Seerat-ul-Nabi 0

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – تین سوال

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – تین سوال
پہلے ان سے ان نوجوانوں کے بارے میں سوال کرو جو پچھلے زمانے میں کہیں نکل گئے تھے۔ یعنی اصحاب کہف کے بارے میں پوچھو کہ ان کا کیا واقعہ تھا۔ اس لئے کہ ان کا واقعہ نہایت عجیب و غریب ہے، ہماری پرانی کتابوں کے علاوہ اس واقعے کا ذکر کہیں نہیں ملے گا…اگر وہ نبی ہیں تو اللہ تعالٰی کی طرف سے خبر پاکر ان کے بارے میں بتادیں گے…ورنہ نہیں بتا سکیں گے۔
پھر ان سے یہ پوچھنا کہ سکندر ذو القرنين کون تھا، اس کا کیا قصہ ہے۔ پھر ان سے روح کے بارے میں پوچھنا کہ وہ کیا چیز ہے۔ اگر انہوں نے پہلے دونوں سوالوں کا جواب دے دیا اور ان کا واقعہ بتادیا اور تیسرے سوال یعنی روح کے بارے میں بتادیا تو تم لوگ سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں ، اس صورت میں تم ان کی پیروی کرنا۔”
یہ لوگ یہ تین سوالات لے کر واپس مکہ آئے اور قریش سے کہا:
“ہم ایسی چیز لے کر آئے ہیں کہ اس سے ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔”
اس کے بعد انہوں نے ان سب کو تفصیل سنائی۔ اب یہ مشرکین حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ سے کہا:
“اے محمد! اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو ہمارے تین سوالات کے جوابات بتادیں ، ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ اصحاب کہف کون تھے؟ دوسرا سوال ہے کہ ذوالقرنین کون تھے؟ اور تیسرا سوال ہے کہ روح کیا چیز ہے؟”
آپ نے ان کے سوالات سن کر فرمایا:
“میں ان سوالات کے جوابات تمہیں کل دوں گا۔”
نبی اکرم ﷺ نے اس جملے میں ان شاءاللہ نہ فرمایا، یعنی یہ نہ فرمایا، ان شاءاللہ میں تمہیں کل جواب دوں گا۔ قریش آپ کا جواب سن کر واپس چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ وحی کا انتظار کرنے لگے، لیکن وحی نہ آئی۔ دوسرے دن وہ لوگ آگئے، آپ انہیں کوئی جواب نہ دے سکے، وہ لوگ لگے باتیں کرنے۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیا:
“محمد کے رب نے انہیں چھوڑدیا۔”
ان لوگوں میں ابو لہب کی بیوی ام جمیل بھی تھی۔ اس نے بھی یہ الفاظ کہے:
“میں دیکھتی ہوں کہ تمہارے مالک نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہو گیا ہے۔”
نبی اکرم ﷺ کو قریش کی یہ باتیں بہت شاق گزریں ۔ آپ بہت پریشان اور غمگین ہو گئے۔ آخر جبرئیل علیہ السلام سورہ کہف لے کر نازل ہوئے۔ اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کو ہدایت کی گئی:
“اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ اس کو کل کردوں گا مگر اللہ کے چاہنے کو ملا لیا کیجئے (یعنی ان شاءاللہ کہا کیجئے) آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کیا کیجئے اور کہہ دیجئے کہ مجھے امید ہے میرا رب مجھے (نبوت کی دلیل بننے کے اعتبار سے) اس سے بھی نزدیک تر بات بتادے گا۔” (سورہ کہف)
مطلب یہ تھا کہ جب آپ یہ کہیں کہ آئندہ فلاں وقت پر میں یہ کام کروں گا تو اس کے ساتھ ان شاءاللہ ضرور کہا کریں ۔ اگر آپ اس وقت اپنی بات کے ساتھ ان شاءاللہ ملانا بھول جائیں اور بعد میں یاد آجائے تو اس وقت ان شاءاللہ کہہ دیا کریں ۔ اس لئے کہ بھول جانے کے بعد یاد آنے پر وہ ان شاء اللہ کہہ دینا بھی ایسا ہے جیسے گفتگو کے ساتھ کہہ دینا ہوتا ہے۔
اس موقعے پر وحی میں دیر اسی بنا پر ہوئی تھی کہ آپ نے ان شاء اللہ نہیں کہا تھا۔ جب جبرئیل علیہ السلام سورہ کہف لے کر آئے تو آپ نے ان سے پوچھا تھا:
“جبرئیل! تم اتنی مدت میرے پاس آنے سے رکے رہے اس سے تشویش پیدا ہونے لگی تھی۔”
جواب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:
“ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہ ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں داخل ہو سکتے ہیں ،نہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں ، ہم تو صرف اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ، اور یہ جو کفار کہہ رہے ہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا ہے تو آپ کے رب نے آپ کو ہرگز نہیں چھوڑا بلکہ یہ سب اس کی حکمت کے مطابق ہوا ہے۔”
پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اصحاب کہف کے بارے میں بتایا۔ ذوالقرنین کے بارے میں بتایا اور پھر روح کے بارے وضاحت کی۔
اصحاب کہف کی تفصیل تفسیر ابن کثیر کے مطابق یوں ہے:
“وہ چند نو جوان تھے، دین حق کی طرف مائل ہوگئے تھے اور راہ ہدایت پر آگئے تھے۔ یہ نوجوان پرہیزگار تھے۔ اپنے رب کو معبود مانتے تھے یعنی توحید کے قائل تھے۔ ایمان میں روز بروز بڑھ رہے تھے اور یہ لوگ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین پر تھے۔ لیکن بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے کا ہے، اس لئے کہ یہ سوال یہودیوں نے پوچھے تھے اور اس کا مطلب ہے کہ یہودیوں کی کتابوں میں یہ واقعہ موجود تھا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔
قوم نے ان کی مخالفت کی۔ ان لوگوں نے صبر کیا۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا۔ وہ مشرک تھا،اس نے سب کو شرک پر لگا رکھا تھا۔ تھا بھی بہت ظالم۔ بت پرستی کراتا تھا۔ وہاں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ یہ نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ اس میلے میں گئے۔ وہاں انہوں نے بت پرستی ہوتے دیکھی۔ یہ وہاں سے بیزار ہو کر نکل آئے اور سب ایک درخت کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس سے پہلے یہ لوگ الگ الگ تھے۔ ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔ آپس میں بات چیت شروع ہوئی تو معلوم ہوا، یہ سب بت پرستی سے بیزار ہو کر میلے سے چلے آئے ہیں ۔ اب یہ آپس میں گھل مل گئے۔ انہوں نے اللہ کی عبادت کے لئے ایک جگہ مقرر کرلی۔ رفتہ رفتہ مشرک قوم کو ان کے بارے میں پتا چل گیا، وہ انہیں پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ نے ان سے سوالات کئے تو انہوں نے نہایت دلیری سے شرک سے بری ہونے کا اعلان کیا۔ بادشاہ اور درباریوں کو بھی توحید کی دعوت دی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا، ہمارا رب وہی ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت کریں ۔
ان کی اس صاف گوئی پر بادشاہ بگڑا۔ اس نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔
بادشاہ کا حکم سن کر ان میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی، ان کے دل اور مضبوط ہوگئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے محسوس کرلیا کہ یہاں رہ کر وہ اپنی دین داری پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ اس لئے انہوں نے سب کو چھوڑ کر وہاں سے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔ جب یہ لوگ اپنے دین کو بچانے کے لئے قربانی دینے پر تیار ہوگئے تو ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت نازل ہوئی۔ ان سے فرما دیاگیا:
“جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت ہوگی اور وہ تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرماوے گا۔”
پس یہ لوگ موقع پاکر وہاں سے بھاگ نکلے اور ایک پہاڑ کے غار میں چھپ گئے۔ قوم نے انہیں ہر طرف تلاش کیا، لیکن وہ نہ ملے…اللہ تعالٰی نے انہیں ان کے دیکھنے سے عاجز کردیا…بالکل اسی قسم کا واقعہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ پیش آیا تھا جب آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور میں پناہ لی تھی، لیکن مشرکین غار کے منہ تک آنے کے باوجود آپ کو نہیں دیکھ سکے تھے ۔
اس واقعے میں بھی چند روایات میں تفصیل اس طرح ہے کہ بادشاہ کے آدمیوں نے ان کا تعاقب کیا تھا اور غار تک پہنچ گئے تھے، لیکن غار میں وہ ان لوگوں کو نظر نہیں آئے تھے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے کہ اس غار میں صبح و شام دھوپ آتی جاتی ہے۔
یہ غار کس شہر کے کس پہاڑ میں ہے، یہ یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں …پھر اللہ تعالٰی نے ان پر نیند طاری کردی۔ اللہ تعالٰی انہیں کروٹیں بدلواتے رہے۔ ان کا کتا بھی غار میں ان کے ساتھ تھا۔
اللہ تعالٰی نے جس طرح اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلادیا تھا، اسی طرح انہیں جگادیا۔ وہ تین سو نو سال تک سوتے رہے تھے۔ اب تین سو نو سال بعد جاگے تو بالکل ایسے تھے جیسے ابھی کل ہی سوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں