Seerat-ul-Nabi 19

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – آزمائشوں پر آزمائشیں

51 / 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – آزمائشوں پر آزمائشیں
عبداللہ بن جدان نے فوراً قریش کو ایک سو درہم دیےتاکہ بتوں کی جو توہین ہوئی ہے، اس کے بدلے ان کے نام پر کچھ جانور ذبح کردیے جائیں ۔ پھر وہ حضرت بلال رضی الله عنہ کی طرف بڑھا۔ اس نے انہیں رسی سے باندھ دیا۔ تمام دن بھوکا اور پیاسا رکھا۔ پھر تو یہ اس کا روز کا معمول بن گیا۔ جب دوپہر کے وقت سورج آگ برسانے لگتا تو انہیں گھر سے نکال کر تپتی ہوئی ریت پر چت لٹادیتا۔ اس وقت ریت اس قدر گرم ہوتی تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی بھن جاتا تھا۔ وہ اسی پر بس نہیں کرتا تھا، ایک وزنی پتھر منگاتا اور ان کے سینے پر رکھ دیتا تاکہ وہ اپنی جگہ پر سے ہل بھی نہ سکیں ۔ پھر وہ بدبخت ان سے کہتا:
” اب یا تو محمد کی رسالت اور پیغمبری سے انکار کر اور لات و عزیٰ کی عبادت کر ورنہ میں تجھے یہاں اسی طرح لٹائے رکھوں گا، یہاں تک کہ تیرا دم نکل جائے گا۔ “
حضرت بلال رضی الله عنہ اس کی بات کے جواب میں فرماتے:
” احد…. احد ۔ “
یعنی الله تعالٰی ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔
جب حضرت بلال رضی الله عنہ کسی طرح اسلام سے نہ ہٹے تو تنگ آکر عبدالله بن جدعان نے انہیں امیہ بن خلف کے حوالے کردیا۔ اب یہ شخص ان پر اس سے بھی زیادہ ظلم و ستم ڈھانے لگا۔
ایک روز انہیں اسی قسم کی خوفناک سزائیں دی جارہی تھیں کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس طرف سے گذرے ۔حضرت بلال رضی الله عنہ شدت تکلیف کی حالت میں احد احد پکار رہے تھے۔آپ نے انہیں اس حالت میں دیکھ کر فرمایا:
” بلال! تمہیں یہ احد احد ہی نجات دلائےگا۔ “
پھر ایک روز حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اس طرف سے گذرے۔ امیہ بن خلف نے انہیں گرم ریت پر لٹا رکھا تھا۔ سینے پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا۔انہوں نے یہ دردناک منظر دیکھ کر امیہ بن خلف سے کہا:
” کیا اس مسکین کے بارے میں تمہیں الله کا خوف نہیں آتا، آخر کب تک تم اسے عذاب دیے جاؤگے۔”
امیہ بن خلف نے جل کر کہا:
” تم ہی نے اسے خراب کیا ہے، اس لیے تم ہی اسے نجات کیوں نہیں دلادیتے۔”
اس کی بات سن کر حضرت ابوبکر رضی الله عنہ بولے:
” میرے پاس بھی ایک حبشی غلام ہے، وہ اس سے زيادہ طاقتور ہے اور تمہارے ہی دین پر ہے، میں ان کے بدلے میں تمہیں وہ دے سکتا ہوں ۔”
یہ سن کر امیہ بولا:
” مجھے یہ سودہ منظور ہے۔ “
یہ سنتے ہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا حبشی غلام اس کے حوالے کردیا۔ اس کے بدلے میں حضرت بلال رضی الله عنہ کو لے لیا اور آزاد کردیا۔ سبحان الله! کیا خوب سودہ ہوا، یہاں یہ بات جان لینی چاہئے کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا حبشی غلام دنیا کے لحاظ سے بہت قیمتی تھا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امیہ بن خلف نے غلام کے ساتھ دس اوقیہ سونا بھی طلب کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے اس کا یہ مطالبہ بھی مان لیا تھا چنانچہ آپ نے اسے ایک یمنی چادر اور کچھ سونا دیا تھا – ساتھ ہی آپ نے امیہ بن خلف سے فرمایا تھا:
“اگر تم مجھ سے سو اوقیہ سونا بھی طلب کرتے تو بھی میں تمہیں دے دیتا -“
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور بھی بہت سے غلام مسلمانوں کو خرید کر آزاد فرمایا تھا، یہ وہ مسلمان غلام تھے جنہیں اللہ کا نام لینے کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا – ان میں ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی والدہ حمامہ رضی اللہ عنہا تھیں – ایک عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے – انہیں اللہ کا نام لینے پر بڑے بڑے سخت عذاب دیے جاتے – یہ قبیلہ بنی تیم کے ایک شخص کے غلام تھے – وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رشتے دار تھا – آپ نے اپنے رشتے دار سے خرید کر انہیں بھی آزاد فرمایا – ایک صاحب ابو فکیہ رضی اللہ عنہ تھے – یہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے غلام تھے – یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے تھے –
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بھی ابتدا میں مسلمانوں کے سخت مخالف تھے – وہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے – ایک روز انہوں نے حضرت ابو فکیہ رضی اللہ عنہ کو گرم ریت پر لٹا رکھا تھا – ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس طرف سے گزرے – اس وقت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ یہ الفاظ کہہ رہے تھے:
“اسے ابھی اور عذاب دو، یہاں تک کہ محمد یہاں آکر اپنے جادو سے اسے نجات دلائیں -“
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی وقت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے انہیں خرید کر آزاد کردیا –
اسی طرح زنیرہ رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر اس قدر خوفناک سزائیں دی گئیں کہ وہ بےچاری اندھی ہوگئیں ، ایک روز ابوجہل نے ان سے کہا:
جو کچھ تم پر بیت رہی ہے، یہ سب لات و عزی کر رہے ہیں .
یہ سنتے ہی زنیرہ رضی اللہ عنہا نے کہا.
ہر گز نہیں ، اللہ کی قسم، لات و عزی نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں ، نہ کوئی نقصان… یہ جو کچھ ہو رہا ہے، آسمان والے کی مرضی سے ہو رہا ہے. میرے پروردگار کو یہ بھی قدرت ہے کہ وہ مجھے میری آنکھوں کی روشنی لوٹا دے.
دوسرے دن وہ صبح اٹھیں تو ان کی آنکھوں کی روشنی اللہ تعالٰی نے لوٹا دی تھی.
اس بات کا جب کافروں کو پتا چلا تو تو وہ بول اٹھے.
یہ محمد کی جادوگری ہے.
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انھیں بھی خرید کر آزاد کر دیا.
آپ نے زنیرہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی کو بھی خرید کر آزاد کیا. اسی طرح نہدیہ نام کی ایک باندی تھیں . ان کی ایک بیٹی بھی تھیں . دونوں ولید بن مغیرہ کی باندیاں تھیں . انھیں بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آزاد کر دیا.
عامر بن فہیرہ کی بہن اور ان کی والدہ بھی ایمان لے آئی تھیں . یہ حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کی باندیاں تھیں . حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انھیں بھی خرید کر آزاد کر دیا.
ایمان لانے والے جن لوگوں پر ظلم ڈھائے گئے. ان میں سے ایک حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بھی ہیں . کافروں نے انھیں اسلام سے پھیرنے کی کوششیں کیں مگر یہ ثابت قدم رہے. انہیں جاہلیت کے زمانے میں گرفتار کیا گیا تھا، پھر انہیں ایک عورت ام انمار نے خرید لیا، یہ ایک لوہار تھے، نبی اکرم ﷺ ان کی دل جوئی فرماتے تھے. ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے. جب یہ مسلمان ہو گئے اور ام انمار کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے انہیں بہت خوفناک سزائیں دیں . وہ لوہے کا کڑا لے کر آگ میں گرم کرتی٬ خوب سرخ کرتی٬پھر اس کو حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھ دیتی، آخر حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اپنی مصیبت کا ذکر کیا تو آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی.
نبی اکرم ﷺ کی دعا کے فوراً بعد اس عورت کے سر میں شدید درد شروع ہو گیا. اس سے وہ کتوں کی طرح بھونکتی تھی، آخر کسی نے اسے علاج بتایا کہ وہ لوہا تپا کر سر پر رکھوائے، اس نے یہ کام حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے ذمے لگایا. اب آپ وہ حلقہ خوب گرم کر کے اس کے سر پر رکھتے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں