رسول اللہ ﷺ کا تبسم 12

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم

11 / 100

ضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’قہقہہ شیطان کی طرف سے ہے اورتبسم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، (المعجم الصغیر:1057)‘‘۔بلند آواز سے کھلکھلا کراس طرح ہنسنا کہ دور تک ہنسی کی آواز سنائی دے ’’قہقہہ ‘‘کہلاتا ہے اور چہرے کا انبساط کہ جس میں صرف ہونٹ پھیلیں مگر کُھلیں نہیںاور ہنسنے کی بالکل آواز سنائی نہ دے ’’تبسم‘‘کہلاتا ہے اور اگر چہرے کے انبساط کے ساتھ ہونٹ کھلیں ، دانت ظاہرہوں اور منہ سے ہلکی سے آواز نکلے تو اسے ’’ضِحْک‘‘کہاجاتاہے۔مسکراہٹ وتبسم کی کثرت مرغوب اور پسندیدہ امر ہے،جبکہ زیادہ ہنسنا معیوب اور ناپسندیدہ بات ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’لوگوں کو چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ ،(التوبہ:82)‘‘۔ احادیثِ مبارکہ میں ہے:
(1):’’رسول اللہﷺنے فرمایا:میں ان چیزوں کو دیکھتاہوں، جن کو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں ان چیزوں کو سنتا ہوں، جن کو تم نہیں سن سکتے ، آسمان چرچرارہا ہے اور اُسے چرچرانے کا حق ہے ،اس میں ہر چار انگشت پر ایک فرشتہ اپنی پیشانی کو اللہ کے لیے سجدہ میں رکھے ہوئے ہے،اللہ کی قسم!اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوںتو تم ہنسو گے کم اور روو ٔگے زیادہ اور تم بستروں اور عورتوںسے لذت لینا چھوڑ دوگے اور تم اللہ سے فریاد کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاؤگے،حضرت ابوذر نے فرمایا:کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیاجاتا، (ترمذی: 2312)‘‘،(2)’’حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:اے لوگو!روؤ،اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو،کیونکہ دوزخی دوزخ میں روئیں گے ،حتیٰ کہ اُن کے آنسو اُن کے چہروں پر اس طرح بہیں گے گویا کہ وہ نہریں ہیں،پھر ان کا خون بہنے لگے گا اور وہ خون اتنا زیادہ بہہ رہا ہوگا کہ اس میں کشتی چلائی جائے تو وہ چل پڑے، (مسندابویعلیٰ: 4134)‘‘، (3):’’رسول اللہﷺنے فرمایا:’’زیادہ نہ ہنساکرو،کیونکہ زیادہ ہنسنا دِل کو مُردہ کردیتا ہے،( ابن ماجہ:4193)‘‘۔
نبی کریمﷺ سنجیدگی ومتانت اور عظمت و وقارکے ساتھ ساتھ خوش اخلاقی کا حسین پیکر تھے،آپ اپنی ازواج، متعلقین و اصحاب اورہر ملاقاتی کے ساتھ لطف وکرم، محبت ومودت شفقت ونرمی کا برتائو کرتے تھے،ان کے ساتھ دل لگی کرکے اُن کے ذہنوں کو جِلا بخشتے تھے ، آپ کے مزاج میں درشتی اورسختی کانام ونشان نہیں تھا،اللہ تعالیٰ نے آپ کے اِسی وصف کو اپنی رحمت سے تعبیر فرمایاہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’(اے حبیب!)یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، ورنہ اگر کہیں تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردو پیش سے چھٹ جاتے،(آل عمران:159)‘‘۔نبی کریمﷺ ہر ایک کے ساتھ کھلے دل اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرتے تھے اور ہر ایک کو اپنی دلکش مسکراہٹوں سے فیضیاب کرتے تھے ،احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺاکثر اوقات تبسم ہی فرمایاکرتے تھے،
(1):’’اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں:میں نے کبھی رسول اللہ ﷺکو ٹھٹھا مارکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، آپﷺصرف تبسم فرماتے تھے، (بخاری:6092)‘‘،
(2)’’حضرت عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں:میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ کسی کو تبسم فرماتے نہیں دیکھا،(ترمذی:3641)‘‘،
(3)’’حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺکی پنڈلیاں مبارک متوسط تھیں اورآپ کبھی قہقہہ مار کر نہیں ہنستے تھے ،آپ صرف مسکرایاکرتے تھے ،جب میں نبی کریمﷺکی طرف نظر اُٹھاکر دیکھتا تو میں یہی سمجھتا تھا کہ آپ نے دونوں آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا ہے ،حالانکہ آپ نے سُرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا،(شمائل ترمذی:ص136)‘‘،
(4)’’حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں:’’میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت کیا : جب نبی کریمﷺگھر تشریف لاتے توآپ کا طریقہ کار کیا تھا،آپ نے فرمایا:آپ تمام لوگوں سے بڑھ کرنیکیوں کے دلدادہ اورسب سے زیادہ کریمانہ اخلاق والے تھے،آپ ہنستے بھی تھے اور مسکراتے بھی تھے،(اَخْلَاقُ النَّبِیْ لِاَبِی الشَّیْخِ الْاَصْبَہَانِیْ:ص:130)‘‘،
(5)’’حضرت اُم الدرداء بیان کرتی ہیں:میرے خاوند ابوالدرداء جب بھی کوئی بات کرتے تو مسکراکرکیا کرتے تھے ،میں نے اُن سے کہا:آپ جب بھی بات کرتے ہیں تو مسکراتے ہیں،کہیں لوگ آپ کو بیوقوف سمجھنا شروع نہ کردیں،اُنہوں نے جواب دیا:میں نے جب بھی نبی کریمﷺکو کوئی بات کرتے دیکھا ہے تومسکراتے ہوئے دیکھا ہے ،(مسنداحمد:21732)، امام احمد رضا قادری نے فرمایا:
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
بعض خاص مواقع پر آپ کاضِحک فرمانا بھی ثابت ہے، بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی بات پر اتناہنسے کہ آپ کے نواجذ (داڑھ مبارک)دکھائی دینے لگے، لیکن اس کی نوبت بہت ہی کم آتی تھی اور آپ کا اس طرح ہنسنا اس وقت ہوتا جب آپ آخرت کی نعمتوں کو بیان فرماتے،
(1):’’نبی کریمﷺنے فرمایا:میں خوب جانتا ہوں کہ سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا کون ہوگااور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا کون ہوگا، ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتاہوا نکلے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا:جااور جنت میں داخل ہو جا، وہ جنت کے پاس آئے گا اوراس کے دل میں خیال ڈالا جائے گا کہ جنت توبھر چکی ہے، وہ لوٹے گا اور عرض کرے گا: میرے رب!میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جااور جنت میں داخل ہو جا، وہ پھر آئے گا ،لیکن اس کے دل میں خیال ڈالا جائے گا کہ جنّت تو بھر چکی ہے ، وہ لوٹے گا اور عرض کرے گا : میرے رب!میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا،اللہ تعالیٰ فرمائے گا :جا اور جنت میں داخل ہو جا،تیرے لیے دنیا کی مثل ہے اور اس جیسی دس مثالیں ہیں، وہ شخص عرض کرے گا :یا اللہ! تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ توبادشاہ ہے،(راوی کہتے ہیں:) میں نے دیکھا : رسول اللہﷺ ہنس دیے حتیٰ کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اورآپ فرمارہے تھے: یہ اہلِ جنّت میں سے ادنیٰ کا درجہ ہے، (بخاری: 6571)‘‘،
(2)’’رسول اللہﷺکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی:میں تو تباہ ہو گیا،میں نے اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں (روزے کی حالت میں)ہمبستری کر لی ہے، آپﷺنے فرمایا:تم ایک غلام کوآزاد کرو، اس نے کہا:میرے پاس کوئی غلام نہیں ہے،آپ نے فرمایا:پھر دو مہینے کے روزے رکھ لو، اس نے کہا:اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے،نبی کریمﷺنے فرمایا:پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو،اس نے کہا:میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا،نبی کریمﷺنے فرمایا:بیٹھ جاؤ،کچھ دیر بعد آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا،آپﷺ نے فرمایا:مسئلہ پوچھنے والا شخص کہاں ہے، پھر آپ نے وہ کھجوریں اُسے دیں اور فرمایا:انہیں صدقہ کر دو،اُس نے پوچھا: جو مجھ سے زیادہ محتاج ہواُسے دوں،فرمایا:ہاں!اس نے کہا: اللہ کی قسم!مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہے، اس پر نبی کریمﷺہنس دیے حتی کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے،پھر فرمایا: اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اِسے کھا لو،(بخاری:6087)‘‘۔
نبی کریمﷺ اپنے جاں نثاروں اور غلاموں کی دل جوئی اور دل لگی کے لیے بسااوقات خوش طبعی اور لطیف مزاح بھی فرمایا کرتے تھے۔ایسی خوش طبعی اور ہنسی مذاق جو دل شکنی اور ایذا رسانی کا باعث ہو یا جھوٹ پر مشتمل ہو، جائز نہیں ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا:’’ا پنے (مسلمان)بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اس سے (ایسا)مذاق کرو (جس سے اس کو تکلیف پہنچے)اور نہ ایسا وعدہ کرو جس کو پورا نہ کروسکو، (ترمذی:1995)‘‘۔ جبکہ ایسی خوش طبعی اور ہنسی مذاق جس میں کسی کی دل شکنی ،ایذارسانی اور جھوٹ کا پہلو نہ ہو، وہ جائز بلکہ بسا اوقات پسندیدہ ہے۔رسول اللہﷺ کی خوش طبعی اِسی نوع کی ہوا کرتی تھی،رسول اللہﷺنے فرمایا:’’میں بھی مزاح کرتا ہوں ،لیکن ہمیشہ سچ ہی کہتا ہوں،(المعجم الصغیر:779)‘‘۔ ’’ایک موقع پر صحابہ کرام نے عرض کی:یارسول اللہ!آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں،آپ نے فرمایا: ہاں!لیکن اس خوش طبعی میں بھی میں سچی بات کہتاہوں، (ترمذی:1990)‘‘۔کتب احادیث وسیر میں نبی کریمﷺکی خوش طبعی اور مزاح کے بہت سے واقعات مذکور ہیں، ان میں چند درج ذیل ہیں:
(۱):’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں نبی ﷺکے ساتھ سفر میں تھی، اس وقت تک میںہلکی پھلکی تھی، فربہ بدن نہیں ہوئی تھی۔ آپ نے لوگوں کو آگے بڑھ جانے کی ہدایت کی، پھر مجھ سے فرمایا:آئو دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں ، میں آپ کے ساتھ دوڑی اور آگے نکل گئی۔ آپ خاموش ہوگئے، کچھ عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر مجھے آپ کے ساتھ سفر میں جانے کا اتفاق ہوا، اس وقت میں فربہ بدن ہوگئی تھی، آپ نے اس موقع پر بھی اپنے اصحاب کو آگے بڑھ جانے کا حکم دیا، پھر مجھ سے فرمایا:آئو دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں ،میں آپ کے ساتھ دوڑی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے، آپ ہنسنے لگے اور فرمایا:یہ اُس دن کا بدلہ ہے،(مسنداحمد:26277)‘‘۔
(۲):’’ایک دیہاتی صحابی حضرت زاہربن حرام نبی کریمﷺکی خدمتِ اقدس میں دیہات کی چیزیں بہ طورِ تحفہ لایاکرتے تھے اورنبی کریمﷺ انہیں شہر کی چیزیں تحفہ دیا کرتے تھے،وہ اگرچہ زیادہ خوش شکل نہیں تھے، مگرآپ اُن سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے، ایک دن وہ بازار میں بیٹھے کچھ سامان فروخت رہے تھے ، نبی کریمﷺنے پیچھے سے آکر اُن کی آنکھوں پر اپنا دستِ مبارک رکھ دیا اور فرمایا:اس غلام کو کون خریدناچاہتا ہے، اُنہوں نے نبیﷺکو دیکھا نہیںتھا، وہ کہنے لگے:مجھے چھوڑ دو کون ہو،اُنہوں نے مڑ کر دیکھا تو حضور ﷺتھے،حضرت زاہرنے عرض کی:یارسول اللہ!مجھ ایسے غلام کو جو خریدے گا نقصان ہی اٹھائے گا،آپ نے فرمایا:تم خدا کی نظر میں ناکارہ نہیں ،بہت گراں قیمت ہو،(مسند احمد:12648)‘‘۔
(۳):’’حضرت صہیب کی آنکھ میں تکلیف تھی ،اُنہیں نبی ﷺنے دیکھا کہ وہ کھجور کھارہے ہیں، آپ نے خوش طبعی کے طور پرفرمایا:تمہاری آنکھ میں تکلیف ہے اور تم کھجوریں کھارہے ہو،حضرت صہیب نے عرض کی:میں یہ کھجوریں صحیح آنکھ کی طرف سے کھارہا ہوں،یہ سن کر نبی کریمﷺ مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ کی داڑھ مبارک ظاہر ہوگئیں،(مسند البزار:2095)‘‘۔اس روایت میں جہاںنبی کریمﷺ کی خوش طبعی کا ذکر ہے، وہیں یہ بھی بیان ہے کہ صحابہ ٔکرام بھی ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے آپ کے ساتھ خوش طبعی کیا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا:کیا رسول اللہﷺ کے صحابہ ہنسا کرتے تھے،فرمایا:ہاں!اور اُن کے دلوں میںایمان پہاڑ سے مضبوط تھا،(شرح السنہ:ج:6،ص:375)‘‘۔مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:’’شاید سائل نے وہ حدیث سنی ہوگی : ’’زیادہ ہنسنا دل کومُردہ کرتا ہے‘‘، توا ُس نے سوچا ہوگا کہ صحابہ کرام شایدکبھی نہ ہنستے ہوں گے،کیونکہ وہ حضرات توزندہ دل تھے، پھر انہیں ہنسی سے کیا تعلُّق،حضرت ابن عمر نے ہاںمیں جواب دیا اور بتایا کہ ہنسنا حرام نہیں حلال ہے، صحابہ کرام اس طرح نہیں ہنستے تھے جو دل کو مُردہ کردے یعنی ہر وَقت ہنستے رہنا،بلکہ اس طرح ہنستے تھے جو دل کو شِگُفتہ رکھے اور سامنے والے کو بھی شِگُفتہ بنادے،(مرآۃ المناجیح:ج:6،ص:404)‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں