115

سبز اور زیتونی۔۔۔کچھوے زندگی کی دوڑ ہار رہے ہیں

سبز اور زیتونی۔۔۔کچھوے زندگی کی دوڑ ہار رہے ہیں
یہ کچھوے ہمارے ماحول اور سمندروں کا ایک اہم حصہ ہیں،اگر یہ نہ ہوں تو سمندری حیات کے نظام میں بگاڑ پیدا ہو جائے
سیدہ نازاں جبیں
عمر اور فرمان آج بہت خوش تھے۔آج وہ اپنے والدین کے ساتھ ہاکس بے کے ساحل پر آئے ہوئے تھے۔شور مچاتی لہریں اور تاحد نگاہ پانی ہی پانی،ایک عجب سا سماں باندھ رہے تھے۔اچانک عمر کی نظر ایک چیز پر پڑی جو رینگتی ہوئی سمندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔

”مما!وہ دیکھیں․․․․․وہ کیا ہے؟“عمر نے حیرت سے پوچھا۔فرمان اور مما نے بھی فوراً اس طرف دیکھا،جہاں عمر نے اشارہ کیا تھا۔پاپا ان لوگوں سے آگے نکل گئے تھے، اس لئے انھوں نے نہیں سنا۔
”بیٹا!وہ کچھوے کا بچہ ہے،جو انڈے سے نکل کر اب سمندر کی طرف جا رہا ہے۔
“ممانے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”سمندر میں کچھوے بھی ہوتے ہیں کیا مما؟“
11 سالہ عمر نے سوال کیا۔
”ہاں بیٹا!یہ کچھوے ہمارے ماحول اور سمندروں کا ایک اہم حصہ ہیں،اگر یہ نہ ہوں تو سمندری حیات کے نظام میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔

“ مما نے جواب دیا۔
”لیکن مما!یہ کچھوے تو بہت چھوٹے ہیں،یہ کیسے سمندر تک پہنچیں گے؟“13 سالہ فرمان نے فکرمند ہو کر پوچھا۔
”یہ ایک دکھ بھری داستان ہے بیٹا!چلو سکون سے بیٹھ جاتے ہیں،پھر میں آپ کو”سبز اور زیتونی“کچھوؤں کے بارے میں بتاتی ہوں۔
“ مما نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
پھر وہ تینوں ماں بیٹے وہیں ریت پر ایک جگہ بیٹھ گئے تو ان کی مما نے بتانا شروع کیا:
”تم دونوں نے خرگوش اور کچھوے کی کہانی تو ضرور پڑھی ہو گی،جس میں کچھوا خرگوش سے ریس جیت لیتا ہے؟“مما نے کہانی سنانے سے پہلے دونوں سے سوال کیا۔

”جی،جی پڑھی ہے۔“دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
”کچھوے نے وہ ریس تو جیت لی،مگر افسوس کہ اپنی زندگی کی دوڑ میں اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی نسل ختم ہو جانے کا خطرہ ہے۔“مما نے اُداسی سے بتایا۔
”لیکن کیوں مما؟کیسے؟“فرمان نے بھی فکر مندی سے پوچھا۔

”دنیا میں سمندری کچھوؤں کی کل سات اقسام پائی جاتی ہیں،جن میں سے دو پاکستان کے ساحلوں پر اپنی نسل بڑھانے کے لئے آتے ہیں۔ان میں سبز کچھوا (Green Turtle) اور زیتونی کچھوا(Olive Ridley Turtle) شامل ہیں۔“مما نے جواب دیا۔
سبز اور زیتونی․․․․․کتنے اچھے نام ہیں،یہ کس نے رکھے؟عمر نے دلچسپی سے پوچھا۔

”سبز کچھوے،کچھوؤں کی واحد قسم ہے،جو سبزی خور ہوتے ہیں اور سمندر کی گھاس اور الجی (Algae) کھاتے ہیں،اسی وجہ سے ان کی جلد ہرے رنگ کی ہوتی ہے اور یہ ”سبز کچھوے“ کہلاتے ہیں۔زیتونی کچھوے کا خول زیتونی سبز ہوتا ہے،اس لئے اسے ”زیتونی کچھوا“ کہا جاتا ہے۔
یہ چھوٹے سمندری جانور اور پودے دونوں کھاتے ہیں،کیونکہ یہ (Omnivore) ہوتے ہیں۔“مما نے مزید تفصیل سے بتایا:” یہ کچھوے انڈے دینے کے لئے ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے مختلف ممالک کے ساحلوں پر جاتے ہیں،جن میں پاکستان کے ساحل بھی شامل ہیں۔
یہ یہاں ہر سال اگست سے دسمبر کے مہینوں میں آتے ہیں۔“
”واقعی!یہ تو دلچسپ بات ہے۔“عمر نے کہا۔
”دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سبز کچھوؤں کی مادہ جس ساحل پر پیدا ہوتی ہے،انڈے دینے کے لئے اسی ساحل پر لوٹ کر آتی ہے۔
زیتونی کچھوؤں کی مادہ بڑے بڑے گروہوں کی شکل میں (ایک لاکھ کے لگ بھگ) ساحل پر آتی ہے اور اس عمل کو ”Arribada“ کہتے ہیں۔ یہ اسپینش لفظ ہے جس کا مطلب ہے پہنچنا۔“
مما نے معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید بتایا: انڈے دینے کے بعد مادہ کھچوا اس جگہ سے دور چلی جاتی ہے اور واپس پلٹ کر نہیں آتی ۔
بچے خود ہی انڈوں سے نکلتے ہیں اور اپنی زندگی کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔یہ انڈے سے نکلتے ہی سمندر کی طرف جاتے ہیں،لہٰذا اس سفر کے دوران زیادہ تر بچے مر جاتے ہیں!“ مما نے دکھ والی بات بتائی۔
”وہ کیسے مما؟“فرمان نے پھر پوچھا۔

”انڈوں سے نکلنے کے بعد جب یہ ننھے کچھوے سمندر کی طرف بڑھتے ہیں تو انھیں چیل،کوے کھا جاتے ہیں یا وہ آوارہ کتوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔“مما کی بات سن کر دونوں کو افسوس ہوا۔
سبز اور زیتونی کچھوے خاص طور پر پاکستان کے ساحلوں پر آتے ہیں،مگر ان کی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔
اگر یہ اسی طرح مرتے رہے تو ایک دن آئے گا کہ ایک بھی کچھوا باقی نہیں رہے گا۔“مما نے حقیقت بتائی۔اتنے میں کسی نے پلاسٹک کی تھیلیاں سمندر کی طرف اُچھال دیں،جو اُڑتی ہوئی ان لوگوں تک آپہنچیں۔
”ہماری عوام جگہ جگہ کچرا پھینکنے سے باز نہیں آتی ہے!“پاپا نے کہا جو ان کے پاس آگئے تھے۔

”پاپا!ہماری سائنس کی ٹیچر پلاسٹک کی آلودگی کے بارے میں بتا رہی تھیں،یہ تھیلیاں نقصان دہ ہوتی ہیں؟“فرمان کے ذہن میں صحیح وقت پر سوال اُبھرا۔
”پتا ہے،کچھوے کے بچے ساحل پر استعمال شدہ مچھلی کے جالوں اور پلاسٹک کی تھیلیوں میں پھنس جاتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر کچھوے ان تھیلیوں کو جیلی فش سمجھ کر کھا جاتے ہیں،جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
“پاپا نے معلومات فراہم کیں۔
”ہمیں بھی کچھوؤں اور ان کے بچوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔“مما نے بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
”وہ کیسے؟“دونوں نے ایک ساتھ پوچھا۔
”ساحل سمندر پر کسی طرح کا بھی کچرا نہ پھینکیں اور کچھوؤں کے بچوں کو سمندر تک پہنچنے میں مدد دیں۔
اس طرح ان کی اموات میں کمی آسکتی ہے اور سبز اور زیتونی جیسے نایاب نسل کے کچھوؤں کو بچایا جا سکتا ہے۔“پاپا نے تجاویز پیش کیں اور دلوں کو چھو لینے والا ایک پیغام بھی دیا، جس پر سب کو عمل کرنے کی ضرورت ہے:”کچھوؤں کے بچوں کی حفاظت کریں،کیونکہ ان کی ماں ان کے ساتھ نہیں ہوتی ہے!“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں