سردیوں میں کے ٹو پر مہم جوئی 20

سردیوں میں کے ٹو پر مہم جوئی: علی سدپارہ اس مہم میں بطور کوہ پیما شامل تھے یا پورٹر بن کر گئے تھے؟

57 / 100

سردیوں میں کے ٹو پر مہم جوئی: علی سدپارہ اس مہم میں بطور کوہ پیما شامل تھے یا پورٹر بن کر گئے تھے؟
دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی مہم پر جانے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کو آج لاپتہ ہوئے نو دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور ان کی تلاش کے لیے کیے جانے والے سرچ آپریشن میں اب تک ان کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

ماوئنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی خاتون کوہ پیما برطانوی نژاد امریکی خاتون وینیسا او برائن (جو پاکستان کے لیے خیر سگالی کی سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں اور جون سنوری کے ساتھ کے ٹو کو سر بھی کر چکی ہیں) نے اتوار کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ نو روزہ سرچ مہم کے دوران پاکستان، آئس لینڈ اور اٹلی نے محمد علی سد پارہ، جان سنوری اور جوان پابلو موہر کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 15 فروری (آج) کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں تازہ ترین صورتحال بالخصوص محمد علی سد پارہ کے حوالے سے بتایا جائے گا۔

جہاں ایک جانب پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق اب تک کوئی اطلاعات سامنے نہیں آ سکی وہیں پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث سے جنم لے لیا ہے کہ کیا محمد علی سد پارہ دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کےٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی مہم پر بطور کوہ پیما شامل تھے یا وہ اس مہم میں ایک ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر بن کر گئے تھے؟

اس بحث کا آغاز پاکستان کے مایہ ناز کوہ پیما نذیر صابر، جنھیں پاکستان کی جانب سے سب سے پہلے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماوئنٹ ایورسٹ کو فتح کرنے کے علاوہ کے ٹو سمیت آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیاں فتح کرنے کا اعزاز حاصل ہے کی گذشتہ دونوں سوشل میڈیا پر آنے والی ایک ویڈیو کے بعد ہوا۔

جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ محمد علی سدپارہ اس مہم میں بطور کوہ پیما نہیں بلکہ جان سنوری کے لیے ایک ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر کے حیثیت سے شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں