Seerat-ul-Nabi 121

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – ذکر چند جانثاروں کا

52 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – ذکر چند جانثاروں کا
ماں نے دنوں بھائیوں کو بہت تکالیف پہنچائیں ۔ آخر عامر رضی اللہ عنہ تنگ آکر حبشہ کو ہجرت کر گئے۔ عامر رضی اللہ عنہ کے حبشہ ہجرت کر جانے سے پہلے ایک روز حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ گھر آئے تو دیکھا ماں اور عامر رضی اللہ عنہ کے چاروں طرف بہت سے لوگ جمع ہیں ۔ میں نے پوچھا:
”لوگ کیوں جمع ہیں ؟“
لوگوں نے بتایا:
”یہ دیکھو تمہاری ماں نے تمہارے بھائی کو پکڑ رکھا ہے اور اللہ سے عہد کر رہی ہے کہ جب تک عامر بےدینی نہیں چھوڑے گا ، اس وقت تک یہ نہ تو کھجور کے سائے میں بیٹھے گی اور نہ کھانا کھائے گی اور نہ پانی پئے گی۔“
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا:
”اللہ کی قسم ماں !تم اس وقت تک کھجور کے ساۓ میں نہ بیٹھو اور اوراس وقت تک کچھ نہ کھاٶ پیو، جب تک کہ تم جہنم کا ایندھن نہ بن جاٶ۔“
غرض انہوں نے ماں کی کوئی پروا نہ کی اور دین پر ڈٹے رہے۔ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے حضرت طلحہ تیمی رضی اللہ عنہ بھی اسلام لے آئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لاۓ اور یہ آپ کے ہاتھ پرمسلمان ہوۓ۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کا کھل کر اعلان کر دیا۔ ان کا اعلان سن کر نوفل ابن عدویہ نے انہیں پکڑ لیا۔ اس شخص کو قریش کا شیر کہا جاتا تھا۔ اس نے دونوں کو ایک ہی رسی سے باندھ دیا۔ اس کی اس حرکت پر ان کے قبیلے بنوتمیم نے بھی انہیں نہ بچایا۔ اب چونکہ نوفل نے دونوں کو ایک ہی رسی سے باندھا تھا اور دونوں کے جسم آپس میں بالکل ملے ہوۓ تھے ، اس لئے انہیں قرینین کہا جانے لگا، یعنی ملے ہوۓ۔ نوفل بن عدویہ کے ظلم کی وجہ سےنبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:
”اے اللہ! ابن عدویہ کے شر سے ہمیں بچا۔“
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اسلام قبول کر لینے کا سبب اس طرح بیان کرتے ہیں :
”میں ایک مرتبہ بصریٰ کے بازار میں گیا، میں نے وہاں ایک راہب کو دیکھا، وہ اپنی خانقاہ میں کھڑا تھا اور لوگوں سے کہ رہا تھا:
”اس مرتبہ حج سے آنے والوں سے پوچھو، کیاان میں کوئی حرم کا باشندہ بھی ہے؟“
میں نے آگے بڑھ کر کہا:
”میں ہوں حرم کا رہنے والا۔“
میرا جملہ سن کر اس نے کہا:
”کیا احمد کا ظہور ہوگیا ہے؟“
میں نے پوچھا:
”احمد کون؟“
تب اس راہب نے کہا:
”احمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ۔۔۔ یہ اس کا مہینہ ہے، وہ وہ اس مہینے میں ظاہر ہو گا، وہ آخری نبی ہے۔ اس کےظاہر ہونے کی جگہ حرم ہے اور اس کی ہجرت کی جگہ وہ علاقہ ہے، جہاں باغات ہیں ، سبزہ زار ہیں ، اس لیے تم پر ضروری ہے کہ تم اس نبی کی طرف بڑھنے میں پہل کرو -“
اس راہب کی کہی ہوئی بات میرے دل میں نقش ہوگئی – میں تیزی کے ساتھ وہاں سے واپس روانہ ہوا اور مکہ پہنچا – یہاں پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:
“کیا کوئی نیا واقعہ بھی پیش آیا ہے؟”
لوگوں نے بتایا:
ہاں ! محمد بن عبداللہ امین نے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینا شروع کی ہے ابوبکر نے ان کی پیروی قبول کرلی ہے -“
میں یہ سنتے ہی گھر سے نکلا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا – میں نے انہیں راہب کی ساری بات سنادی – ساری بات سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گئے اور آپ کو یہ پورا واقعہ سنایا – آپ سن کر بہت خوش ہوئے – اسی وقت میں بھی مسلمان ہوگیا -“
یہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں – یعنی جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریم ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی، ان میں سے ایک ہیں –
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کلمہ پڑھا، ان میں سے پانچ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں – وہ یہ ہیں ، حضرت زبیر، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم – بعض نے ان میں چھٹے صحابی کا بھی اضافہ کیا ہے – وہ ہیں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ –
ان حضرات میں حضرت ابوبکر، حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم کپڑے کے تاجر تھے – حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جانور ذبح کرتے تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ تیر بنانے کا کام کرتے تھے –
ان کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایمان لائے، وہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں :
“میں ایک دن عقبہ بن ابی معیط کے خاندان کی بکریاں چرا رہا تھا، اسی وقت رسول اللہ ﷺ وہاں آگئے – ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے – آپ نے پوچھا:
” کیا تمھارے پاس دودھ ہے؟”
میں نے کہا:
“جی ہاں ! لیکن میں تو امین ہوں -” (یعنی یہ دودھ تو امانت ہے) –
آپ نے فرمایا:
“کیا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جس نے ابھی کوئی بچہ نہ دیا ہو؟”
میں نے کہا:
“جی ہاں ، ایک ایسی بکری ہے -“
میں اس بکری کو آپ کے قریب لے آیا – اس کے ابھی تھن پوری طرح نہیں نکلے تھے – آپ نے اس کی تھنوں کی جگہ پر ہاتھ پھیرا – اسی وقت اس بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے -“
یہ واقعہ دوسری روایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ اس بکری کے تھن سوکھ چکے تھے – آپ نے ان پر ہاتھ پھیرا تو وہ دودھ سے بھر گئے –
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے – وہ آپ کو ایک صاف پتھر تک لے آئے – وہاں بیٹھ کر اپ ﷺ نے بکری کا دودھ دوہا – آپ نے وہ دودھ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پلایا – پھر مجھے پلایا اور آخر میں آپ نے خود پیا – پھر آپ نے بکری کے تھن سے فرمایا:
“سمٹ جا -“
چنانچہ تھن فوراً ہی پھر ویسے ہوگئے جیسے پہلے تھے –
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ معجزہ دیکھا تو آپ سے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! مجھے اس کی حقیقت بتائیے -“
آپ نے یہ سن کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:
“اللہ تم پر رحم فرمائے، تم تو جان کار ہو -“
یہ عبداللہ بن مسعود باپ کی بجائے، ماں کی طرف سے زیادہ مشہور تھے – ان کی ماں کا نام ام عبد تھا – ان کا قد بہت چھوٹا تھا – نہایت دبلے پتلے تھے – ایک مرتبہ صحابہ ان پر ہنسنے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا:
“عبداللہ اپنے مرتبے کے لحاظ سے ترازو میں سب سے بھاری ہیں -“
“انہی کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
“اپنی امت کے لیے میں بھی اسی چیز پر راضی ہوگیا جس پر ابن ام عبد یعنی عبداللہ ابن مسعود راضی ہوگئے – اور جس چیز کو عبداللہ بن مسعود نے امت کے لیے ناگوار سمجھا، میں نے بھی اس کو ناگوار سمجھا -” آپ ان کی بہت عزت کرتے تھے – انہیں اپنے قریب بٹھایا کرتے تھے، ان سے کسی کو چھپایا نہیں کرتے تھے، اسی لیے یہ آپ کے گھر میں آتے جاتے تھے – یہ نبی کریم کے آگے آگے یا ساتھ ساتھ چلا کرتے تھے – آپ جب غسل فرماتے تو یہی پردے کے لیے چادر تان کر کھڑے ہوتے تھے – آپ جب سو جاتے تو یہی آپ کو وقت پر جگایا کرتے تھے – اسی طرح جب آپ کہیں جانے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کو جوتے پہناتے تھے – پھر جب آپ کہیں پہنچ کر بیٹھ جاتے تو یہ آپ کے جوتے اٹھاکر اپنے ہاتھ میں لے لیا کرتے تھے – ان کی انہی باتوں کی وجہ سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مشہور تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے والوں میں سے ہیں – انہیں آپ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
“دنیا تمام کی تمام غموں کی پونجی ہے، اس میں اگر کوئی خوشی ہے تو وہ صرف وقتی فائدے کے طور پر ہے۔”
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں