Seerat-ul-Nabi 23

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – اسلام کی تبلیغ

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – اسلام کی تبلیغ
اس کے بعد کچھ دن تک آپ ﷺ خاموش رہے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے آپ کو اللہ کی جانب سے اللہ تعالٰی کے پیغام کو ہر طرف پھیلا دینے کا حکم سنایا۔
آپ ﷺ نے دوبارہ لوگوں کو جمع فرمایا۔ان کے سامنے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں خاص طور پر تمہاری طرف اور عام طور پر سارے انسانوں کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، اللہ کی قسم! تم جس طرح جاگتے ہو، اسی طرح ایک دن حساب کتاب کے لئے دوبارہ جگائے جاؤ گے۔ پھر تم جو کچھ کررہے ہو، اس کا حساب تم سے لیا جائے گا۔ اچھائیوں اور نیک اعمال کے بدلے میں تمہیں اچھا بدلہ ملے گا اور برائی کا بدلہ برا ملے گا، وہاں بلاشبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہے۔اللہ کی قسم! اے بنی عبد المطلب! میرے علم میں ایسا کوئی نوجوان نہیں جو اپنی قوم کے لئے اس سے بہتر اور اعلی کوئی چیز لے کر آیا ہو۔ میں تمہارے واسطے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں ۔ “
آپ ﷺ کے اس خطبے کو سن کر ابو لہب نے سخت ترین انداز میں کہا:
“اے بنی عبد المطلب! اللہ کی قسم! یہ ایک فتنہ ہے اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا اس پر ہاتھ ڈالے، بہتر یہ ہے کہ تم ہی اس پر قابو پالو، یہ معاملہ ایسا ہے کہ اگر تم اس کی بات سن کر مسلمان ہوجاتے ہو، تو یہ تمہارے لئے ذلت و رسوائی کے بات ہوگی – اگر تم اسے دوسرے دشمنوں سے بچانے کی کرو گے تو تم خود قتل ہوجاؤگے -“
اس کے جواب میں اس کی بہن یعنی نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
“بھائی! کیا اپنے بھتیجے کو اس طرح رسوا کرنا تمہارے لیے مناسب ہے اور پھر اللہ کے قسم! بڑے بڑے عالم یہ خبر دیتے آرہے ہیں کہ عبدالمطلب کے خاندان میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں ، لہٰذا میں تو کہتی ہوں ، یہی وہ نبی ہیں -“
ابولہب کو یہ سن کر غصہ آیا، وہ بولا:
“اللہ کی قسم یہ بالکل بکواس اور گھروں میں بیٹھنے والی عورتوں کی باتیں ہیں – جب قریش کے خاندان ہم پر چڑھائی کرنے آئیں گے اور سارے عرب ان کا ساتھ دیں گے تو ان کے مقابلے میں ہماری کیا چلے گی – خدا کی قسم ان کے لیے ہم ایک تر نوالے کی حیثیت ہوں گے -“
اس پر ابوطالب بول اٹھے:
“اللہ کی قسم! جب تک ہماری جان میں جان ہے ہم ان کے حفاظت کریں گے -“
اب نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور تمام قریش کو اسلام کی دعوت دی – ان سب سے فرمایا:
“اے قریش! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آرہا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے جھوٹا خیال کرو گے -“
سب نے ایک زبان ہوکر کہا:
“نہیں ! اس لیے کہ ہم نے آپ کو آج تک جھوٹ بولتے ہوئے نہیں سنا -“
اب آپ نے فرمایا:
“اے گروہِ قریش! اپنی جانوں کو جہنم سے بچاؤ، اس لئے کہ میں اللہ تعالی کے ہاں تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکوں گا، میں تمہیں اس زبردست عذاب سے صاف ڈرا رہا ہوں جو تمہارے سامنے ہے، میں تم لوگوں کو دو کلمے کہنے کی دعوت دیتا ہوں ، جو زبان سے کہنے میں بہت ہلکے ہیں ، لیکن ترازو میں بے حد وزن والے ہیں ، ایک اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، دوسرے یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اب تم میں سے کون ہے جو میری اس بات کو قبول کرتا ہے -“
آپ کے خاموش ہونے پر ان میں سے کوئی نہ بولا تو آپ نے اپنی بات پھر دہرائی، پھر آپ نے تیسری بار اپنی بات دہرائی مگر اس بار بھی سب خاموش کھڑے رہے – اتنا ہوا کہ سب نے آپ کی بات خاموشی سے سن لی اور واپس چلے گئے –
ایک دن قریش کے لوگ مسجد حرام میں جمع تھے، بتوں کو سجدے کررہے تھے، آپ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا:
“اے گروہ قریش! اللہ کی قسم! تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے راستے سے ہٹ گئے ہو -“
آپ کی بات کے جواب میں قریش بولے:
“ہم اللہ تعالٰی کی محبت ہی میں بتوں کو پوجتے ہیں تاکہ اس طرح ہم اللہ تعالٰی کے قریب ہوسکیں -“
(افسوس! آج کل ان گنت لوگ بھی قبروں کو سجدہ بالکل اسی خیال سے کرتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں )
اس موقع پر اللہ تعالٰی نے ان کی بات کے جواب میں وحی نازل فرمائی:
ترجمہ: آپ فرمادیجیے! اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے – (سورۃ آل عمران:آیت 31)
قریش کو یہ بات بہت ناگوار گزری – انہوں نے ابوطالب سے شکایت کی:
“ابوطالب! تمہارے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا کہا ہے، ہمارے دین میں عیب نکالے ہیں ، ہمیں بےعقل ٹھہرایا ہے، اس نے ہمارے باپ دادا تک کو گمراہ کہا ہے، اس لیے یا تو ہماری طرف سے آپ نپٹیے یا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جایئے، کیونکہ خود آپ بھی اسی دین پر چلتے ہیں جو ہمارا ہے اور اس کے دین کے آپ بھی خلاف ہیں -“
ابو طالب نے انہیں نرم الفاظ میں یہ جواب دے کر واپس بھیج دیا کہ
اچھا میں انہیں سمجھاؤں گا –
ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو آپ کی خدمت میں بھیجا – حضرت جبرئیل نہایت حسین شکل و صورت میں بہترین خوشبو لگائے ظاہر ہوئے اور بولے:
“اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتے ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ آپ تمام جنوں اور انسانوں کی طرف سے اللہ تعالی کے رسول ہیں ، اس لیے انہیں کلمہ لا الہ الا اللہ کی طرف بلایئے -“
یہ حکم ملتے ہی آپ نے قریش کو براہ راست تبلیغ شروع کردی اور حالت اس وقت یہ تھی کہ کافروں کے پاس پوری طاقت تھی اور وہ آپ کی پیروی کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے، کفر اور شرک ان کے دلوں میں بسا ہوا تھا – بتوں کی محبت ان کے اندر سرایت کرچکی تھی – ان کے دل اس شرک اور گمراہی کے سوا کوئی چیز بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے – شرک کی یہ بیماری لوگوں میں پوری طرح سماچکی تھی –
آپ ﷺ کی تبلیغ کا یہ سلسلہ جب بہت بڑھ گیا تو قریش کے درمیان ہر وقت آپ ہی کا ذکر ہونے لگا – وہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر آپ سے دشمنی پر اتر آئے – آپ کے قتل کے منصوبے بنانے لگے – یہاں تک سوچنے لگے کہ آپ کا معاشرتی بائیکاٹ کردیا جائے، لیکن یہ لوگ پہلے ایک بار پھر ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے بولے:
“ابوطالب! ہمارے درمیان آپ بڑے قابل، عزت دار اور بلند مرتبہ آدمی ہیں ، ہم نے آپ سے درخواست کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیے، مگر آپ نے کچھ نہیں کیا، ہم لوگ یہ بات برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے معبودوں کو اور باپ داداؤں کو برا کہا جائے – ہمیں بےعقل کہا جائے – آپ انہیں سمجھا لیں ورنہ ہم آپ سے اور ان سے اس وقت تک مقابلہ کریں گے جب تک کہ دونوں فریقوں میں سے ایک ختم نہ ہوجائے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں