48

ریڈ لسٹ: پاکستان نے برطانوی وزیر صحت کو حقائق پر مبنی خط بھیج دیا

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھے جانے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے برطانیہ کو خط لکھ دیا۔

اسلام آباد سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید کو خط لکھا ہے، جس میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھے جا نے سے متعلق حقائق پر مبنی اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔

فیصل سلطان نے پاکستان اور عنبر لسٹ میں شامل ممالک کی تقابلی جائزہ رپورٹ بھی خط کے ساتھ ارسال کردی۔

خط کے متن کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان نے برطانوی وزیر سے کہا کہ میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھے جانے پر خط لکھ رہا ہوں۔

خط میں بتایا گیا کہ خطے کہ کچھ ممالک کو ریڈ لسٹ سے نکال کر عنبر لسٹ میں ڈالا گیا جبکہ پاکستان تاحال لسٹ میں ہے۔

خط کے متن کے مطابق کورونا کے علاقائی اعداد و شمار کے تناظر میں اس فیصلے سے پاکستان اور برطانیہ میں مایوسی ہوئی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے خط میں بتایا کہ پاکستان اپنے ان شہریوں کو سفر کی اجازت نہیں دےگا جو دوسروں کی صحت کے لیےخطرہ ہوں۔

اُنہوں نے لکھا کہ یہ ہمارا مشترکا عالمی مقصد ہے، اس پر عمل درآمد کررہے ہیں، خط کے ساتھ پاکستان اور عنبر لسٹ میں شامل ممالک کی تقابلی جائزہ رپورٹ بھی منسلک ہے۔

خط کے متن کے مطابق ڈیٹا سے پاکستان اور عنبر لسٹ ممالک کے درمیان پائی جانے والی تفریق واضح ہے۔

خط میں کہا گیا کہ سرویلنس ڈیٹا کی اہمیت سےانکار نہیں کیا جاسکتا، ریڈ لسٹ میں ڈالنے کے وقت پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد کم تھی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے خط میں مزید لکھا کہ سب سے اہم ملک کا وبا کو کنٹرول کرنے کا مجموعی ریکارڈ ہے، کورونا کنٹرول کے تناظر میں بغیر اعداد و شمار سے دھوکا ہوسکتا ہے۔

خط میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا، دنیا میں مختلف ممالک اپنے ہیلتھ سسٹم کو مضبوط کرنے کےلیے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، ہمارا مقصد بھی انٹرنیشنل سفر کے ذریعے پیدا ہونےوالے رسک میں کمی لانا ہے۔

خط کے متن کے مطابق دیکھا گیا ہےکہ منفی رپورٹ کے ساتھ برطانیہ جانیوالےافراد کا ٹیسٹ وہاں مثبت آگیا، برطانیہ سے آنے والے افراد میں بھی مذکورہ چیز دیکھنےکو ملی۔

خط میں کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات کے حوالے سے میں کچھ تجویز دوں گا، پہلی تجویز، سفر کرنےوالوں کو ڈبلیو ایچ او کی مستند ویکسین لگی ہو۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے دوسری تجویز میں کہا کہ منزل مقصود پر پہنچنے سے 72 گھنٹے پہلے پی سی آر ٹیسٹ ہوا ہو اور تیسری تجویز ہے کہ پری ڈپارچر اینٹی جین ٹیسٹ ایئرپورٹ پر کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں