مظہر برلاس 0

سیاست کی آنکھیں

59 / 100

سیاست کی آنکھیں
مظہر برلاس
چکوال کے رہائشی ڈاکٹر مرتضیٰ راجہ کا شمار لندن کے چند اہم ڈاکٹروں میں ہوتا ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل لاہور کے فارغ التحصیل ڈاکٹر مرتضیٰ راجہ مسائل کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھنے کے قائل ہیں۔ چند روز قبل اسلام آباد میں ایک چمکتی دوپہر کو اُن سے ملاقات ہوئی، بہت شاندار دھوپ تھی اُنہوں نے خالصتاً چکوالی لہجے میں کہا ’’ایس دھپ دا سواد وکھرا، ایس دھپ نوں ترسدے آں‘‘۔ یہ جملے سننے کی دیر تھی کہ میرے اندر کی پرانی دانشوری جاگی تو میں نے سوال داغ دیا کہ ڈاکٹر صاحب! ہمارے جو لوگ انگلستان میں جا بسے ہیں، وہ زیادہ تر ہڈیوں کے امراض کا شکار ہیں، میرا یہ خیال ہے کہ اِس دنیا کو تخلیق کرنے والے خدا نے ہر علاقے کیلئے الگ موسم، الگ جانور، الگ پرندے، مختلف پھل اور فصلیں، لباس حتیٰ کہ انسان، سب کچھ الگ الگ بنایا ہے، سب کے رنگ الگ، رہن سہن الگ، دھوپ چھائوں کے منظر بھی الگ بنائے ہیں۔ مثلاً مری یا کشمیر میں گائے اور بکری پہاڑوں پر چڑھتی اور اُترتی ہیں مگر ساہیوال یا ملتان کی گائے اور بکری یہ کرتب نہیں کر سکتیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ مری اور کشمیر جا کر مر جائیں یا اپنی ٹانگیں تڑوا بیٹھیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ راجہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کہنے لگے کہ ’’گوری جسامت کے لوگ جب افریقہ جاتے ہیں تو دھوپ کی وجہ سے اُن کے جسموں پر چھالے بن جاتے ہیں مگر وہاں کے مقامی لوگ بالکل درست رہتے ہیں‘‘۔

جیسے باقی باتیں مختلف ہیں، اِسی طرح حکومتیں بنانے اور گرانے کے طریقے الگ الگ ہیں، غم اور خوشی کے اظہار کے طریقے الگ ہیں، لڑنے کے انداز مختلف ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے ہاشمیوں کا تلوار چلانے کا انداز مختلف تھا، اِسی لئے جب ایک جنگ میں حضرت علیؓ کے فرزند حضرت عباس علمدارؓ نے بڑی بہادری سے تلوار چلائی تو مخالفین میں سے چند جنگجو سوچنے لگے کہ یہ علیؓ کا فرزند کیا ہے، اِس کا تو تلوار چلانے کا انداز ہاشمیوں سے مختلف ہے؟ جب یہ سوال بزرگ جنگجوئوں کے سامنے آیا تو اُنہوں نے کہا کہ ’’حضرت علیؓ نے ایک شادی فلاں قبیلے میں کی ہوئی ہے، تلوار چلانے کا یہ انداز اس قبیلے کا ہے، لگتا ہے اس بہادر نوجوان نے تلوار چلانے کا فن اپنے ننھیال سے سیکھا ہے‘‘۔ سو دوستو! خطے میں تہبند، کرتا اور پگڑی کو معدوم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے، ہمارے رسم و رواج، ملبوسات اور خوراک مغربی دنیا سے کہیں عمدہ ہیں، ہمارے مطابق ہیں۔ یہ تمام باتیں مجھے اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ 27دسمبر کو بےنظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ’’حکومت نکالنے کا طریقہ بدلنا ہوگا‘‘ اِن کا یہ جملہ بتا رہا ہے کہ اُنہیں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے اختلاف ہے، جس انداز سے پی ڈی ایم حکومت گرانا چاہتی ہے۔ آصف علی زرداری اس انداز کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے حوالے کے طور پر پرویز مشرف کا تذکرہ بھی کر دیا ہے۔ حالیہ سیاسی موسم میں پیپلز پارٹی کئی حوالوں سے کامیاب رہی ہے، وہ ان تمام لوگوں کو بھٹو کی قبر کی زیارت کروانے میں کامیاب رہی ہے جو لوگ بھٹو کے خلاف تحریک چلاتے رہے، جو بھٹو کی موت کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ پیپلز پارٹی ان لوگوں کو بھی گڑھی خدا بخش لے جانے میں کامیاب رہی جو محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے خلاف بدترین مہم چلایا کرتے تھے، جنہوں نے عورت کی حکمرانی کی مخالفت کی، وہ بھی ان کی قبر پر گئے جنہوں نے ان کے خلاف اشتہاری مہم چلائی تھی۔ پاکستان کا سب سے بڑا عجیب سیاسی منظر یہ تھا کہ وہ لوگ بھی لاڑکانہ میں تھے جو آصف علی زرداری کو لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنا چاہتے تھے۔ وہ بھی جو الیکشن مہم میں کہتے تھے ’’عمران، زرداری بھائی بھائی‘‘ لوگوں نے دیکھا کہ وہ لوگ ایسے لوگوں کا استقبال کر رہے تھے جن کو ضیاء الحق کی اولاد کہتے تھے، ملک کے لئے سب سے بڑی بیماری قرار دیتے تھے۔ اقتدار کے لئے سیاستدان کیا کچھ کر جاتے ہیں، یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے ہر الیکشن میں کسی نہ کسی طرح دھاندلی ضرور ہوئی ہے، طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ 70کے الیکشن بڑے صاف شفاف ہوئے تھے مگر اس کے نتائج بھی تسلیم نہیں کئے گئے تھے۔ جیسے میں نے الگ الگ انداز کی پوری کہانی بیان کی ہے اسی طرح پاکستان کی سیاست دوسرے ملکوں سے الگ ہے۔ پاکستان میں سیاسی اتحاد بھی اشاروں کے بغیر نہیں بنتے، پہلے حکومتیں اور انداز میں گرائی جاتی تھیں۔ اب طریقہ کار بدل گیا ہے اب یہ کام انصاف کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی کر دیتا ہے جس پر تبصرے اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں، اسی دوران ان کے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے کیلئے اتنے آئی جی تبدیل کئے گئے‘‘ اب ان لوگوں سے سوال ہے کہ اگر شہباز شریف اتنا ہی اچھا کام کر رہا تھا تو پھر لاہور میں لوگوں کے گھروں اور پلاٹوں پر قبضے کیوں ہوئے تھے؟ کارکردگی کے آئینے میں یہی ایک سوال کافی ہے۔ باقی رہی سیاست تو پاکستانی سیاست کے سینے میں دل نہیں، دل تو دل رہا پاکستانی سیاست کی آنکھیں بھی اندھی ہیں۔ وہ لوگ، لوگوں کو چکر دے رہے ہیں جو نہ یہاں کی زبان بولتے ہیں، نہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی یہاں سے علاج کرواتے ہیں، برینڈڈ جوتے اور کپڑے پہننے والوں سے کیا پوچھا جائے جو ترقی کرتے ہوئے پاکستان کو تنزلی کی طرف لے گئے۔ بقول وصی شاہ ؎

سب کا محبوب مشغلہ ہے یہاں

آئیے پگڑیاں اچھالتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں