سیرت النبیﷺ 129

سیرت النبیﷺ

60 / 100

سیرت النبیﷺ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
دنیائے اسلام میں ہمارے پیارے نبی، رحمۃ للعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت نہایت شان و شوکت سے منایا گیا۔ مسلمانوں کا جوش و خروش اور محبتِ رسولؐ قابلِ دید تھی۔ پاکستان میں بھی حکومت اور عوام نے اس جشن کو منانے میں بھرپور حصّہ لیا۔ تمام سرکاری عمارتیں اور مساجد اور بازار رنگا رنگ روشنیوں سے خوب سجائے گئے۔ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ مسلمانوں کےتمام مکاتب اپنے پیارے نبی اور خاتم النبیینؐ کا یومِ ولادت نہایت صدقِ دل اور جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ آپ نے ٹی وی پر دنیا میں تمام اسلامی ممالک میں یہ جشن زور و شور سے مناتے ہوئے دیکھا۔ مساجد کو اعلیٰ طریقے سے سجایا گیا اور لوگوں نے نفل ادا کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے پیارے رسولﷺ پر اپنا خاص کرم اور مہربانیوں کی دعا کی۔

تقریباً تمام مسلمان یہ جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبیﷺکی ولادت مکّہ شریف میں بروز پیر 17جون 569ء میں ہوئی تھی۔ آپ کے حالاتِ زندگی اور سیرت طیبہ پر پوری دنیائے اسلام میں ہزاروں، لاکھوں کتب لکھی گئی ہیں اور شائع ہوئی ہیں یہ ہی نہیں بلکہ لاتعداد غیر اسلامی ممالک میں بھی آپ کی سیرتِ طیبہ پر نہایت اعلیٰ کتب لکھی گئی ہیں۔ ہمارے پاکستان میں سب سے زیادہ مشہور اور ہردلعزیز کتاب سیرت النبیؐ ہے جس کو تحریر کرنے کی ابتدا مولانا شبلی نعمانی ؒنے کی تھی اور جس کی تکمیل مولانا سید سلیمان ندوی ؒ (سابق قاضی شہر بھوپال) نے کی تھی۔

آئیے! پہلے کلام مجید میں فرمانِ الٰہی کے مطابق رسول اللہﷺ کے بارے میں جو شواہد موجود ہیں، ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(1)’’اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی ہی زبان میں بھیجا تاکہ انھیں صاف صاف بتائے‘‘ (سورۃ ابراہیم، آیت4)

(2) سورۃ الاحزاب، آیت 21میں اللہ رب العزّت فرماتا ہے ’’تمہارے لئے (محمدؐ) رسول اللہﷺ کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے یعنی اس کیلئے جس کو اللہ پر اور روزِ آخرت پر یقین ہو اور وہ ذکر الٰہی کثرت سے کرتا ہو‘‘۔ کلام مجید میں کئی بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہمارے پیارے رسولﷺ دنیا میں بھیجے جانیوالے پیغمبروں میں آخری پیغمبر ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی اور پیغمبر نہیں آئے گا۔ خداوند کریم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اللہ اور اور اس کے فرشتے (محمدؐ) پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی رسول اللہﷺ پر درود و سلام بھیجو‘‘۔

کلمہ شہادت (جز ایمان) کا ترجمہ ہے ’’میں صدقِ دل سے گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سات سمندروں کا پانی اگر سیاہی بن جائے اور دنیا بھر کے درخت قلم بن جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی صفات و شان بیان نہیں کر سکتے ہیں اسی طرح اگر پوری دنیا کی زبانوں کو استعمال بھی کرلیں تو بھی اپنے پاک نبیﷺ کی حیاتِ طیبہ اور آپؐ کی تعلیمات کو قلمبند نہیں کر سکتے۔ آپؐ کی سیرتِ طیبہ کا اظہار اُن اُسوۂ حَسنہ میں پوشیدہ ہے جو اللہ رب العزت نے آپ کو دیئے ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ جو ایک عالم دین تھے اور تقریباً تمام عمر فرانس میں گزاری جہاں اُنھوں نے لاتعداد غیر مسلم لوگوں کو دینِ اسلام کی روشنی سے آگاہ کر کے مسلمان کیا، نے ایک نہایت ہی عمدہ کتاب سیرت النبیؐ پر تحریر فرمائی تھی جس کا نام Muhammad Rasulullahتھا۔ اس کا نہایت خوبصورت اردو ترجمہ جناب انجینئر منور علی قریشی (دیکھئے یہ انجینئر بھی ہر کام میں ماہر ہوتے ہیں کوئی اعلیٰ ترجمہ کرتا ہے اور کوئی ایٹم بم بنا دیتا ہے) نے کیا مگر عرض مترجم میں لکھا ہے کہ آپؐ ساتویں صدی عیسوی میں تشریف لائے جبکہ آپؐ کی پیدائش 17جون 569صدی عیسوی کی ہے جو انجینئرنگ کے حساب سے چھٹی صدی عیسوی ہے۔ کتاب کا نام ’’سیرتِ محسن انسانیتﷺ۔ بانیٔ اسلامؐ کی حیات طیبّہ اور جدّوجہد کا ایک مختصر جائزہ‘‘ ہے اس کتاب کو کراچی سے خوبصورت شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف اور مترجم نے ایک نیا دین کیوں، بعثت اور اس کی اساس، تبلیغ، معراج، یثرب (مدینہ) مکہ سے تعلقات، دوسرے عرب قبائل سے تعلقات، یہودیوں سے تعلقات، بیرونی ممالک سے تعلقات، سماج کی تنظیم، آپؐ کی تعلیمات کا تحفظ، آپؐ کی تعلیمات کا مختصر جائزہ، اس دور کا سماج، آپؐ کے کام کی تعریف، دنیاوی زندگی کا اختتام، تدفین اور جانشینی پر تبصرہ کیا ہے۔

ایک دوسری نہایت اعلیٰ کتاب جناب محمد اسلام نشتر کی ہے جس کا عنوان ہے ’’سیرتِ رسولِ عربیؐ اور ریاستِ مدینہ میں قومی زبان کا مقام‘‘۔ مصنف محمد اسلام نشتر میرے نہایت عزیز، پیارے دوست حاجی محمد حنیف طیب (ڈاکٹر) سابق وفاقی وزیر کے پیارے دوست ہیں۔ حاجی صاحب دل وجان سے فلاحی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور ایک فلاحی اسپتال اور ڈائیلاسیز سینٹر کراچی میں چلا رہے ہیں۔ میں نے کئی بار اس کا دورہ کیا ہے اور ہمیشہ پہلے سے بہتر خدمت کرنے والا پایا ہے۔ اللہ پاک ان کو جزائے خیر دے۔ آمین! اس کتاب میں بھی مصنف نے سیرتِ رسولؐ پر بہت روشنی ڈالی ہے۔

یوں تو غیرمسلموں تک نے رسول اللہﷺ کی سیرت، کردار، اخلاق کی بے حد تعریف کی ہے لیکن آپؐ نے جو خطبہ الوداع 9؍ذوالحج 10ہجری کو عرفات میں دیا تھا وہ ایک ایسی دستاویز اور ایسی تقریر ہے کہ غیر مسلم بھی اس کو بے حد پسند کرتے ہیں اور اس کو اخلاق کی بلندی تصور کرتے ہیں۔ آپؐ نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سن لو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد پھر بھی میں اس موقع پر تمہارے درمیان ہوں گا۔

تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ یہ یوم النحر یعنی قربانی کا دن ہے۔ تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ حرمت کا مہینہ ہے۔ پس میں تمہیں اطلاع دیتا ہوں کہ تمھارے خون اور تمھارے مال اور تمہاری عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرمت کا استحقاق رکھتی ہیں‘ جیسے اس حرمت والے شہر میں اس حرمت والے مہینے میں یہ حرمت والا دن۔ دیکھو حاضر غائب کو یہ بات پہنچا دے اور تم اپنے رب سے ملنے والے ہو، سو وہ تم سے تمھارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ آج تمام سُود کی رقمیں چھوڑی جاتی ہیں اور عباس بن عبدالمطلب کے سود کی رقم بھی چھوڑی جاتی ہے۔ آج تمام خون جو جاہلیت میں ہو چکے ان کا قصاص موقوف کیا جاتا ہے اور سب سے پہلے ربیعہ بن الحرث ابن عبدالمطلب کے خون کا قصاص موقوف کیا جاتا ہے۔

اے لوگو! شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہاری سرزمین میں اس کی عبادت پھر کبھی ہو لیکن اس کے سوائے (بت پرستی کو چھوڑ کر) اگر اور امور میں اس کی اطاعت کی گئی، ایسے اعمال میں جنہیں تم حقیر خیال کرو تو یہ اس کی خوشی کا موجب ہو گا۔ پس اپنے دین میں اس سے بہت احتیاط کرو۔ پھر اے لوگو! تمہارے تمہاری بیویوں پر حق ہیں اور تمہاری بیویوں کے تم پر حق ہیں۔ وہ تمہارے ہاتھوں میں خدا تعالیٰ کی امانت ہیں۔ پس تم ان سے نیک سلوک کرو اور تمہارے غلام… دیکھو تم ان کو وہ خوراک دو جو خود کھاتے ہو اور وہ لباس پہنائو جو تم خود پہنتے ہو۔

اے لوگو! میری بات کو سن لو اور اسے سمجھ لو۔ جان لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تم سب بھائی یکساں ہو اور تم سب ایک ہی سلسلہ اخوت میں ہو۔ پس کسی شخص کے لئے اپنے بھائی سے کچھ لینا جائز نہیں مگر وہی جو وہ اپنے نفس کی خوشی سے خود دے پس اپنے لوگوں پر ظلم مت کرو یعنی ان کا کوئی حق مت چھینو‘‘۔

یہ خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپؐ نے بلند آواز سے پوچھا کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا ’’ہاں! بے شک آپؐ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا‘‘.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں