jabbar-mufti 14

سوسنار کی ایک لوہار کی

48 / 100

سو سنار کی ایک لوہار کی
جبار مفتی
بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا کہ اگر جھگڑے کے فریقین میں سے ایک بھی عقلمند ہو تو دھاگہ بھی نہیں ٹوٹتا،لیکن اگر دونوں پاگل اور بیوقوف ہوں تو سنگل (لوہے کی بھاری زنجیر) بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ وضاحت اس کی یہ کی جاتی تھی کہ عقلمند آدمی کی ترجیحات میں مقاصد کو اہمیت حاصل ہوتی ہے، غصے کو نہیں، وہ دھاگہ حاصل کرنے کی کوشش میں اس کے ٹوٹنے کا باعث نہیں بنے گا اور بہتر موقع کے انتظار میں اپنے ہاتھ سے چھوڑ دے گا۔ دھاگہ سلامت رہے گا اور پھر کسی اچھے وقت میں موقعہ دیکھ کر وہ اس کے حصول کی کامیاب کوشش بھی کرے گا اور اگر دھاگہ ہی ٹوٹ گیا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ یہ بات حالیہ دنوں میں متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں اور حکومتی ٹیم کے کپتان کے فرمودات اور خیالات سننے پر یاد آئی۔ متحدہ اپوزیشن اپنی احتجاجی تحریک کے سلسلے کے پہلے دو جلسے کر چکی ہے، متعدد مزید کرنے ہیں۔ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسے اپنی حاضری اور شرکاء کے جوش و جذبے کے حوالے سے کامیاب ہی نہیں، بہت کامیاب رہے۔ پہلا جلسہ جمعہ 16 اکتوبر کو ایسی جگہ ہوا جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے۔ گوجرانوالہ ضلع کی قومی اسمبلی کی سات کی سات اور صوبائی اسمبلی کی چودہ کی چودہ نشستیں مسلم لیگ (ن) کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاتی امرا سے مریم نواز، لاہور سے مولانا فضل الرحمن، لالہ موسیٰ سے بلاول بھٹو زرداری، فیصل آباد سے رانا ثناء اللہ اور سیالکوٹ سے خواجہ آصف کے جلوس ابھی گوجرانوالہ پہنچے ہی نہیں تھے کہ سٹیڈیم مقامی شرکاء نے ہی بھر دیا۔
اسی روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ یہ اجلاس شیڈول کے مطابق پیر 19 اکتوبر کو ہونا تھا، مگر حکمرانوں نے جمعہ 16 اکتوبر کو طلب کر لیا تاکہ وزیر اعظم اس سے پُر سکون ماحول میں خطاب کر سکیں۔سوچا گیا کہ ایک تو اپوزیشن کے تمام ارکان قومی اسمبلی گوجرانوالہ جلسے میں ہوں گے تو وزیر اعظم کے خطاب میں کوئی بدمزگی یا ہنگامہ آرائی نہیں ہو گی۔ دوسرا وزیر اعظم کی تقریر تمام چینل براہ راست نشر کریں گے تو اپوزیشن کا جلسہ پس منظر میں چلا جائے گا، مگر ہوا یہ کہ اپوزیشن نے بھی تیاری کر لی۔ ایک تہائی کے قریب اراکین کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ضروری اقدامات کی ہدایت کر دی گئی۔ وہ لکھے ہوئے کتبے لے کر اجلاس میں پہنچ گئے،پھرجونہی وزیر اعظم اجلاس میں پہنچے، اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ کر دیا۔
اتنی شدید نعرے بازی کی کہ وزیر اعظم کو تقریر کئے بغیر ہی ایوان سے جانا پڑا۔ اسی روز تیسرا واقعہ لندن میں میاں نوازشریف کے بیٹے حسن نواز کے کاروباری دفتر کے سامنے مظاہروں کا تھا۔ نوازشریف اسی دفتر سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے پاکستانی سامعین و ناظرین سے خطاب کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دوستوں نے اعلان کر دیا کہ جس وقت سابق وزیر اعظم گوجرانوالہ کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، وہ اسی وقت اس عمارت کے سامنے نعرہ زن ہوں گے تاکہ پاکستان میں موجود سامعین کو میاں نوازشریف کی آواز کے ساتھ مخالفانہ نعروں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ پی ٹی آئی کا یہ اعلان سن کرمسلم لیگ (ن) والے بھی اپنے قائد کی مدد کے لئے پہنچ گئے۔ اب ایک کی بجائے دو مظاہرے شروع ہو گئے۔ عمارت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگی کھڑے نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور سڑک کی دوسری جانب پی ٹی آئی والے کھڑے مخالفانہ نعرے لگا رہے تھے۔
اطلاع ملنے پر لندن پولیس بھی پہنچ گئی اور درمیان میں کھڑے ہو کر تصادم سے بچا لیا۔ یوں تینوں جگہوں پر یہ دن لیگیوں کا لگ رہا تھا۔
میاں صاحب نے تاریخ کی تلخ ترین تقریر کر ڈالی، جلسے کے شرکاء نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو نہ بخشا، پورا سٹیڈیم تندو تیز نعروں اور تقریروں سے گونجتا رہا۔ اگلے روز ہفتے کو اسلام آباد کنونشن سنٹر میں ٹائیگر فورس کے سینکڑوں پُرجوش نوجوانوں سے وزیر اعظم نے خطاب کیا، وہ شدید غصے میں تھے۔ انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ رات کے جلسے سے ایک نیا عمران خان پیدا ہو گیا ہے، اب وہ ان ”چوروں، ڈاکوؤں“ کو نہیں بخشیں گے۔ انہوں نے پھڈے باز لڑاکے کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ اب آؤ پاکستان تمہیں عام جیل میں ڈالوں گا، وہاں چکی پیسنا، اب وی آئی پی جیل نہیں ملے گی۔ انہوں نے غصے میں یہ تک کہہ دیا کہ اب کسی زیر حراست رکن پارلیمینٹ کو اجلاس میں شرکت کے لئے پروڈکشن آرڈر نہیں ملیں گے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم کو گیدڑ بھی کہا۔
اجلاس میں شرکت ہر رکن پارلیمینٹ کا آئینی استحقاق ہے، اس کے لئے طے شدہ آئینی طریقہ کار کے مطابق سپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینٹ انہیں جیل سے اجلاس میں لانے کا حکمنامہ جاری کرتا ہے، جس کی تعمیل انتظامیہ اور پولیس پر لازم ہے۔ سابق وزیر اعظم بھی جب سے بغرض علاج لندن گئے ہیں، خاموش تھے۔ اب کل جماعتی اجلاس میں بولے ہی بولے (بذریعہ وڈیو لنک) تو حیران پریشان کر گئے۔ دھاندلی اور متعدد اقدامات کے ذریعے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کا الزام مقتدرہ پر لگا دیا۔ وہ یہیں نہیں رکے، قدم بقدم آگے بڑھے۔ پہلے اشاروں میں باتیں کیں، پھر نام لیا، پھر براہ راست سابق ججوں اور جرنیلوں کے نام لئے اور جمعہ کو تو سیدھا سیدھا نام لے کر الزامات لگا دیئے۔ وہ بہت غصے میں نظر آئے۔ اتوار کو کراچی کے بڑے جلسہ عام میں بھی مقررین کا لب و لہجہ اور انداز جارحانہ تھا۔ اس طرح کی باتیں پہلے بھی ہوتی تھیں، مگر چھوٹی، علاقائی، قومیت پرست اور کم سیاسی اہمیت کی حامل جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف سے،لیکن اب سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی پارٹی کے قائد کی جانب سے کہی گئی ہیں، جس نے گزشتہ انتخابات میں سوا کروڑ ووٹ لئے۔ پاک فوج میں اس صوبے (پنجاب) کا حصہ بھی سب سے زیادہ ہے، اس لئے اس کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحارب سیاسی قوتوں کو یہ مشورہ دینے کو دل چاہ رہا ہے کہ ایک دوسرے کو خوفزدہ کرنے کی بجائے خود بھی خدا کا خوف کریں کہ کہیں ”سوسنار کی ایک لوہار کی“ نہ ہوجائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں