ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت 7

ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

63 / 100

ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت
از قلم :عظمی ناصر ہاشمی
وادی بطحا کے پہاڑوں سے آواز بلند ہو رہی تھی…………
عرب کے لوگو!
” یہ رہا تمہارا نصیب جس کا تم انتظار کر رہے تھے”
۔اہل علاقہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ لوگ اپنے ہتھیار سجاکر اپنے محبوب کے استقبال کے لیے یثرب کے ٹیلوں کی جانب دوڑ پڑے ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔جس کی مثال سرزمین مدینہ میں کبھی نہ ملی تھی-
۔گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔
چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں خوشی اور مسرت کے نغمے گا رہی تھیں۔
اشرق البدر علینا من ثنیہ الوداع
ثنیہ کی پہاڑیوں کی جانب سے ہم پر چودھویں کا چاند ظاہر ہوا
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داعی
کیا عمدہ دین اور تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہم پر اللہ کا شکر لازم ہے
ایھا المبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامرالمطاع
تیرے حکم کی اطاعت ہم پر فرض ہے ۔اے! ہم میں بھیجے جانے والے ۔
جی ہاں !
یہ پرجوش اور پرتکلف استقبال محمد عربی، والی بطحا ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو رہا تھا ۔آپ کا مکہ سے مدینہ أنا ‘ ان مع العسر یسرا ” کی تفسیر ثابت ہوا تھا ۔
ایسا پروٹوکول کبھی کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کو بھی نہیں ملا جو آپ کے نصیب میں رکھ دیا گیا ۔اس شہر میں آ جانے سے ان تمام زخموں پر مرہم لگ گیا جو کفار مکہ کے ہاتھوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو لگائے گئے تھے ۔یہاں آکر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا
“ابن قیم “کے مدینہ پہنچنے کے خوبصورت منظر کو یوں بیان کرتے ہیں۔
” بنی عمرو بن عوف قبیلہ ساکنان قبا میں شور بلند ہوا زوردار تکبیر کی آواز سنی گئی مسلمان آپ کی آمد کی خوشی میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے پھر آپ سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا ۔اور آپ کے اردگرد پروانوں کی طرح کھڑے ہو گئے اس وقت آپ پر سکینت نازل ہوئی اور یہ وحی اتری ۔
فان اللہ ھو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکہ بعد ذلک ظہیرا۔
پس اللہ آپ کا کارساز ہے اور جبرائیل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی آپ کے مددگار ہیں۔”
مکہ سے مدینہ ہجرت کا دشوار گزار سفر محض ایک تفریحی سفر نہ تھا بلکہ اس سفر نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اور عرب کی سیاسی و تاریخی اہمیت کو یکسر بدل کے رکھ دیا ۔
ایک اسلامی مملکت کے قیام کے بعد اس کے اندرونی اور بیرونی نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیر ہے ۔
آئیے ہم اس سیاست پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس شہر کا نام یثرب تھا۔ آپ کے یہاں پہنچنے پر اس کا نام مدینہ الرسول رکھ دیا گیا ۔یہ اسلام کا پہلا گڑھ تھا جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ رہائش اختیار کر کے پہلی سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔
عزیز قارئین !
یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں آنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ آپ سکون سے اپنے حجرے میں بیٹھ کر عبادت کرتے اور آرام کرتے کیونکہ یہاں آپ کے حامیوں کی تعداد انصار و مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ تھی لیکن آپ کو یہ گوارا نہ تھا اور ہر دن آپ مسلمانوں کی فلاح اور اسلام کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔
مدنی دور کو ہم تین ادوار پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔
نمبر (1 )پہلا مرحلہ( سن 1 ہجری سے سن 6ہجری )
نمبر (2 )دوسرا مرحلہ( 6 ہجری سے آٹھ ہجری تک)
نمبر( 3) تیسرا مرحلہ( 8 ہجری سے حیات اخیریعنی 11 ہجری تک )

پہلا مرحلہ

💫تعمیر مسجد نبوی ۔۔۔۔۔۔۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی مدینہ میں رہائش پذیر ہوئے اور جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرنا شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مساجد اور مدارس بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ آپ نے اینٹ اور پتھر بذات خود ڈھوۓ-
مسجد نبوی محض نماز ادا کرنے کے لیے ہی نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کا مرکز بھی تھی ۔ اور أپ نے مسجد نبوی سے ملحق ” الصفہ” کے نام سے ایک چبوترہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں صحابہ کرام دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ اور وہ فقراء و مساکین کا مسکن بھی تھا جن کا نہ کوئی اہل وعیال تھا اور نہ گھر بار۔
علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی تھی جس میں مجلس شوری اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔

💫محبت و بھائی چارہ
جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کیا اس طرح آپ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک اسلامی ریاست کے لیے اخوت و اتحاد کی فضاء قائم کی اور واضح کیا کہ ایک ریاست کی ترقی اور استحکام کے لیے اتحاد ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتا ہے۔
جس قوم اور مملکت میں نااتفاقی پیدا ہو جائے وہاں قوت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بیرونی قوتیں اسے کچلنے کے لیے سر اٹھانے لگتی ہیں

💫غیر مسلم قوتوں سے عہد و پیمان
آپ نے اسلامی مملکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کئے تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور وقت آنے پر ان سے مالی اور جسمانی مدد بھی لی جا سکے یعنی اپنے فائدے کے لیے کفار سے معاہدے کئے جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر ایسا نہیں ہے کہ ان سے مدد لیتے وقت ہم اپنا دین اور ایمان بھی ان کے ہاتھوں بیچ دیں اس معاہدے کے طے ہو جانے کے بعد مدینہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے وفاقی حکومت بن گئے اور مدینہ ان کا دارالحکومت تھا جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

💫سرایا اور غزوات
مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے بہت سے سرایا اور غزوات کئے ۔ سرایا اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صل وسلم نے بذات خود شرکت نہ کی بلکہ کسی صحابی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ہو اور غزوہ وہ جنگ جس میں بطور جرنیل آپ نے خود شرکت کی ہو۔ جب یہود و نصاریٰ فتنہ اور شر پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو باوجود قوت اور مال و اسباب کی کمی کے آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر ان کو بھرپور جواب دیا-
غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق وغیرہ ان جنگوں کا مقصد کفر پر اسلام کا رعب اور غلبہ طاری کرنا تھا اور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ کفر و اسلام کی جنگ روز اول تاروز آخر جاری رہنے والی ہے اور اہل اسلام کو اپنے مذہب کے دفاع کے لیے غیر مسلموں پر کڑی نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان سے جنگ کرنا ناگزیر ہے ۔

💫بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط
6ہجری میں جب حضور صل وسلم حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لیکر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے آپ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کرام کو بطور قا صد منتخب فرمایا اور انہیں بادشا ہو ں کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے نامور شہنشاہوں جیسا کہ نجاشی شاہ حبش، مقوقس شاہ مصر، قیصر شاہ روم ، حارث حاکم دمشق، شاہ عمان کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط کے ذریعے نبی صل وسلم نے اپنی دعوت روۓ زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچادی اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا-

💫فتح مکہ
17 رمضان 8 ہجری کو رسول اسلم مراؤ ا لظہران سے مکہ روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ کرام تھے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ابوسفیان پکار اٹھا ۔
اے قریش کے لوگو !
محمد ہمارے پاس بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ جس کی تم تاب نہیں لا سکتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآسانی مکہ کو فتح کرلیا اور انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے گرد 360 بتوں کو کمان کی ٹھوکر مار کر ان کے چہروں کے بل گرا دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے۔
جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا
” حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے”
أپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفتح مکہ کی خوشی میں ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر آٹھ نوافل شکرانے کے پڑھے۔
حاصل کلام یہ کہ ریاست مدینہ کے حکمران نے اپنی حکمرانی کے دوران جہد مسلسل کی اور اس بنیادی اسلامی سلطنت کو مزید مستحکم اورمضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا ۔

💫مکارم اخلا ق پر عمل درأمد
علاوہ ازیں اپنے معاشرے کو ہر سماجی برائی سے پاک کر دیا کفر و شرک و بت پرستی قمارباز ی ،شراب نوشی، رشوت ستانی ,سودخوری ,چوری چکاری ,ذخیرہ اندوزی, زنا کاری اور فحاشی کا خاتمہ کیا آپ نے احتر ام انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسان کو حیوانیت سے دور رہنا سکھایا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ انہوں نے آداب و اخلاق، بھائی چارگی ، محبت و اطاعت کے گر سکھا ئے ۔
آپ نے فرمایا”
اے لوگو !
سلام پھلاؤ ،کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، صدقہ خیرات کرو، نماز روزے کی پابندی کرو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں مقرر کرتے ہوئے تحفظ نسواں کا پرچار کیا ۔
عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
اور شرعی حدود پر سختی سے عمل کروایا ۔
اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت کے حکمران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی بناۓ ہوۓ قوانین و عبادات پر عوام کو عمل کروائے۔ تاکہ معاشرہ بہتر ا قداروکردار کا مجسمہ بن جائے ۔
پہلی اسلامی ریاست کا یہ حکمران اول بنی نوع انسان کے لئے رحمت للعالمین کا لقب لے کر دنیا میں تشریف لائے۔
اور ہاں اسلامی اصلاحات کرنے سے پہلے ذاتی اسوہ حسنہ پیش کیا ۔۔۔جو کہا کر کے دکھایا ۔
دنیا کا یہ عظیم تر حکمران آنے والے حکمرانوں کے لئے قیمتی قوانین اور اصطلاحات وضع کرکے اس دار فانی سے 63 سال کی عمر میں رخصت ہو گیا جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔
سوچنے کے لائق بات تو یہ ہے کہ ہم کس منہ سے ریاست مدینہ کی بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم سے کسی ایک اسلامی قانون کی پاسداری بھی بہت دشوار ہے۔ دعا ہے کہا للہ پاک ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو ریاست مدینہ کے تصور کا پاس رکھ سکیں اور اسلام کو سر بلندی عطا کر سکیں۔ ( آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں