوسکتا، اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو کوئی نبی بتا سکتا ہے۔”
یہ سن کر عتبہ نے فوراً کہا:
“تیرا برا ہو،اپنے دین سے ہرگز مت پھرنا۔”
ان عداس کے بارے میں آتا ہے کہ یہ مسلمان ہوگئے تھے۔ عتبہ اور شیبہ کے باغ سے نکل کر آپ قرن ثعالب کے مقام پر پہنچے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے سر اٹھایا تو ایک بدلی آپ پر سایہ کئے نظرآئی۔ اس بدلی میں آپ کو جبرئیل علیہ السلام نظر آئے،انہوں نے آپ سے کہا:
“آپ نے اپنی قوم یعنی بنی ثقیف کو جو کہا اور انہوں نے جو جواب دیا، اس کو اللہ تعالیٰ نے سُن لیا ہے اور مجھے پہاڑوں کے نگراں کے ساتھ بھیجا ہے، اس لئے بنی ثقیف کے بارے میں جو چاہیں ،اس فرشتے کو حکم دیں ۔”
اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے آنحضرت ﷺ کو پکارا اور عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! اگر آپ چاہیں تو میں ان پہاڑوں کے درمیان اس قوم کو کچل دوں یا انہیں زمین میں دھنسا کر ان کے اوپر پہاڑ گرا دوں ۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں