رحمت خان 65

زراعت و صنعت سے معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہے

54 / 100

زراعت و صنعت سے معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہے

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ تبھی رک سکتا ہے جب ہم کسان کی حالت زار بہتر بنانے کو اولین ترجیح دیں۔ گندم‘ کپاس اور گنے کی قیمتوں کا مناسب تعین اور سرکاری ریٹ پر مکمل فصل کی خریداری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کسانوں کو فصل بوائی کے وقت معیاری کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور زرعی مشینری آسان شرائط پر فراہم کرے اوروافر پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور فصل آنے پر کسانوں سے ان چیزوں کی مناسب قیمت لی جائے۔
زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زراعت سے پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے آمدن ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے کسان اور زراعت پر حکومت بہت ہی کم رقم خرچ کرتی ہے اسی لئے گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان کی دیہی آبادی بڑے شہروں کی جانب منتقل ہورہی ہے اور بڑے شہروں پر آبادی کے بے پناہ دباؤ کے باعث بڑے شہروںکی حالت زار خراب سے خراب تر ہوتی چلی جارہی ہے اور اس سلسلے میں اس وجہ سے مسلسل تیزی آرہی ہے کیونکہ زراعت پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں رہی اور کسان اپنی زمینوں سے مناسب روزگار نہ ملنے کے باعث اپنا یہ پیشہ ترک کرکے شہروں کو منتقل ہورہے ہیں جس سے بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہر نہ حل ہونیوالے مسائل سے دوچار ہیں۔ لوگوں کو اگر گھر بیٹھے زراعت سے باعزت روزگار ملے گا تو بڑے شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی رک جائیگی۔ ہر حکومت آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور اسلامی ممالک سے قرض لیکر قومی خزانے میں بڑھتے ڈالرز پر فخر محسوس کرتی رہی ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کا یہ دعوٰی سراسر غلط ہے کہ ہماری حکومت میں پاکستان خوراک میں خودکفیل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت سے قبل تمام حکومتیں بیرون ملک سے غیر معیاری گندم درآمد کرتی تھیں اور گندم کی بیرون ملک خریداری‘ شپمنٹ‘ اسٹوریج‘ ٹرانسپورٹ غرض ہرمرحلے پر کمیشن مافیا اپنے پیٹ بھرتا تھااور پاکستان میں ایسا مافیا موجود ہے جس کا یہاں مقامی لوٹ مار سے پیٹ نہیں بھرتا بلکہ بیرون ملک سے چیزوں کی خریداری کرکے اپنا پیٹ بھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور جنرل مشرف کے دور سے قبل پاکستان خوراک میں خودکفیل نہیں تھا اور بیرون ملک سے ہر سال غیر معیاری گندم درآمد کی جاتی تھی۔
جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں کسان کانفرنس طلب کی اور کسانوں سے تجاویز طلب کی گئیں اور کانفرنس میں پیش کی گئی کسانوں کی تقریباً تمام تجاویز جنرل مشرف نے منظور کرکے فوری طور پر گنا 350روپے فی من‘ گندم 1000-1200 روپے من اور کپاس 3000روپے من مقرر کی اور سرکاری ریٹ پر تمام فصلوں کی خریداری کو یقینی بنایا اور پھر ملک خوراک میں خودکفیل ہوگیا۔ پاکستان کی خوراک میں کفالت کا سہرہ جنرل مشرف کے سر جاتا ہے جنہوں نے زراعت میں کسان کیلئے انقلابی اقدامات کئے اور جنرل مشرف کے دور میں کسان کانفرنس میں کسانوں نے برملا کہا تھا کہ اگر آپ گندم کی قیمت بڑھاتے ہیں تو ہم پہاڑوں پر بھی گندم کاشت کرینگے۔ اس دور میں باقاعدگی سے ہر سال نہروں کی بھل صفائی ہوتی تھی اور نہروں کی ٹیل تک پانی پہنچتا تھا۔ ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے انتہائی مناسب فلیٹ ریٹ مختص کئے گئے تھے۔ بدقسمتی سے مشرف دور کے بعد موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک بار پھر پاکستان کو انتہائی غیر معیاری گندم اور چینی بیرون ممالک سے درآمد کرنی پڑی جو استعمال کے قابل بھی نہیں ہوتی اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔بدقسمتی سے یہاں گندم اور گنے کی سرکاری ریٹ پر خریداری نہیں کی جاتی اور ہر سال مڈل مین کسانوں سے کم قیمت پر گندم خرید کر کروڑوں روپے ذاتی جیب میں ڈالتے ہیں اور اس تمام معاملے میں سرکاری عہدیدار مڈل مین کے سرپرست کا کردار ادا کرتے ہیں۔ تمام صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسانوں سے سرکاری ریٹ پر تمام گندم کی خریداری ہو او رمڈل مین کسانوں کا معاشی استحصال نہ کر پائے۔
بھارت کی آبادی ایک ارب 26کروڑ ہے اور اتنی بڑی آبادی کیلئے بھی بھارت خوراک میں خودکفیل ہے اور بھارتی پنجاب میں فی ایکڑ پیداوار پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں کھاد‘ بیج اور زرعی ادویات معیاری بھی ہیں اور پاکستان کی نسبت ان چیزوں کی قیمتیں بھارت میں بہت کم ہیں اور وہاں کی حکومت کی زراعت پر خصوصی توجہ ہے اور کسان کو ہر سطح پر سبسڈی دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں نہ تو کھاد معیاری ملتی ہے اور نہ ہی بیج اور زرعی ادویات کا معیار درست ہے اور غیر معیاری چیزوں کی بھی قیمتیں بہت زیادہ ہیں لیکن حکومت کی جانب سے دی جانیوالی سبسڈی برائے نام ہے جبکہ زراعت کا شعبہ ملک کو سالانہ کھربوں روپے دیتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے دی جانیوالی سبسڈی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
خوراک میں خودکفالت کے باوجود حکومت کی غلط پالیسیاں اور ذخیرہ اندوز مافیا کی کارستانیاں بھی عام آدمی کیلئے مشکلات اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ جب تک اپنے ملک کی ضرورت کی وافر گندم اور چینی موجود نہ ہو‘ دوسرے کسی بھی ملک کو دینا سراسر اپنی عوام سے زیادتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اختیارات دینا جو خود آٹا اور چینی کے بحران کے ذمہ دار ہیں سراسر غلط طریقہ کار ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو مناسب فیصلے کرکے ذخیرہ اندوز مافیا کیخلاف سخت اقدامات کرنا ہونگے۔ زراعت کی ترقی سے صنعت کیلئے سستا خام مال دستیاب ہوگا جس سے صنعتی ترقی بھی ممکن ہے۔
زراعت کی ترقی اور خوراک میں خودکفالت کیلئے کسان کو وافر پانی کی دستیابی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور نہری علاقوں کے علاوہ ٹیوب ویل سے آبپاشی والے علاقوں کے زمیندار اسی وقت خوشحال ہوکر بھرپور محنت کرسکتے ہیں جب انہیں ٹیوب ویل چلانے کیلئے ماہانہ فکس بجلی بل ادا کرنا ہو یا بہت کم قیمت میں فی یونٹ ادائیگی کا نظام رائج کیا جائے تو زراعت ترقی کریگا اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باعث ڈیزل سے ٹیوب ویل چلاکر کاشتکاری کرنیوالے زمینداروں کو تو فصل میں سراسر نقصان کا سامنا ہے اور کئی لوگوں نے سال میں 2-3فصلیں لینے کے بجائے صرف گندم کی فصل کاشت کرنے کا طریقہ کار اپنا رکھا ہے کیونکہ ڈیزل سے ٹیوب ویل چلاکر فصل نقصان میں جاتی ہے اور کسان کو اپنی محنت کا صلہ بھی نہیں مل پاتا۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کو خصوصی توجہ دیکر زراعت کے لئے موثر پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں