Seerat-ul-Nabi 23

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – حق دلوادیا

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – حق دلوادیا
اب اس ہندوستانی نے ان سے پوچھا:
” تم کس کی عبادت کرتے ہوں ۔”
انہوں نے جواب دیا:
” ہم اس الله کی عبادت کرتے ہیں جو سامنے نہیں ہے۔”
اس پر اس ہندی عالم نے پوچھا:
” تمہیں اس کی خبر کس نے دی۔ “
امام رکن الدین بولے:
” حضرت محمد ﷺ نے۔”
اس پر اس ہندی نے کہا:
” تمہارے پیغمبر نے روح کے بارے میں کیا کہا ہے۔”
امام بولے
“یہ روح میرے رب کے حکم سے قائم ہے۔”
اس پر اس ہندی عالم نے کہا؛
” تم سچ کہتے ہو۔”
پھر وہ مسلمان ہوگیا۔
ایک روز حضور نبی کریم ﷺ اپنے چند صحابہ رضی الله عنہم کے ساتھ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے۔ایسے میں قبیلہ زبید کا ایک شخص وہاں آیا۔اس وقت نزدیک ہی قریش مکہ بھی مجمع لگائے وہاں بیٹھے تھے۔ قبیلہ زبید کا وہ شخص ان کے نزدیک گیا اور اردگرد گھومنے لگا۔پھر اس نے کہا:
“اے قریش! کوئی شخص کیسے تمہارے علاقے میں داخل ہوسکتا ہے اور کوئی تاجر کیسے تمہاری سرزمین پر آسکتا ہے جبکہ تم ہر آنے والے پر ظلم کرتے ہو؟ “
یہ کہتے ہوئے جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں آپ ﷺ تشریف فرما تھےتو آپ نے اس سے فرمایا:
” تم پر کس نے ظلم کیا۔”
اس نے بتایا:
” میں اپنے اونٹوں میں سے تین بہترین اونٹ بیچنے کے لیے لے کر آیا تھا مگر ابوجہل نے یہاں ان تینوں اونٹوں کی اصل قیمت سے صرف ایک تہائی قیمت لگائی۔اور ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا، کیونکہ وہ جانتا ہے وہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ اس کی لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ رقم کوئی نہیں لگائے گا، مطلب یہ کہ اب مجھے وہ اونٹ اس قدر کم قیمت پر فروخت کرنے پڑیں گے، یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ میرا تجارت کا یہ سفر بے کار جائےگا۔”
نبی کریم ﷺ نے اس کی پوری بات سن کر فرمایا:
” تمہارے اونٹ کہاں ہیں ۔”
اس نے بتایا:
” یہیں خزورہ کے مقام پر ہیں ۔”
آپ اس وقت اٹھے،اپنے صحابہ کو ساتھ لیا، اونٹوں کے پاس پہنچے۔ آپ نے دیکھا، اونٹ واقعی بہت عمدہ تھے۔ آپ نے اس سے ان کا بھاؤ کیا اور آخر خوش دلی سے سودا طے ہوگیا۔ آپ نے وہ اونٹ اس سے خریدلیے۔ پھر آپ نے ان میں سے دو زیادہ عمدہ فروخت کردیے اور ان کی قیمت بیوہ عورتوں میں تقسیم فرمادی۔ وہیں بازار میں ابوجہل بیٹھا تھا ۔اس نے یہ سودا ہوتے دیکھا، لیکن ایک لفظ بول نہ سکا۔ آپ اس کے پاس آئے اور فرمایا:
” خبردار عمرو! ( ابوجہل کا نام)اگر تم نے آئندہ حرکت کی تو بہت سختی سے پیش آوں گا۔”
یہ سنتے ہی وہ خوف زدہ انداز میں بولا:
” محمد! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا… میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔”
اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ وہاں سے لوٹ آئے۔ادھر راستے میں امیہ بن خلف ابوجہل سے ملا۔ اس کے ساتھ دوسرے ساتھی بھی تھے۔ان لوگوں نے ابوجہل سے پوچھا:
“تم تو محمد کے ہاتھوں بہت رسوا ہوکر آرہے ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو تم ان کی پیروی کرنا چاہتے ہو یا تم ان سے خوف زدہ ہوگئے ہو۔”
اس پر ابوجہل نے کہا:
” میں ہرگز محمد کی پیروی نہیں کرسکتا، میری جو کمزوری تم نے دیکھی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے محمد(صلی الله علیہ وسلم)کو دیکھا تو ان کے دائیں بائیں بہت سارے آدمی نظر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے اور بھالے تھےاور وہ ان کو میری طرف لہرا رہے تھے۔اگر میں اس وقت ان کی بات نہ مانتا تو وہ سب لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑتے۔”
ابوجہل ایک یتیم کا سرپرست بنا، پھر اس کا سارا مال غضب کرکے اسےنکال باہر کیا۔ وہ یتیم حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ابوجہل کے خلاف فریاد لے کر آیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم اس یتیم کو لیے ابوجہل کے پاس پہنچے۔ آپ نے اس سے فرمایا:
” اس یتیم کا مال واپس کردو۔”
ابوجہل نے فوراً مال اس لڑکے کے حوالے کردیا۔ مشرکین کو یہ بات معلوم ہوئی تو بہت حیران ہوئے، انہوں نے ابوجہل سے کہا:
“کیا بات ہے؟ تم اس قدر بزدل کب سے ہوگئے کہ فوراً ہی مال اس لڑکے کے حوالے کردیا۔”
اس پر اس نے کہا:
” تمہیں نہیں معلوم! محمد صلی الله علیہ وسلم کے دائیں بائیں مجھے بہت خوفناک ہتھیار نظر آئےتھے۔ میں ان سے ڈر گیا۔ اگر میں اس یتیم کا مال نہ لوٹاتا تو وہ ان ہتھیاروں سے مجھے مار ڈالتے۔”
قبیلہ خشعم کی ایک شاخ اراشہ تھی۔ اس کے ایک شخص سے ابوجہل نے کچھ اونٹ خریدے، لیکن قیمت ادا نہ کی۔ اس نے قریش کے لوگوں سے فریاد کی۔ ان لوگوں نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا مذاق اڑانے کا پروگرام بنالیا۔انہوں نے اس اراشی سے کہا:
” تم محمد کے پاس جاکر فریاد کرو۔”
ایسا انہوں نے اس لیے کہا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ ابوجہل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
اراشی حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ نے فوراً اسے ساتھ لیا اور ابوجہل کے مکان پر پہنچ گئے۔ اس کے دروازے پر دستک دی۔ابوجہل نے اندر سے پوچھا:
” کون ہے؟ “
آپ نے فرمایا:
” محمد! “
ابوجہل فوراً باہر نکل آیا۔آپ کا نام سنتے ہی اس کا چہرہ زرد پڑھ چکا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا:‌
” اس شخص کا حق فوراً ادا کردو”۔
اس نے کہا:
” بہت اچھا! ابھی لایا۔”
اس نے اسی وقت اس کا حق ادا کردیا۔اب وہ شخص واپس اسی قریشی مجلس میں آیا اور ان سے بولا:
” الله تعالیٰ ان( یعنی آنحضرت صلی الله علیہ وسلم)کو جزائے خیر دے۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میرا حق مجھے دلوادیا۔”
مشرک لوگوں نے بھی اپنا ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ دیکھتا رہے، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے ہیں ، چنانچہ جب وہ واپس آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا:
” ہاں ! تم نے کیا دیکھا؟ “
جواب میں اس نے کہا:
” میں نے ایک بہت ہی عجیب اور حیرت ناک بات دیکھی ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں