دین سے بیزاری 20

دین سے بیزاری اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

57 / 100

دین سے بیزاری اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تحری:۔ ابو الوفا محمد حماد
عبد الماجد دریابادی مرحوم کے حالات زندگی کا مطالعہ کر رہا تھا، آپ زندگی کے ابتدائی ایام میں دین بیزار ہوگئے تھے، خدا کا انکار کردیا، میٹافزکس یا مابعد الطبیعات کے باب میں بے یقینی سے بھی ایک درجہ اوپر چلے گئے، پھر بتدریج اسلام کی طرف واپسی ہوئی۔

میں نے ان کی داستان سے ایک نتیجہ اخذ کیا، بلکہ انہوں نے خود بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ الحاد کی طرف جانے کا سبب مشکل فلسفیانہ موضوعات بنے تھے اور ابن عربی کی تعبیرات بنی تھیں، بعد ازاں اسلام کی طرف واپسی کا سبب لطف، ادب اور احسان و سلوک سے تعلق رکھنے والی کتابیں ہوئیں۔

اس طرح کی دیگر داستانیں بھی ہیں، خود علامہ غزالی رحمہ اللہ تاعمر فلسفیانہ مباحث میں بھٹکنے کے بعد ایک سادگی کی سی زندگی میں پناہ لیتے ہیں۔

ایک بزرگ ہوا کرتے تھے، بڑا چرچا تھا، تاحیاتی فلسفے اور منطق کی ڈوریاں سلجھانے میں الجھے رہے، پھر یوں ہوا کہ مرتے وقت فرما گئے، میں ایک سادہ لوح بزرگ کے عقیدے پر مر رہا ہوں۔

خود ہم نے یہ جانا کہ مشکل مباحث انسان کے اندر ایک غرور اور تکبر پیدا کردیتے ہیں، دماغ خشک ہوجاتا ہے، ہربات پر تنقید کی عادت اسے ہرچیز سے بیزار کر دیتی ہے۔ حتی ان مباحث سے ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوا جو خود کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ کہتا تھا : معلوم نہیں ہم بھی ہیں یا نہیں ہیں۔

دوسری طرف ادب اور جمال ہے۔ جمالیات، ادبیات اور سوز اسلامی تہذیب کا گجر رہے ہیں، کل ہم سے ایک جملہ سرزد ہوا تھا، جس معاشرے میں نعت کم ہے، وہ معاشرہ الحاد کی طرف جانے میں دیر نہیں لگاتا۔ ہم چوں کہ وہابی ہیں، کل وقتی خشک مزاج، ہمیں عجیب لگے گا۔ لیکن اسلامی تہذیب کا مطالعہ، سیدنا بلال کی اذان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی نعت، مدینہ کی استقبالیہ کمیٹی کے نغمے، خندق کی کھدائی کے وقت صحابہ کا نغمہ،
نحن الذین بایعوا محمدا
علی الجہاد ما بقینا ابدا
اماں عائشہ صدیقہ کی ادب پروری اور مدینہ کے بچیوں کے دف کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اب ہم لوگ جنہوں نے بھدے سے بابوں کو مساجد میں اذان خراب کرنے پر لگا رکھا ہے، اذان بلالی کا جمال کیسے سمجھ پائیں گے۔ ہم کیوں کر سمجھیں گے کہ سمجھیں گے کملی والے کی تلاوت سن کر بھی لوگ مسلمان ہوجایا کرتے تھے۔ نعت ہمارے معاشرے کا حسن ہے اور ہم اس سے اتنے دور ہیں کہ بس !

کیا آپ جانتے ہیں ہماری بوڑھی ماوں کو بابا محمد لکھوی مرحوم کے اشعار میں پوری تفسیر قرآن یاد ہوا کرتی تھی اور اب یوں ہے کہ نعت لکھنا اور سننا جیسے جنس ممنوع قرار دیا جاچکا ہو

المختصر خشک علمی مباحث ایک اچھی زندگی کے لئے زہر قاتل ہیں، لہذا ان سے جتنا ممکن ہو کنی کترا کر نکل لیا کریں، نعت ادب نغمے کی طرف دھیان دیں، زہد کی کتابیات کا مطالعہ کیا کریں، ایمان کا لیول بڑھ جائے گا۔ یہ میرا خیال ہے آپ کا اس سے متفق ہونا بہت ضروری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں