Seerat-ul-Nabi 0

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – خواب سچا ہے

52 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – خواب سچا ہے
انیس نے مجھ سے کہا
تم کیا کر آئے ہو
میں نے جواب دیا
مسلمان ہو گیا ہوں ، اور میں نے محمد ﷺ کی تصدیق کر دی ہے.
اس پر انیس نے کہا
میں بھی بتوں سے بیزار ہوں اور اسلام قبول کر چکا ہوں
اس کے بعد ہم دونوں اپنی والدہ کے پاس آئے تو وہ بولیں
مجھے پچھلے دین سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، میں بھی اسلام قبول کر چکی ہوں ، اللہ کے رسول کی تصدیق کر چکی ہوں .
اس کے بعد ہم اپنی قوم غفار کے پاس آئے. ان سے بات کی، ان میں سے آدھے تو اسی وقت مسلمان ہو گئے. باقی لوگوں نے کہا، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے ہم اس وقت مسلمان ہوں گے چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ غفار کے باقی لوگ بھی مسلمان ہو گئے.
ان حضرات نے جو یہ کہا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے، ہم اس وقت مسلمان ہوں گے تو ان کے یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مکہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا:
“میں نخلستان یعنی کھجوروں کے باغ کی سرزمین میں جاؤں گا، جو یثرب کے سوا کوئی نہیں ہے، تو کیا تم اپنی قوم کو یہ خبر پہنچادو گے – ممکن ہے، اس طرح تمہارے ذریعے اللّٰہ تعالٰی ان لوگوں کو فائدہ پہنچادے اور تمہیں ان کی وجہ سے اجر ملے۔”
اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اسلم کے لوگ آئے – انہوں نے آپ سے عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول! ہم بھی اسی بات پر مسلمان ہوتے ہیں جس پر ہمارے بھائی قبیلہ غفار کے لوگ مسلمان ہوئے ہیں -“
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے یہ سن کر فرمایا:
“اللّٰہ تعالٰی غفار کے لوگوں کی مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللّٰہ سلامت رکھے -“
یہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ ایک مرتبہ حج کے لیے مکہ گئے – طواف کے دوران کعبے کے پاس ٹھہر گئے – لوگ ان کے چاروں طرف جمع ہوگئے – اس وقت انہوں نے لوگوں سے کہا:
“بھلا بتاؤ تو! تم میں سے کوئی سفر میں جانے کا ارادہ کرتا ہے تو کیا وہ سفر کا سامان ساتھ نہیں لیتا؟”
لوگوں نے کہا:
“بے شک! ساتھ لیتا ہے -“
تب آپ نے فرمایا:
“تو پھر یاد رکھو! قیامت کا سفر دنیا کے ہر سفر سے کہیں زیادہ لمبا ہے اور جس کا تم یہاں ارادہ کرتے ہو، اسی لیے اپنے ساتھ اس سفر کا وہ سامان لے لو جو تمہیں فائدہ پہنچائے -“
لوگوں نے پوچھا:
“ہمیں کیا چیز فائدہ پہنچائے گی؟”
حضرت ابوذر غفاری بولے:
“بلند مقصد کے لیے حج کرو، قیامت کے دن کا خیال کرکے ایسے دنوں میں روزے رکھو جو سخت گرمی کے دن ہوں گے اور قبرکی وحشت اور اندھیرے کا خیال کرتے ہوئے، رات کی تاریکی میں اٹھ کر نمازیں پڑھو -“
حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ کے بعد حضرت خالد بن سعید رضی اللّٰہ عنہ ایمان لائے – کہا جاتا ہے، دیہات کے لوگوں میں سے مسلمان ہونے والوں میں یہ تیسرے یا چوتھے آدمی تھے – ایک قول یہ ہے کہ پانچوے تھے-یہ اپنے بھائیوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے –
ان کے اسلام لانے کا واقعہ یوں ہے کہ انہوں نے خواب میں جہنم کو دیکھا – اس کی آگ بہت خوفناک انداز میں بھڑک رہی تھی – یہ خود جہنم کےکنارے کھڑے تھے – خواب میں انہوں نے دیکھا کہ ان کا باپ انہیں جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے مگر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کا دامن پکڑ کر انہیں دوزخ میں گرنے سے روک رہے ہیں – اسی وقت گھبراہٹ کے عالم میں ان کی آنکھ کھل گئی – انہوں نے فوراًکہا:
“میں اللّٰہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خواب سچا ہے -“
ساتھ ہی انہیں یقین ہوگیا کہ جہنم سے انہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی بچا سکتے ہیں – فوراً ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آئے – انہیں اپنا خواب سنایا – ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:
“اس خواب میں تمہاری بھلائی اور خیر پوشیدہ ہے، اللّٰہ کےرسول موجود ہیں ، ان کی پیروی کرو -“
چنانچہ حضرت خالد بن سعید رضی اللّٰہ عنہ فوراً ہی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے آپ سے پوچھا:
“اے محمد! آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں – “
آپ نے ارشاد فرمایا:
“میں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ اللّٰہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، کوئی اس کے برابر کا نہیں اور یہ کہ محمد اللّٰہ کے بندے اور رسول ہیں اور تم جو یہ پتھروں کی عبادت کرتے ہو، اس کو چھوڑ دو – یہ پتھرنہ سنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں ، نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں – “
یہ سنتے ہی حضرت خالد بن سعید رضی اللّٰہ عنہ مسلمان ہوگئے – ان کے والد کا نام سعید بن عاص تھا – اسے بیٹے کے اسلام قبول کرنے کا پتہ چلا تو آگ بگولہ ہوگیا – بیٹے کو کوڑے سے مارنا شروع کیا – یہاں تک کہ اتنے کوڑے مارے کہ کوڑا ٹوٹ گیا – پھر اس نے کہا:
“تو نے محمد کی پیروی کی، حالانکہ تو جانتا ہے، وہ پوری قوم کے خلاف جارہا ہے، وہ اپنی قوم کے معبودوں کو برا کہتا ہے -“
یہ سن کرحضرت خالدبن سعید رضی اللّٰہ عنہ بولے:
“اللہ کی قسم! وہ جو پیغام لے کر آئے ہیں ، میں نے اس کو قبول کرلیا ہے -“
اس جواب پر وہ اورغضب ناک ہوا اور بولا:
“خداکی قسم! میں تیراکھانا پینابند کردوں گا -“
حضرت خالد بن سعید رضی اللّٰہ عنہ نے جواب دیا:
“اگر آپ میرا کھانا پینا بند کردیں گے تو اللّٰہ تعالٰی مجھے روٹی دینے والا ہے -“
تنگ آکر سعید نے بیٹے کوگھر سے نکال دیا – ساتھ ہی اپنے باقی بیٹوں سے کہا:
“اگر تم میں سے کسی نے بھی اس سے بات چیت کی، میں اس کابھی یہی حشر کروں گا -“
حضرت خالد بن سعید رضی اللّٰہ عنہ گھر سے نکل کر حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے – اس کے بعد وہ آپ کے ساتھ ہی رہنے لگے – باپ سے بالکل بے تعلق ہوگئے – یہاں تک کہ جب مسلمانوں نے کافروں کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کی تو یہ ہجرت کرنے والوں میں سے پہلے آدمی تھے.
ایک مرتبہ ان کا باپ بیمار ہوا، اس وقت اس نے قسم کھائی، اگر خدا نے مجھے اس بیماری سے صحت دے دی تو میں مکہ میں کبھی محمد کے خدا کی عبادت نہیں ہونے دوں گا.
باپ کی یہ بات حضرت خالد بن سعيد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے کہا
اے اللہ، اسے اس مرض سے کبھی نجات نہ دینا
چنانچہ ان کا باپ اسی مرض میں مر گیا… خالد بن سعيد رضی اللہ عنہ پہلے آدمی ہیں ، جنہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی.
ان کے بعد ان کے بھائی عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے. ان کے مسلمان ہونے کا سبب یہ ہوا کہ انہوں نے خواب میں ایک نور دیکھا… نور زمزم کے پاس سے نکلا، اور اس سے مدینے کے باغ تک روشن ہو گئے اور اتنے روشن ہوئے کہ ان میں مدینے کی تازہ کھجوریں نظر آنے لگیں . انہوں نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا تو ان سے کہا گیا. زمزم عبد المطلب کے خاندان کا کنواں ہے اور یہ نور بھی انہی میں سے ظاہر ہوگا. پھر جب ان کے بھائی خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو انہیں خواب کی حقیقت نظر آنے لگی. چنانچہ یہ بھی مسلمان ہو گئے. ان کے علاوہ سعید کی اولاد میں سے ریان اور حکم بھی مسلمان ہوئے. حکم کا نام نبی کریم ﷺ نے عبداللہ رکھا.
اسی طرح ابتدائی دنوں میں مسلمان ہونے والوں میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کا باپ ایران کے بادشاہ کسری کا گورنر تھا. ایک مرتبہ قیصر کی فوجوں نے اس کے علاقے پر حملہ کیا. اس لڑائی میں صہیب رضی اللہ عنہ گرفتار ہو گئے. انہیں غلام بنا لیا گیا. اس وقت یہ بچے تھے، چنانچہ یہ غلامی کی حالت میں ہی روم میں پلے بڑھے وہیں جوان ہوئے. پھر عرب کے کچھ لوگوں نے انہیں خرید لیا اور فروخت کرنے کے لیے مکہ کے قریب عکاظ کے بازار میں لے آئے. اس بازار میں میلہ لگتا تھا اس میلے میں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی تھی. میلے سے ایک شخص عبداللہ بن جدعان نے خرید لیا. اس طرح یہ مکہ میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ کا ظہور ہو گیا، ان کے دل میں آئی کہ جا کر بات تو سنوں … یہ سوچ کر گھر سے نکلے، راستے میں ان کی ملاقات عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی. انہوں نے ان سے پوچھا.
صہیب کہاں جا رہے ہو
یہ فوراً بولے.
میں محمد کے پاس جا رہا ہوں تاکہ ان کی بات سنوں اور دیکھوں …. وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ..
یہ سن کر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بولے.
میں بھی اسی ارادے سے گھر سے نکلا ہوں .
یہ سن کر صہیب رضی اللہ عنہ بولے.
تب پھر اکٹھے ہی چلتے ہیں .
اب دونوں ایک ساتھ قدم اٹھانے لگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں