کیپٹن کرنل شیر خان شہید 113

سوانح حیات کیپٹن کرنل شیر خان شہید.

یہ ملک شہیدوں کی قربانیوں کا صدقہ ہے ویسے تو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں شہداء ہیں لیکن کچھ شہدا جہاں اپنے ملک کے لوگوں میں جزبہ جہاد اجاگر کر جاتے ہیں وہیں دشمن کی صفوںم میں خوف و ہراس بھی پھیلا جاتے ہیں آج ایک جری سپوت کی داستان حیات آپ کے سامنے حاضر ہے .
کیپٹن کرنل شیر خان شہید

کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنے کیرئیر کا آغاز فضائیہ میں بطور ائیر مین کیا اور اپنی قابلیت، ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر وہ پاک فوج میں کمیشنڈ آفیسر بنے اور 1999میں کارگل جنگ کے دوران دشمن پر ایک حملے کے دوران گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں سر پر کفن باھند کر دشمن سے لڑائی کی ۔ان کی ولولہ انگیز قیادت، بہادری اوروطن کے لئے لازوال قربانی کے اعتراف میں ان کی شہادت کے بعد انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزا،ز نشان حید ر سے نوازا گیا۔ وہ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے پہلے فوجی آفیسر ہیں، جنہیں نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔
خاندان اور نام :
کیپٹن کرنل شیر خان کا خاندان صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی سے ہے۔ضلع صوابی تربیلا ڈیم،ٹوپی اور مردان کے درمیان واقع ہے اور اپنی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت کیلئے مشہور ہے۔ ضلع کی مشہور فصلوں میں گندم ،گنا اور تمباکو شامل ہیں۔یعنی ایک زرعی شہر صوابی ،دریائے سندھ کے کنارے اور ضلع اٹک سے شمال کی جانب واقع ہے۔اس ضلع کے ایک گاؤں جون آباد میں شیر خان کا خاندان آباد ہے۔ان کے دادا جان ان سے بے حد پیار کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ اس خاندان میں ایک شخص اپنی بے خوفی ،دلاوری ، جانبازی اور شجاعت کے کارناموں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا اوراس کا نام شیر خان تھا۔ شیر خان نے 1948ء میں آزادی کشمیر کی جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور حقیقی معنوں میں بھارتی فوج کے چھکے چھڑا دئیے ۔اس دلیر اور بہادر شخص کے کارناموں سے کرنل شیر خان کے دادا بہت متاثر تھے۔چنانچہ جب ان کا پوتا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام کرنل شیر خان رکھا۔شیر خان کے نام کے ساتھ جو’’ کرنل‘‘ کا لفظ آتا ہے ان کا عہدہ یا رینک نہیں بلکہ ان کے دادا کی طرف سے رکھا گیا نام ہے۔ اکثر لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کیپٹن کرنل کا کوئی رینک تو پاک فوج میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے پھر یہ کیوں لکھا جاتا ہے۔بعد از تحقیق یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا اصل نام کرنل شیر خان ہی ہے اور ان کا رینک کیپٹن ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم:
کیپٹن کرنل شہید یکم جنوری 1970ء کو صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی کے ایک گاؤں ’’جون آباد‘‘ میں پیدا ہوئے۔شروع سے ہی ان کو والد گرامی اور دادا جان سے بہادری اور دلیری کی داستانیں سننے کو ملیں۔ان کے دادا شروع سے ہی ان کو ایک فوجی افسر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ ان کو کرنل کہہ کر مخاطب کرتے تھے چنانچہ جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو سبھی ان کو کرنل کہہ کر ہی مخاطب کرنے لگے۔یہ نام ان کے نام کا لازمی جزو بن گیا اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فوج میں شامل ہونا پسند کیا۔ان کی قابلیت دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جا سکتی تھی کہ ایک دن وہ واقعی کرنل بن جائیں گے مگر قدرت نے جو اعزاز ان کے مقدر میں لکھ دیا تھا وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔یہ اعزاز تھا نشان حیدر کا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے تعلیم اپنے گاؤں جون آباد میں ہی حاصل کی جبکہ میٹرک کا امتحان انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول ،نواں کلےصوابی سے نمایاں پوزیشن میں پاس کیا ۔وہ ایک ہونہار اور مستقل مزاج طالب علم تھے۔وہ نہ صرف یہ کہ ایک ذہین و فطین طالب علم تھے بلکہ ایک اچھے اتھلیٹ بھی تھے۔سکول اور کالج کے زمانے میں انہوں نے کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
فوج میں شمولیت:
کیپٹن کرنل شیر خان شہید میٹرک کرنے کے بعد پاک فضائیہ میں شامل ہوگئے۔وہ1987میں سترہ بر س کی عمر میں پاک فضائیہ میں بطور ائیر مین بھرتی ہوئے۔انہوں نے جب اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی تو ان کو شائین بچے کا خطاب دیا گیا۔اسی دوران انہوں نے ایف ایس سی کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ وہ ضروری تعلیم کے بعد 8 نومبر 1992ء کو بطور کیڈٹ منتخب ہوگئے۔انہوں نے 90 ویں لانگ کورس میں تیسری پاکستان بٹالین میں بطور جنٹل مین کیڈٹ دو سالہ تربیتی کورس کیا ۔اس کے بعد ان کو سندھ رجمنٹ کی ایک مایہ ناز یونٹ 27سندھ رجمنٹ میں تعینات کیا گیا۔کرنل شیر خان شہید کو ابتداء ہی سے اپنے وطن عزیز سے دلی لگاؤ تھا ۔ان میں ملکی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔یہ جذبہ اس وقت نکھر کر سامنے آیا جب وہ پاک فوج میں شامل ہو گئے۔کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو اچھی کتب کے مطالعہ کا بھی بے حد شوق تھا۔اسی لیے انہوں نے اپنے تمام تربیتی کورس نمایاں پوزیشن میں پاس کئے ۔کرنل شیر خان کو ان کی یونٹ والے ان کی بے پناہ شجاعت اور دلیری کی بنا پر شیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ شیرا کو ان کی یونٹ والے یقینی کامیابی کی علامت خیال کرتے تھے۔لفٹیننٹ کرنل کمال جو کہ ان کی یونٹ کے کمانڈر تھے نے بتایا کہ ان (شیرا ) کو یقینی فتح اور کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہر کام جو اس کو سونپا گیا اس میں دلچسپی اور ولولہ انگیزی دکھائی۔وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور جب بھی کسی کام کی ذمہ داری انہیں سونپی جاتی تو پھر ہم اس کام کو بھول جاتے کہ اب ہمارا شیرا اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لے گا۔صاف گوئی اور بے باکی شہید کا خاصہ تھی۔ وہ یونٹ کے بہترین نشانہ باز بھی تھے۔کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹس کوئٹہ سے پیشہ ورانہ کورسز کامیابی سے پاس کیے۔1997ء میں انہوں نے ٹیکنیکل کورس ملٹری کالج آف انجینئرز سے اچھے نمبروں میں پاس کیااور کالج میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ جس کی بلندی ساڑھے اٹھارہ ہزار فٹ ہے پر اپنی خدمات رضا کارانہ طور پر از خود پیش کیں۔وہ ہر کام کو بڑی تندہی اور چاہت کے ساتھ سر انجام دیتے تھے۔اگر انہوں نے اپنے کسی ماتحت سے کوئی کام لینا ہوتا تو پہلے وہ کام خود کرتے اور بعد میں اسے کہتے۔
دنیا کے بلند ترین محاذ پر:
یکم جنوری 1999ء کو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو نادرن لائٹ انفنٹری کی ایک یونٹ میں تعینات کیا گیا۔یونٹ محاذ کشمیر پر بھارت کے خلاف پہلے ہی بر سر پیکار تھی۔ان کو اپنے فرائض سے محبت اور لگن کے باعث اٹھارہ ہزار چار سو فٹ بلندی پر دفاعی نقطہ نظر سے ایک اہم ترین پوسٹ پر تعینات کیا گیا۔یہ پہاڑیاں بارہ ماہ ہی برف کی چادر اوڑھے ر ہتی ہیں اور یہاں کا درجہ حرارت ہر وقت منفی60ڈگری سنٹی گریڈ رہتا ہے۔پاک فوج کے جوان ان برفانی چوٹیوں پر بھی اپنے مورچے اور چوکیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔اب صورت حال خاصی مخدوش ہو چکی تھی۔ کیونکہ بھارت کی فوج ان چوکیوں پر قبضہ کرنا چاہتی تھی جس کیلئے روز بروز دباؤ بڑھا رہی تھی۔مگر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے پاک فوج کے نڈر اور دلیر جوانوں نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔بھارت نے جون کے آغاز میں ہی اس اہم ترین پوسٹ پر پے در پے حملے کرنا شروع کر دئیے۔ان کے حملوں میں چھوٹے خود کار ہتھیار اور توپ خانہ بھی شامل تھا۔جبکہ انہوں نے اپنی فضائیہ کی مدد بھی حاصل کر رکھی تھی۔ اس علاقے کا موسم بے حد سرد تھا۔اس موسم میں اپنے حواس کو قائم رکھتے ہوئے اپنا دفاع اور دشمن کا نقصان کرنا بہت ہی مشکل کام تھاجس کو پاک فوج کے جوانوں نے پورا کر دکھایا۔موسم کے علاوہ بھارت کی فضائیہ بھی تابڑ توڑ حملے کر رہی تھی مگر پاک فوج کے جوانوں کو مرعوب کرنے کی انہیں حسرت ہی رہی۔بھارت کی فوج نے اس پوسٹ پر قبضہ کرنے کے لیے متعدد حملے کیے مگربہادر جوانوں نے انہیں مار کر بھگایا۔
کارگل کے محاذ پر لڑائی:
مئی 1999ء کے وسط سے کنٹرول لائن کی صورت حال انتہائی پریشان کن تھی۔کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت شروع ہو چکی تھی اور کشمیری مجاہدین کے ٹھکانوں پر بھارت کی جانب سے زبردست گولہ باری ہونے لگی۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھارت کو وارننگ دی کہ اگر اس نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔مگر حالات بگڑتے رہے اور بھارت نے اپنی فضائیہ کو بھی میدان میں اتار لیا۔27 مئی کو بھارت کی فضائیہ کے گیارہ بجکر پچاس منٹ پر دومگ لڑاکا طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے۔ان کا مقصد پاک فوج کی ایک چوکی پر حملہ کرنا تھا یہ دونوں طیارے پاک ائر فورس نے مار گرائے اور اس طرح بھارت پر اپنی قوت کا سکہ جما یا۔بھارتی فضائیہ نے 1971ء کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پہلی مرتبہ فضائی قوت استعمال کی تھی۔یہ انتہائی خطرناک صورت حال تھی۔اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی فضائیہ کے بمبار طیارے 6مئی تا 12جون تک مجاہدین کے ٹھکانوں پر بم گراتے رہے جبکہ سینکڑوں بو فور توپیں گولہ باری میں مصروف رہیں۔اٹھارہ روز تک مسلسل دو دو ہزار پونڈ وزنی بم گراتے رہے اور قیامت برپا کرتے رہے۔13جون کو وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ لاہور میں ملاقات کی اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل مشرف نے بتایا کہ بھارتی حملوں میں تیزی آ چکی ہے اور آرٹلری اور مارٹر شیلنگ نے پورے علاقے میں تباہی مچا رکھی ہے۔دشمن کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور مکمل جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ محاذ جنگ پر پاک فوج کے جوان خراب موسم اور بھارتی گولہ باری کا بے جگری کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔نا موافق موسمی حالات اور ایک رات میں توپ خانے سے بارہ بارہ ہزار گولے ،کیمیائی ہتھیار اور شدید ترین فضائی حملوں سے بھی پاک فوج کے جوانوں کو کسی طرح بھی مرعوب نہ کیا جا سکا۔کارگل میں پاک فوج نے کئی اہم چوکیاں بنا رکھی تھیں۔برفانی علاقوں اور برفانی پہاڑیوں پر مضبوط چوکیاں قائم کرنا معمولی بات نہیں تھی۔ان چوکیوں کی تعداد پانچ تھی جنہیں انتہائی نا مساعد حالات اور بد ترین موسمی حالات کی موجودگی میں بنایا گیا تھا۔ان چوکیوں کو بھارتی فوج حاصل کرنا چاہتی تھی کیونکہ جنگی نقطہ نظر سے یہ بہت اہمیت کی حامل تھیں۔بھارت نے اپنی فوج کو ان چوکیوں پر قبضہ کرنے کا ٹاسک دے رکھا تھا۔چنانچہ دشمن ان چوکیوں پر سخت ترین حملے کر رہا تھا۔بھارت نے اپنی فوج کی بہت بڑی تعداد اس محاذ پر پہنچا دی تھی تا کہ جلد از جلد ان چوکیوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ ان چوکیوں سے پاک فوج حملہ کر کے بھارتی فوج کی رسد کا راستہ بھی بند کر ڈالتی تھی چنانچہ ان چوکیوں پر چوبیس گھنٹے نگرانی اور دشمن کی فوج پر لگاتار حملوں کی ضرورت تھی۔ان چوکیوں پر جو پاک فوج کے جوان تعینات کیے گئے، ان کے درست نشانوں نے بھارتی فوج میں حقیقی معنوں میں کھلبلی مچا رکھی تھی۔ کیپٹن کرنل شیر خان جس پوسٹ پر تعینات تھے وہاں انہوں نے کم وبیش آٹھ حملے کیے اور ان کے حملوں سے بھارتی فوج کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ کیپٹن شیر خان نے بتایا کہ جب بھارتی فوج کے سپاہی صفیں توڑ کر بھاگتے تو شیر خان زوردار آواز میں نعرے لگاتے اور یہ کہتے کہ بھارتیو!جب تک شیر خان اس کچھار میں موجود ہے اللہ کے کرم سے قبضہ کرنا تو دور رہا تمہارا ادھر آنا ہی تمہاری موت ہے۔شیر خان کی اس شجاعت کی باز گشت بھارتی کیمپوں تک پہنچ چکی تھی۔کارگل میں گلتری کے مقام پر شیر خان جس پوسٹ پر تعینات تھے وہ انہوں نے اپنی دفاعی حکمت عملی سے نا قابل تسخیر بنا رکھی تھی۔سب سے اہم کام اس پوسٹ کی حفاظت اور نگرانی تھا جو آپ بالکل شیر کی مانند کر رہے تھے۔یہ 7اور8جون کی درمیانی رات جب شیر خان کی پوسٹ پر عقب سے بھارتی فوج کی ایک بٹالین نے شدید حملہ کر دیا۔کیپٹن شیر خان نے دشمن کی ناکہ بندی کر دی اور اس حملے کو نا صرف روکا بلکہ بری طرح ناکام بھی بنا ڈالا ۔کیپٹن شیر خان نے ناکہ بندی کر کے جوابی حملے میں دشمن کو شدید ترین نقصان پہنچایا۔بھارتی فوج کے جوان پتھریلی چٹانوں کی اوٹ میں تازہ کمک کا انتظار کر رہے تھے اور کیپٹن شیر خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گشت کی قیادت کر رہے تھے ۔انہیں جب معلوم ہوا کہ دشمن کے سپاہی کس جگہ چھپے ہوئے بیٹھے ہیں تو انہوں نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا جس میں دشمن کے 40سے زائد سپاہی ہلاک ہو گئے اور لا تعداد زخمی ہوئے۔
کافی روز تک جنگ اسی طرح ہوتی رہی ۔پاکستانی چوکیوں پر بھارتی حملے ہوتے رہے اور پاکستانی فوج انہیں پسپا بھی کرتی رہی مگر کب تک بھارتی فوج کے پاس کئی ناکامیوں کےبعدصرف ایک ہی حربہ رہ گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ دو بٹالین کی نفری کے ساتھ شیر خان کی پوسٹ پر حملہ کر دیا جائے ۔بھارتی فوج نے ایسا ہی کیا اور مٹھی بھر جوانوں کے مقابلہ پر اپنی دو بٹالین فوج جھونک دی۔اس حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس حملے میں بھارتی توپ خانہ نے بارہ ہزار گولے فائر کیے۔اس خوفناک حملے میں بھارتی فوج پوسٹ کے ایک حصے پر قابض ہو گئی مگر کرنل شیر خان نے اپنے جوانوں کے ساتھ بے جگری کے ساتھ حملہ کیا کہ بھارتی فوج اس حصے سے بھاگ کھڑی ہوئی۔اس جھڑپ میں دشمن کے تین سو سے زائد جوان ہلاک کر دئیے گئے۔پھر جب ایک پوسٹ پر بھارتی فوج قابض ہو گئی تو شیر خان کے کمانڈنگ افسر نے شیر خان سے کہا کہ وہ دشمن کو پسپا کریں۔کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنے جوانوں کے ساتھ حملہ کر کے بھارتی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا مگر اس شدید لڑائی میں ان کو ایک بھارتی فوجی کی مشین گن نے شدید زخمی کر دیا اور وہ اسی پوسٹ پر شہید ہو گئے۔کیپٹن کرنل شیر خان شہید لڑتے ہوئے کافی دور تک جا چکے تھے ،جب آپ شہید ہوئے۔
دشمن کا خراج تحسین:
جہاں وہ شہید ہوئے وہ علاقہ دشمن کا تھا اور دشمن نے کافی دنوں بعد ان کی لاش کو ایک خط کے ساتھ واپس کیا جس کے الفاظ یہ تھے :’’ آپ کا یہ بہادر افسر آپ کی فوج کا قیمتی اثاثہ تھا۔اس نے انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود جس جرات ، بہادری اور جوان مردی کا مظاہرہ میدان جنگ میں کیا، وہ ہمارے لیے متاثر کن تھا جس سے ہمارے دلوں میں اس کا احترام بڑھا ہے۔یہ بہادر افسر آخری سانس تک بر سر پیکار رہا اور وہ دوران جنگ اپنے ساتھیوں کے حوصلے بڑھاتا رہا حتی ٰکہ جب اس کی لاش کو قبضے میں لیا گیا تو اسکی انگلی اپنی گن کی لبلبی پر تھی جبکہ اس کی روح پرواز کر چکی تھی۔ہم ایک دشمن فوج ضرور ہیں مگر دشمن کے ایسے بہادر سپاہی کو سلام پیش کرتے ہیں۔نیز ہمیں یہ جان کر مسرت ہو گی کہ بہادری کے اعتراف میں اس آفیسر کو کسی اعلی جنگی اعزاز سے نوازا جائے۔‘‘
ان کی شہادت کا واقعہ پڑھ کر دل میں شہید ٹیپو سلطان شیر میسور کی شہادت یاد آجاتی ہے کیونکہ جب وہ بھی شہید ہوئے تو ان کی انگلیاں تلوار کے دستے پر تھیں۔موت تو سب کو ہی آنی ہے اور سبھی نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے مگر دلیری اور بہادری سے جو موت کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں توتاریخ انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتی ہے۔کیپٹن کرنل شیر خان کے بالا آفیسر اس وقت میجر عاصم محمود تھے۔
انہوں نے بتایا :’’ شب و روز کرنل شیر خان شہید بغیر آرام کئے اپنے فرض کو نبھاتے رہے۔جنگ کے دوران شیر خان نے واقعی شیروں والا کام کیا۔29جون کو غروب آفتاب کے بعد بھارتی فوج نے پاکستانی چوکی پر چڑھائی کر دی۔کیپٹن کرنل شیر خان نے بہادری اور جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مختصر دستے کو اس طرح پھیلا دیا کہ ان پر ایک بٹالین کا گمان ہوتا تھا۔کیپٹن کرنل شیر خان خود بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملے کر رہے تھے جس نے ان کے بہادر ساتھیوں کے حوصلے بھی بلند رہے۔اس معرکہ میں کیپٹن کرنل شیر خان سینے میں گولی لگنے سے شہید ہو ئے لیکن اس کے باوجود دشمن ہماری چوکی کے قریب بھی نہ جا سکا۔‘‘
نشان حیدر کا اعزاز:
بریگیڈئیر راشد قریشی جو ان دنوں انٹر سروسزپبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹرتھے ؛ نے اس مرد مجاہد کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:’’ بھارت نے اس بلند ترین چوٹی پر مسلسل تین روز تک گولہ باری کی اور بمباری کے بعد پوری بٹالین یعنی آٹھ سو کی نفری کے ساتھ حملہ کر دیا۔دن بھر شدید لڑائی جاری رہی جس کے بعد دشمن نے دوسری بٹالین سے حملہ کیا۔میجر عاصم یہاں کمپنی کمانڈر تھے جبکہ کیپٹن کرنل شیر خان ان کے معاون ۔چوٹی پر ان دونوں افسروں سمیت کل4 2 جوان اسلحہ سمیت بھیج دئیے گئے۔ان سب نے مل کر جوابی حملہ شروع کیا ۔کیپٹن کرنل شیر خان اس حملہ کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے تھوڑی ہی دیر بعد بھارتی فوج کو بھاری جانی نقصان کے بعد پسپا ہونے پر
مجبور کر دیا۔ میجر عاصم نے خود تین سو بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں۔‘‘
کیپٹن کرنل شیر خان کے والد گرامی جناب خورشید صاحب نے کہا ’’ انہیں اپنے فرزند کی شہادت پر فخر ہے ۔ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ ایک شہید کے باپ ہیں۔ جب شہید کی لاش انڈیا کے پاس تھی تو مجھے تشویش تھی لیکن لاش ملک کی سر زمین پر پہنچتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ زندہ ہے۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے ملک و قوم کے لیے اپنی جان قربان کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے سب کی آنکھ کا تارا تھے اور تمام اہل خانہ ان سے پیار کرتے تھے۔وہ اکثر کہتے تھے کہ فوج میں تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص مشن کے لیے گیا ہوں۔وہ اپنے مشن میں کامیابی کی دعا مانگا کرتے تھے ۔ میرے بیٹے نے کے پی کے کے غیور عوام کا سر ہمیشہ کیلئے فخر سے بلند کر دیا ہے اور وہ مر کر بھی ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہے۔‘‘
کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے بڑے بھائی سکندر شیر نے بتایا :’’جب اڑھائی ماہ کی چھٹی پر وہ گھر آیا تو واپسی پر مجھے کہا کہ میرے لیے شہادت کی دعا کرنا۔انہوں نے مزید کہا کہ 29سالہ کیپٹن کرنل شیر خان کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی تاہم قریبی رشتہ داروں میں ان کا نکاح ہو چکا تھا۔22جون کو چھٹی آنے پران کی شادی ہونا تھی اورگھر والوں نے تمام انتظامات بھی مکمل کر لیے تھے۔‘‘کیپٹن کرنل شیر خان کے بھائی انور شیر نے بتایا :’’ ان کی شادی کے لیے جو پانچ لاکھ روپے رکھے تھے وہ اب ان سے گاؤں میں مدرسہ تعمیر کروائیں گے ۔‘‘
کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت کے بعد آرمی چیف کی طرف سے نواں کلے میں ایک کیڈٹ کالج اور ہسپتال تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس کے علاوہ نواں کلے کا نام سرکاری طور پر تبدیل کر کے کرنل شیر خان کلے رکھنے کا نو ٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔14اگست 1999ء کو نشان حیدر اور دیگر تمغہ جات دینے کی تقریب کنونشن سنٹر،اسلام آباد میں منعقد کی گئی۔اس تقریب کو دنیا کے چالیس ممالک میں دکھایا گیا ۔آٹھ بج کر پینتیس منٹ پر پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز ’’ نشان حیدر‘‘ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو دینے کا اعلان کیا گیا۔سیکریٹری دفاع ا فتخار علی خان کے اس اعلان پر پورا سنٹر تالیوں سے گونج اٹھا۔کیپٹن کرنل شہید خان کا اعزاز ان کے والد گرامی جناب خورشید خان نے وصول کیااوران کو یہ اعزاز اس وقت کے صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کی جانب سے عطا کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں