Allama Junaid Baghdadi 19

رسول اللہ ﷺ بحیثیت افضل الخلق مفتی محمد جنید بغدادی

61 / 100

رسول اللہ ﷺ بحیثیت افضل الخلق
تحریر: مذہبی سکالر ابوالحسام مفتی محمد جنید بغدادی
(پی ایچ ڈی سکالر نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ، اسلام آباد)
اللہ تبارک وتعالی نے اپنی تمام مخلوقات میں اپنے حبیب مکرم حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کوسب سے افضل سب سے اعلیٰ سب سے ارفع سب سے اجمل سب سے اکمل سب سے انسب سب سے انور سب سے اعلم بنایا،اور ہر اعتبارسے آپ کے شرف و عزت کو سب پر فوقیت عطا فر مائی ،حقیقت یہ ہے کہ تعریف وتوصیف کے تمام تر الفاظ آپ کی عظمت شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
اور آپ ﷺکی ذات اقدس ان الفاظ کی تعبیرات سے بہت بلند و بالا ہے ۔اس لئے جو قرآن حکیم اور صحیح روایات میں وارد ہیں اسی کے مطابق ہم آپ ﷺکی شان افضلیت مختلف جہتوں سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح عالم ارواح میں ساری مخلوق سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا اسی طرح تمام مخلوقوں سے افضل جماعت انبیائے کرام سے اپنے حبیب پر ایمان لانے اور ان کی حمایت ونصرت کرنے کا عہد لیا ،گو یا اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ واضح فر مادیا کہ آپ ﷺتمام نبیوں کے نبی اور تمام رسولوں کے بھی رسول ہوں گے ،چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ فَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ” (سورہ آل عمران ،آیت:۸۱،۸۲)
اے محبوب !یاد کیجئے جب اللہ تعالی نے نبیوں سے یہ عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس ایک عظیم رسول آئے جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہو ،تو تم اس پر ضرور بہ ضرور ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ،فرمایا: کیا تم نے اقرار کر لیا اور میرے اس بھاری عہد کو قبول کر لیا ؟انہوں نے کہا :ہم نے اقرار کر لیا ،فرمایا تم اس عہد پر گواہ ہوجائواور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں پھر جو شخص اس عہد کے بعد پھِر گیا تو وہ لوگ فا سق ہوں گے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نبی کو ایک محدود زمانے اور محدود قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فر مایا مگر آپ ﷺکو قیامت تک کے صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے لئے نبی بنا کر بھیجا ۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (سورہ فرقان،آیت:۱)
بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے مقدس بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے ڈرانے والے ہوں۔
اور دوسری جگہ ارشاد فر مایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سورہ سباء ، آیت: ۲۸)
اور ہم نے آپ کو (قیامت تک کے)تمام لوگوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ۔
اللہ جل مجدہ الکریم نے آپ ﷺکو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ،تو ہر شخص حصولِ رحمت میں آپ ﷺ کا محتا ج ہے اورآپ مخلوق میں کسی کے محتاج نہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (سورہ انبیاء،آیت:۱۰۷)
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔
اللہ تعالی قیامت کے دن آپ ﷺکو مقام محمود پر فائز فر مائے گا جہاں سب اگلے پچھلے لوگ آپ ﷺ کی تعریف و تو صیف کریں گے اور یہ مرتبہ آپ ﷺ کے سوا مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہ ہوگا ،چنانچہ فر مان باری تعالی ہے:
عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (سورہ بنی اسرائیل،آیت:۷۹)
عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر جلوہ گر فر مائے گا۔
اللہ عز وجل نے اس جہان میں اپنے محبوب مکرم ﷺکے علاوہ کسی کو بھی اپنے دیدار سے شر ف یاب نہ فر مایا،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن شفیق سے روایت ہے :وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا :اگر میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو آپ ﷺ سے میں ضرور پوچھتا۔انہوں نے کہا تم کس چیز کے بارے میں پو چھتے ؟کہا:میں آپ ﷺ سے پوچھتا ،کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا :میں نے اس کے بارے میں پو چھ لیا ہے۔
قال رأیتُ نورا“حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا :میں نے دیکھا وہ نور ہے۔ (مسلم،حدیث:۱۷۸)

اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا:رأیت ربی تبارک وتعالی،کہ میں نے اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا ۔
(مسند امام احمد بن حنبل، جلد:۱ ؍ص: ۲۹۰، تحت مسند عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ،حدیث:۲۶۲۳،۲۶۷۸)
اللہ رب العزت نے مختلف انبیائے کرام کو مختلف کتابیں عطا فر مائی ۔مگر اس کی حفاظت اپنے ذمہ کرم پر نہ لیا اس وجہ سے وہ کتابیں زمانے کے دست برد سے محفوظ نہ رہ سکیں مگر اپنے محبوب ﷺکو جو کتاب عطا فر مائی ۔
اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لیا اور اسے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادیا ۔
چنانچہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (سورہ حجر،آیت:۹)
بے شک ہم نے ہی قرآن عظیم کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکے لائے ہوئے دین کو اپنی نعمت تامہ قراردیا اور فر مایا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سورہ مائدہ،آیت:۳)
آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین کے پسند کر لیا۔
اور آپ کے دین کو ادیان سابقہ کے لئے ناسخ قرار دیا اور فر مایا:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ (سورہ آل عمران،آیت:۸۵)
جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کرے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔
یہ آپ ﷺکی تمام انبیائے کرام پر عظیم فضیلت ہے کہ آفتاب محمدی کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی نبی یا رسول کی شریعت کا چراغ نہیں جلے گا یہاں تک کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ظا ہری حیات سے ہوتے تو آپ کی پیروی کرتے اور جب حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ بھی آپ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سوائے آقائے کریم ﷺکے کسی کو یہ مقام نہ دیا کہ وہ خود اس کی رِضا کا طالب ہو ۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى (سورۃ الضحیٰ،آیت:۵)
اور عنقریب آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔
حدیث: اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں آپ ﷺسے زیادہ افضل کسی کو بنایا ہی نہیں ۔چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :رسول اللہ ﷺنے فر مایا کہ:جبر ئیل علیہ السلام نے کہا: میں نے تمام زمین کے اطراف و اکناف اور گوشہ گوشہ کو چھان مارا مگر نہ تو میں نے محمد مصطفی ﷺ سے بہتر کسی کو پایا اور نہ ہی میں نے بنو ہاشم کے گھر سے بڑھ کر بہتر کوئی گھر دیکھا۔
(المعجم الاوسط،جلد:۶؍ص:۲۳۷،حدیث: ۲۶۸۵)
حدیث: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو مقام ومرتبہ عطا فر مایا وہ کسی کو نہ دیا اور نہ دے گا ۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :نبی اکرم ﷺنے فر مایا:سب سے پہلا شخص میں ہوں جو زمین سے نکلے گا ، پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا ،پھر میں عرش کے دائیں جانب کھڑا ہوں گا ،اس مقام پر مخلوقات میں سے میرے سوا کوئی نہیں کھڑا ہوگا۔
(ترمذی ،کتاب المناقب عن رسول اللہ ﷺ،حدیث:۳۶۱۱)
اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایاکہ:قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گااور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ،ہر شخص قیامت کے دن میر ے جھنڈے کے نیچے ہوگا ،کشادگی کا انتظار کرتے ہوئے۔اور بے شک میرے پاس حمد کا جھنڈا ہوگا ،میں چلوں گا اور لوگ بھی میرے ساتھ چلیں گے یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے پر آئوں گا ،تو میں اسے کھلوائوں گا ،کہا جائے گا کون؟ میں کہوں گا :محمد(ﷺ)تو کہا جائے گا خوش آمدیدمحمد(ﷺ)پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو دیکھتے ہی میں سجدہ میں گِر جاؤں گا۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب الایمان،حدیث:۸۲)
حدیث: اللہ عز وجل نے اپنی مخلوق میں سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے سواکسی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ نہ ملایا اور نہ ہی آپ ﷺ سے زیا دہ کسی کو محبوبیت عطا فر مائی۔
چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺنے کہا :جب حضرت آدم سے خطائے اجتہادی سرزد ہوئی تو انہوں نے دعا کی : اے میرے رب !میں تجھ سے محمد ﷺکے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما،اس پر اللہ رب العزت نے فر مایا:ائے آدم !تونے محمد ﷺ کو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا،؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا :مولا! جب تونے اپنے دست قدرت سے مجھے پیدا کیا اور اپنی روح میرے اند ر پھونکی میں نے اپنا سر اوپر اٹھایاتو عرش کے پایوں پر لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا ،میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہو سکتا ہے۔

جو تمام مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فر مایا:
اےآدم !تو نے سچ کہا:مجھے ساری مخلوق میں سب سے زیادہ وہی محبوب ہیں ،اب جبکہ تم نے اس کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمد(ﷺ)نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہیں کرتا۔امام حاکم نے کہا کہ :یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،حدیث:۴۲۲۸)
مختصر ا یہ چند باتیں آقائے کریم ﷺکی افضلیت سے متعلق درج کی گئیں ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺکی شان وعزت خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں کیا ہے؟ اسے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔رب کریم سے عاجزانہ التجا ہے کہ ہمیں اپنے حبیب مکرم ﷺکی عظمتوں کے صدقے دارین کی سعادتیں نصیب عطا فر مائے اور ہمارے سینوں میں آپ ﷺ کی عظمت و محبت کو ثبت فرمائے۔
(آمین بجاہ سید المر سلین)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں