حسن نثار 99

رسک فری منافع بخش صنعت و تجارت ’’جمہوریت‘‘

9 / 100

رسک فری منافع بخش صنعت و تجارت ’’جمہوریت‘‘
حسن نثار
ڈار فنکار آدمی ہے لیکن فنکاری کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ وہ سمندر پار بیٹھا عجیب عجیب شکلیں بنا رہا تھا، جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا اور میں اپنی لائبریری میں تنہا بیٹھا خجالت، ندامت، شرمندگی محسوس کر رہا تھا کیونکہ یہ شخص تین بار ’’میرا‘‘ وزیراعظم رہ چکے شخص کا سمدھی اور ’’میرا‘‘ سابق وزیر خزانہ تھا۔

ان کے دامن بھی صاف، ان کے ہاتھ بھی صاف اور ملکی خزانہ بھی صاف۔ اس ملک میں چند خاندان اتنے خوش بخت ہیں کہ انہیں کبھی کسی کاروبار میں نقصان نہیں ہوا، پاکستان کو کبھی کسی کاروبار میں فائدہ نہیں ہوا حالانکہ انہوں نے کاروبار ہی کوئی نہیں کیا کیونکہ یہ تو جواں عمری سے ہی فل ٹائم سیاستدان ہیں لیکن کیا کریں؟ معجزے بھی تو ہوتے ہیں۔

کیسا تاریخ ساز اور تاریخ شکن معجزہ ہے کہ سات بھائیوں میں بٹوارہ ہوتا ہے۔ 6کی اولادیں سو فیصد کاروبار پر فوکس کرتی ہیں۔ ایک بھائی کی اولاد سب سے بڑی ’’صنعت‘‘ اور ’’تجارت‘‘ یعنی سیاست کی طرف نکل جاتی ہے۔ ترقی تو باقی بھائیوں کی اولادیں بھی کرتی ہیں لیکن سیاست کی ’’تجارت‘‘ اور ’’صنعت‘‘ کرنے والے حیران کن ضربیں کھاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی ترقیاں دیکھی، سنبھالی اور گنی نہیں جاتیں۔

حالانکہ وہ ہول ٹائم سیاستدان ہیں اور دن رات ملک و قوم کی خدمت میں جتے رہتے ہیں، ووٹ کو عزت پہ عزت دیئے جاتے ہیں اور ’’شرافت کی سیاست‘‘ ان کا ایمان ہے….پس ثابت ہوا کہ سیاست فائدہ مند ترین ’’تجارت‘‘ ہی نہیں ’’صنعت‘‘ بھی ہے۔

چند مستثنیات کو چھوڑ کر کبھی غور فرمایئے یہ پراسرار کھیل ہوتا کیا ہے؟ عوام کی خدمت کے جنون میں مبتلا کچھ لوگ کسی سیاسی جماعت میں گھستے ہیں۔ انتہائی ذلت آمیز پراسیس سے گزر کر اپنا ’’ٹکٹ‘‘ یقینی بناتے ہیں۔ کروڑوں روپیہ اپنی انتخابی مہم میں جھونکتے ہیں۔

در در دھکے کھاتے اور ہر ایرے غیرے، کس و نا کس کی دہلیزیں چومتے ہیں اور پھر اگر الیکشن جیت جائیں تو انتہائی معمولی معاوضوں پر سیشنز اٹینڈ کرتے ہیں کیونکہ انہیں عوام کی خدمت کا جنون ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہر الیکشن کے بعد ایدھیوں کی اک فوج ظفر موج معرض وجود میں آ کر اپنے اپنے ایوان میں براجمان بلکہ جلوہ افروز ہو جاتی ہے لیکن اتنے ڈھیر سارے ایدھیوں کی موجودگی میں بھی ملک مقروض اور عوام بجھے ہوئے چولہوں کے سامنے اوندھے منہ پڑے ہیں تو کیا یہاں کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور اس کھیل میں لینے کیا آتے ہیں؟

یہ ہے مختصر ترین آئوٹ لائن اس کھیل کی جسے مجھ جیسے احمق پیار سے ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کہتے ہیں اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہی تو ایک ’’بزنس‘‘ ہے جس میں گھاٹے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کئی سو فیصد منافع کی گارنٹی ہے۔

اور یہی وہ اکلوتی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار جیسا ’’سمارٹ‘‘ بھی سچوئشین سنبھال نہیں سکا کہ یہی اس کے مالکان نے بھی کیا یعنی…..’’جناب سپیکر! یہ ہیں وہ ذرائع‘‘….اور ’’بیرون ملک کیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں‘‘ اسحاق ڈار نے اپنے اک اور مقامی انٹرویو میں اپنی اولادوں پر نازل ہونے والی ’’برکتوں‘‘ کو بھی ذکر کیا جس پر یہ پوچھنا بنتا تھا کہ ’’حضور! پوری دنیا میں ’’برکت‘‘ صرف آپ اور آپ کے اہل و عیال کے تعاقب میں ہی کیوں رہتی ہے؟‘‘

لیکن رب العالمین کے بھی اپنے ہی ڈیزائنز ہیں جو ہم جیسے فانیوں کو سمجھ نہیں آتے اور بے شک وہ بڑے سے بڑے نقاب پوشوں کے پردے بھی چاک کر دیتا ہے۔

ابراہم لنکن نے کہا تھا۔

“NO MAN HAS A GOOD ENOUGH MEMORY TO MAKE A SUCCESSFUL LIAR”:

ڈار صاحب اپنے وہ اثاثے بھی بھول گئے جو ٹیکس ریٹرن میں ڈیکلیئر کر رکھے تھے کہ ہمارے اک محاورے کے مطابق اللہ میاں اوپر بیٹھ کر کسی کو ڈانگ نہیں مارتا، صرف اس کی مت مار دیتا ہے۔ فرانسیسی زبان کے ایک مقبول محاورے کا انگریزی ترجمہ کچھ یوں ہو گا۔

“SHOW ME A LIAR, AND I WILL SHOW YOU A THIEF”

تم مجھےایک جھوٹا شخص دکھائو، میں تمہیں اک چور دکھا دوں گا‘‘

کچھ لوگوں کے جتنے ناقابل تردید قسم کے پے در پے جھوٹ گزشتہ دو تین سالوں میں پکڑے گئے ہیں، اس کے بعد بھی اگر کسی کو ان کے بارے میں کوئی شک ہے تو اللہ اس کی حالت پر رحم فرمائے کہ جھوٹ اور چوری تو جڑواں بھائی بہن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں