ڈاکٹر مجاہد منصوری 14

سکھوں اور کشمیریوں کے روزگار پر مودی حملہ

54 / 100

سکھوں اور کشمیریوں کے روزگار پر مودی حملہ
ڈاکٹر مجاہد منصوری
حکومت اور اپوزیشن ہوش کے ناخن لیں۔ ملک کی شمال مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے اُس پار کیا ہو رہا ہے؟ جو ہو رہا ہے، ہمارے سیاسی رہنما بھی اُسے بھارت کا ’’داخلی معاملہ ‘‘ ہی سمجھ رہے ہیں؟ جیسے عرب بھائی 17ماہ سے محصور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو یہی سمجھ رہے ہیں۔ ذمے داران اُس کا کوئی تجزیہ کر رہے ہیں؟ ہماری طویل مشرقی سرحد کے سب سے حساس حصے کے اُس پار جنگی اتحادیوں کی مدد سے مرضی کی محدود اور مختصر المدت جنگ سے کچھ کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کی سلامتی پر ایک مستقل تلوار لٹکا کر لاوے میں تبدیل اپنے مشرقی پنجاب، چندی گڑھ اور ہریانہ جیسے صوبوں کے اقتصادی، سماجی اور سیاسی خدوخال تبدیل کرکے اُن صوبوں کو بھی مکمل ہندوتوائی رنگ میں تبدیل کیا جائے، جیسا کہ یوپی کو ایک جوگی وزیراعلیٰ کے سپرد کرکے مسلم آبادی کے مخالف یہ دھندہ جاری ہے۔ بھارت کے اناج گھر مشرقی پنجاب میں ’’ہندوتوا‘‘ کے مخالف رویوں کو دیکھتے ہوئے وہاں کے سب سے بڑے اور بنیادی (برائے روزگار) ذرائع ہائے روزگار، زرعی سیکٹر پر اصلاحات اور ترغیب کے نام پر پوری کسان آبادی کو مودی کے پشت پناہ کارپوریٹ سیکٹر کے رحم وکرم پر لانے کیلئے زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کو تبدیل کرکے مودی نواز سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے کا بل، مشرقی پنجاب خصوصاً اور کہیں کے بھی کسانوں کو اعتماد میں لئے بغیر اُن پر تھوپ دیا گیا ہے۔ واضح رہے بھارت میں زراعت کا مرکز و محور تو پنجاب ہی جہاں کی اکثریت سکھ کسان آبادی پر مشتمل ہے۔ ’’خالصتان‘‘ کے قیام کی تحریک بھارت میں تو کچل دی گئی لیکن یہ اب بین الاقوامی سطح پر اپنی مضبوط جڑیں بنا چکی ہے۔ سو اِس کا سرگرم ہونا اور پنجاب کی سرحد کا پاکستان کے ساتھ ملنے کا دھڑکا، پھر مودی حکومت کےاقلیت مخالف رویے نے بھارتی پنجاب میں ملک کی سلامتی کو ایک بڑا اور نیا خطرہ تو واقعی پیدا کر دیا ہے لیکن اُس کے توڑ کے لئے مودی نے زرعی پیداوار کی خریداری کے صدیوں سے جاری نظام کو بدل کر صرف کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعے کرنے کےیکطرفہ نافذ قانون نے بھارتی سلامتی کے لئے خطرے میں یکدم اضافہ کر دیا ہے۔ متنازع قانون پر پنجاب، چندی گڑھ اور ہریانہ کے سکھ ہی نہیں ہندو کسان بھی اٹھ کھڑے ہوئے، بھارت بھر میں اُس کے خلاف کسانوں کا احتجاج ہو رہا ہے۔ مودی ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا جبکہ دہلی کی اپنی منتخب حکومت بھی احتجاجی کسانوں کی ہمنوا ہے، جس سے بھارتی مرکزی اقتدار کا نظام تلپٹ ہو گیا اور تو اور بھارت کا کارپوریٹ سیکٹر کے سرمایے سے چلنے والا مودی نواز مین اسٹریم ’’گودی میڈیا‘‘ اِس صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے، جو پنجاب کے لاکھوں احتجاجی سکھوں پر خالصتانی ہونے اور پاکستان کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کر رہا ہے جبکہ احتجاجیوں نے اپنے لگے بندھے مطالبے کے علاوہ کوئی بات اب تک نہیں کی لیکن سکھ قوم یکدم بپھر جانے کا اپنا اجتماعی مزاج رکھتی ہے۔ مودی سرکار نے 5اگست جیسی کشمیریوں کیخلاف کی گئی بھڑکا دینے والی قانون سازی کی طرح کسانوں کے بھی پیٹ پر وار کیا ہے، نئے قانون سے سب سے زیادہ پنجاب متاثر ہوا ہے، جہاں کے کسانوں کی بھاری اکثریت سکھوں پر مشتمل ہے۔ زراعت ہی ان کا روزگار اور سماج۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھی سیبوں کے باغات کے باغات کو اجاڑنے اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی کھیتوں پر قبضے کرکے غریب مسلمان کاشت کاروں کا روزگار ختم کرکے صدیوں سے آباد دیہات کو خالی کرانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

آباد گھرانوں کے اہلخانہ (خصوصاً خواتین) پر انسانیت سوز مظالم ڈھا کر غریب کسانوں اور سیب کے باغ اجاڑ کر اُنہیں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور یہاں ’’ہندو توا‘‘ کے سرمایہ کار پیروکاروں کو آباد کرنے کا گھنائونا جرم دھڑلے سے جاری ہے۔ جعلی انتخابات کے بعد تیزی سے مکمل مرضی کا انتظامی ڈھانچہ بنایا جا رہا ہے۔ بڈگام ضلع میں کمزور اقتصادی حالت کی حامل گجر برادری کو دیہات سے بےدخل کرنے اور اُن کے فقط چھوٹے چھوٹے ذرائع روزگار اور مال اسباب کو بےرحمی سے اجاڑنے کے لئے صدیوں سے آباد اُن دیہاتیوں پر ناجائز تجاوزات قائم کرنے کا الزام لگا کر مسلح پولیس کی نگرانی میں واردات کرتا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ کسانوں نے سیب کے 10ہزار درخت کاٹ پھینکنے کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت پاکستان اور ہماری حددرجہ غیرذمے داری میں مبتلا سیاسی جماعتیں اسے فقط بھارت کا داخلی معاملہ نہ سمجھیں، کشمیر پر اپنی روایتی بےبسی کو ہر حال میں ختم کریں جو کچھ ہوا اسے جاری رکھیں۔ موجودہ اسٹیٹس کو میں بھی مقبوضہ کشمیر اور مودی مخالف بھارتی پنجاب ہمارے حساس ترین بارڈر ایریاز کے درمیان ایک بفرزون ہے۔ اگر مودی حکومت اپنے بےنقاب ہونے والے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی تو اِس بار فقط بھارت نہیں اُس سے زیادہ وہاں موجود اُسکے ’’دفاعی پارٹنر‘‘ ہوں گے جو پاکستان کیلئے سلامتی کا ایک نیا بڑا خطرہ بنیں گے، جو کہ پیدا ہو چکا۔ اِس لحاظ سے پاکستان اپنے اسٹرٹیجک پارٹنرز، جو ہیں اور جو بنتے نظر آرہے ہیں، کو فوراً انگیج کرکے اُنہیں صورتحال سے مفصل آگاہ کرے۔ پاکستان کی سلامتی، اُن کی اپنی سلامتی اور اقتصادیات کے حوالے سے بڑا ہدف بن گیا ہے۔ اِس سازگار صورتحال کا فوری فائدہ اٹھا کر اپنی دفاعی سکت میں اضافہ اور بھارت کی ڈگمگائی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی برین اسٹارمنگ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں