سیر ۃ النبیﷺ 206

“رسول پاک کی مسکراہٹیں”

“رسول پاک کی مسکراہٹیں”
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
ما رأيت أحداً أكثرَ تَبسماً مِن رَسولُ الله ُ صَلى الله عِليهِ وسَلَّم
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا
سنن ترمذی کتاب المناقب عن رسول اللہ باب فی بشاشۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم،
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
ایک بوڑھی عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی:
“اے اللہ کے رسول! دعا کیجیے کہ اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے”
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا :
يا أم فلان إن الجنة لا تدخلها عجوز
اے فلاں کی ماں! جنت میں تو کوئی بوڑھی عورت داخل نہیں ہو گی،
وہ یہ سن کر رونے لگیں۔
تو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےحاضرین سے فرمایا:
أخبروها أنها لا تدخلها وهي عجوز إن الله تعالى يقول :
إنا أنشأناهن إنشاء فجعلناهن أبكارا عربا أترابا
اسے بتاؤ کہ وہ اس حال میں جنت میں نہیں جائے گی کہ وہ بوڑھی ہو ( یعنی اللہ تعالیٰ جنتی عورتوں کو جوان کر کے اس میں داخل کرےگا)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
“ہم نے اٹھایا ان (جنتی) عورتوں کو ایک اچھی اٹھان پر، پھر کیا انکو کنواریاں، پیار دلانے والیاں، ہم عمر،
سنن ترمذی

أن رجلا استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال. ..
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری مانگی،
تو آپ نے (مزاحاً ) اِرشاد فرمایا :
إني حاملك على ولد ناقة
میں تمہیں اونٹی کے بچے پر سوار کروں گا
تو ا س شخص نے کہا :
يا رسول الله ما أصنع بولد الناقة ؟
اے اللہ رسول! اونٹی کے بچے کو لے کر میں کیا کروں گا؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
وهل تلد الإبل إلا النّوق ؟
ہر اونٹ کسی اونٹی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے
سنن ترمذی کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ۔ باب ما جاء فی المزاح
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں :
یارسول الله إنك تداعبنا
اے اللہ کے رسول آپ ہمارے ساتھ مزاح بھی فرماتے ہیں ؟
تو رسول پاک نے اِرشاد فرمایا
نعم غير أني لا أقول إلا حقاً
ہاں (میں مذاق کرتا ہوں ) لیکن میں حق (بات)کے علاوہ کچھ اور نہیں کہتا،
سنن ترمذی کتاب البر و الصلۃ عن رسول اللہ باب ما جاء فی المزاح۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں