نصرت جاوید 0

سوشل میڈیا کے ’’نیٹ فلیکس‘‘ کا دور

4 / 100

سوشل میڈیا کے ’’نیٹ فلیکس‘‘ کا دور
اجتماعی طورپر نہایت ڈھٹائی سے ہم ایک مہذب اور دین دار معاشرہ ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ہماری روزمرہّ زندگی کے حقائق اور رویے اگرچہ ہماری ’’اصلیت‘‘ کو مسلسل عیاں کرتے رہتے ہیں۔خود کو دھوکا دینے ہی میں تاہم عافیت محسوس ہوتی ہے۔حقائق کو تسلیم کرلینا زندگی کو اذیت ناک بناسکتاہے۔

ذہنی کوفت اور اذیت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے مثال کے طورپر گزشتہ دو روز سے اپنا ٹویٹر اکائونٹ دیکھنے سے گریز کو ترجیح دے رہا ہوں۔اسے کھولیں تو سکرین پر “Top Trend”والی اطلاع نمودار ہوجاتی ہے۔اس کے ذریعے ’’خبر‘‘ ہمیں یہ دی جاتی ہے کہ ٹویٹر استعمال کرنے والوں کی اکثریت ان دنوں کونسے موضوعات پر ہیجان خیز بحث میں اُلجھی ہوئی ہے۔پاکستان میں ان دنوں مقبول ترین ہوئے Trendsہمارے سیاسی فریقین کی خواتین کو غلیظ القاب اور رکیک فقروں کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان پر ڈالی سرسری نگاہ مجھ جیسے ڈھیٹ شخص کا خون بھی کھولا دیتی ہے۔سوشل میڈیا پر واہی تباہی روکنے کا مؤثر نظام فقط چین اور ایران جیسے ممالک کو میسر ہے۔یہ نظام اگرچہ ’’اخلاقی اقدار‘‘ کی حفاظت کے بجائے حکمرانوں کو عوام کے حقیقی مسائل سے بے خبر رکھنے کے کام آتا ہے۔’’اظہارِ رائے‘‘ کے عادی افراد کو یہ نظام ’’آمرانہ‘‘ محسوس ہوتا ہے۔پاکستان میں ویسا ہی نظام متعارف کروانے کو ہمارے حکمران بہت بے چین ہیں۔سوشل میڈیا چلانے والی عالمی کمپنیوں کو للکارنے کی سکت ہم میں لیکن موجود ہی نہیں۔حکمران جماعت کے پالے غول بلکہ ٹویٹر جیسی Appsکو غلاظت بھرے پیغامات کی بھرمار سے اپنے مخالفین کی بھد اُڑانے کے لئے استعمال کرنے میں بسااوقات پیش قدمی لیتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ دو برسوں سے دُنیا بھر میں انسانی نفسیات کے مستند ماہرین طویل تحقیق کے بعد مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال نشے جیسی علت ہے۔ہمارے دلوں میں اُبلتے غصے کو مزید بھڑکاتا ہے۔دِلوں کو Toxicیعنی زہر آلودبنادیتا ہے۔مذکورہ تحقیق مگر صارفین کی بے پناہ اکثریت کو فیس بک یا ٹویٹر سے گریز کی جانب مائل کرنے میں قطعاََ ناکام رہی ہے۔ کرونا کی وباء نے دُنیا بھر میں بے تحاشہ دھندوں کا بھٹہ بٹھادیا ہے۔ٹویٹر اور فیس بک چلانے والی کمپنیوں نے مگر کسادبازاری کے اس موسم میں بھی ریکارڈ ساز منافع کمایا ہے۔کرونا کی وجہ سے Work From Homeکا رویہ بھی فروغ پارہا ہے۔اس رویے کے ہوتے ہوئے Toxic Appsسے اجتناب مزید دشوار ہوتا جارہا ہے۔انٹرنیٹ کے البتہ بے شمار مثبت پہلو بھی ہیں۔ اس کی بدولت مثال کے طورپر ہم Live Streamingسے روشناس ہوئے ہیں۔ کرونا کی وجہ سے سینما ہائوسز کی بندش سے چند سال قبل ہی Netflixنے اس کے ذریعے تخلیقی فلم سازی کی حوصلہ افزائی کی۔اس کی بدولت باکس آفس پر کھڑکی توڑ رش لینے والے فلم ڈائریکٹر اور لکھاری بھی چند ایسی فلمیں بنانے کے قابل ہوئے جنہیں وہ اگر سینما ہائوسز کے لئے تیار کرتے تو ’’ڈبہ‘‘ ہوجانے کے خوف سے کوئی فلم ساز ان پر سرمایہ لگانے کو تیار نہ ہوتا۔میڈیا کے دھندے پر نگاہ رکھنے والے محققین اصرار کررہے ہیں کہ کرونا کے خاتمے کے بعد سینما ہائوسز دوبارہ کھلے تب بھی لوگوں کی بے پناہ تعداد اپنے گھروں میں بیٹھ کر Live Streamingوالی فلمیں دیکھا کرے گی۔کرونا کے نمودار ہونے سے قبل فلم سازی کے دھندے پر چھائے اجارہ دار اس امر کو یقینی بناتے تھے کہ فلم کو انٹرنیٹ کے ذریعے Live Streamکرنے سے قبل کم از کم تین مہینوں تک اسے محض سینما ہائوسز میں دکھایا جائے۔اس شرط پر عملدرآمد اب ناممکن نظر آرہا ہے۔اس ہفتے کے آغاز سے میں اپنے میڈیا پر چھائے اینکر خواتین وحضرات کی جانب سے ہوئی’’ذہن سازی‘‘ کے عمل کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔یہ حقیقت واقعتا غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کے روبرو خو دکو ’’صادق اور امین‘‘ ثابت کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے کسی بھی عوامی عہدے کے لئے ’’نااہل‘‘ قرار پائے نواز شریف ان دنوں لندن میں براجمان ہوئے بھی ہمارے عوام کی ایک مؤثر تعداد کو اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئے خطاب سے ’’گرمانے‘‘ میں کامیاب کیوں ہورہے ہیں۔مریم نواز صاحبہ کی پذیرائی ’’موروثی سیاست‘‘ کی اہمیت بھی اجاگر کررہی ہے۔’’اچھی حکومت‘‘ اور ’’صاف ستھری سیاست‘‘ کے فروغ پر دل وجان سے مامور میرے کئی محترم اور عوام میں بے پناہ مقبول ساتھی اس ضمن میں قطعاََ بے بس وناکام نظر آرہے ہیں۔میڈیا کے ذریعے عوام کی ’’ذہن سازی‘‘ والے عمل پر غور کرتے ہوئے مجھے حال ہی میں Netflixکے ذریعے ریلیز ہوئی ایک تازہ ترین فلم کو دوبارہ دیکھنا پڑا۔ Mankنامی یہ فلم درحقیقت ایک ایسے لکھاری کی داستان ہے جس نے Citizen Kaneنامی شہرئہ آفاق فلم لکھی تھی۔1940میں بنی اس فلم کے ڈائریکٹر Orson Wellesاور لکھاری Herman Mankiewiczکو آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا۔نظر بظاہر Herman Mankiewicz جسے ہالی ووڈ میں Mankپکارا جاتا تھا کی زندگی پر فوکس کرنے والی اس فلم میں زندگی کے بے شمار پہلوئوں کو کمال مہارت سے اجاگر کیاگیا ہے۔دورِ حاضر میں 1930کی دہائی کے ابتدائی برسوں والے امریکہ کو مؤثر اور حقیقت پسندانہ انداز میں دکھانے کے لئے مذکورہ فلم بلیک اینڈ وائٹ میں بنائی گئی ہے۔اس فلم کا ہیرو یعنی مانک ایک بہت ہی ذہین لکھاری ہے۔اس دور کساد بازاری کی وجہ سے نازل ہوئی اذیتوں کو اس کا حساس دل بہت شدت سے محسوس کرتا ہے۔اپنے دُکھ پر ماتم کنائی کے بجائے مگر وہ پھکڑپن والا رویہ اختیار کرلیتاہے ۔ اپنے کاٹ دار فقروں کی وجہ سے وہ فلم سازی اور اخباری صنعت کے اجارہ دار سیٹھوں میں بہت مقبول ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی پارٹیوں کو ’’پُررونق‘‘ بنانے کے لئے اسے ’’درباری مسخرے‘‘ کے طورپر مدعو کرتے ہیں۔اس ضمن میں اس دور کی اخباری صنعت کا اہم ترین اجارہ دار William Randolph Hearst مانک کا سب سے بڑا مداح بن جاتا ہے۔عمومی طورپر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ Citizen Kaneنامی فلم درحقیقت اس نے مذکورہ اجارہ دار کی بابت لکھی تھی۔ْمانک فلم نے تاہم مجھے میڈیا کے ذریعے عوام کی ’’ذہن سازی‘‘ والے عمل کو سمجھنے میں حیران کن مدد فراہم کی۔اس فلم کے Subplotمیں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر کا انتخاب بھی دکھایا گیا ہے۔1929میں نازل ہوئی کساد بازاری کی وجہ سے ان دنوں امریکی عوام کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔ عوامی پریشانیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دردمند ناول نگار Sinclairگورنر کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔اپنی انتخابی مہم میں وہ اصرار کرتا ہے کہ عوامی مسائل کا واحد حل سوشلزم جیسے نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔عوام میں اس ناول نگار کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ’’نظام کہنہ‘‘ کے حامی اجارہ داروں کو پریشان کردیتی ہے۔وہ یکجا ہوکر فلم سازوں اور مختلف ریڈیواسٹیشن چلانے والے سیٹھوں کو اس امر پر اُکساتے ہیں کہ وہ ’’ذہن سازی‘‘ والے ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے Sinclairکو امریکی نظام کے لئے ’’خطرہ‘‘ دکھائیں۔ لوگوں کو قائل کریں کہ Sinclairعوامی دُکھوں کے ازالے کے بجائے امریکہ میں ہٹلر کی متعارف کردہ ’’فسطائیت‘‘یا سوویت یونین میں موجود ’’لادینی کمیونزم‘‘ مسلط کرنا چاہ رہا ہے۔سینما ہائوسز میں ان دنوں کسی فلم کی نمائش سے قبل ’’نیوزریلیز‘‘ کے ذریعے ناظرین کو ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ سے باخبر رکھنے کی کاوش بھی ہوتی تھیں۔میرے بچپن میں بھی ہمارے سینما ہائوسز میں فلم کی نمائش سے قبل ’’پاکستان کا تصویری خبرنامہ‘‘ دکھایا جاتا تھا۔فلمی صنعت کے اجارہ دار سیٹھ اپنے تنخوا ہ دار ڈائریکٹروں اور لکھاریوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایسے ’’خبرنامے‘‘ تیار کریں جو عوام کو قائل کردیں کہ Sinclairایک ’’دونمبری‘‘ شخص ہے۔ماہانہ تنخواہ لینے والوں کی اکثریت مگر ’’جھوٹے‘‘ خبرنامے تیار کرنے کو دل سے آمادہ نہیں۔وہ سیٹھوں کو بتاتے ہیں کہ ’’خبرنامہ‘‘تیار کرتے ہوئے ’’عوام کی رائے‘‘ گھڑی نہیں جاسکتی۔ بہت رعونت سے مگر ان کے سیٹھ تنخواہ دار ’’تخلیق کاروں‘‘ کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ اپنے ہنر کے ذریعے کسی 42سالہ خاتون کو بیس برس والی دوشیزہ بناکر دکھاتے ہیں۔Sinclairکو وِلن ثابت کرنے میں ان کا ’’ہنر‘‘ کیسے ناکام رہ سکتا ہے۔ فضول بحث کو چھوڑو۔ ماہانہ تنخواہ چاہئے تو Sinclairکو امریکہ کے لئے ’’خطرہ‘‘ بناکر دکھائو۔ کوئی ایک لکھاری بھی کسادبازاری کے اس موسم میں بے روزگار ہونے کی اذیت وذلت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔وہ سب ویسے ہی ’’خبرنامے‘‘ تیار کرنا شروع ہوجاتے ہیں جن کا حکم دیا گیا ہے۔ان کے ’’ہنر‘‘ کی بدولت بالآخر Sinclairبھاری اکثریت سے ناکام ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں