saadullah-shah 17

دھرنا اور تعلیم

59 / 100

دھرنا اور تعلیم
سعد اللہ شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ دیدۂ نمناک لئے سینۂ صد چاک لئے دور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ اب تو دو چار قدم کی تکلیف بھی کوئی گوارا نہیں کرتا ،بس کئی جنونی اور سرپھرے ہیں جو اپنے سفر کو موقوف نہیں ہونے دیتے۔ جو بات میں کرنے جا رہا ہوں وہ سنجیدہ اور فکر انگیز ہے مگر ہلکے پھلکے پیرایہ میں بات کی جائے سمجھ میں سرعت کے ساتھ آ جاتی ہے۔ بہت مزیدار مختصر کہاوت ہے کہ کوئی شخص شرط لگا رہا تھا کہ ایک کلو چھولیا کھا کر دکھائو۔ ابھی شرط طے نہیں ہوئی تھی کہ پاس ہی سے ایک گزرنے والے پوچھ لیا’’جی یہ چھولیا نکال کر کھانا ہے یا ڈنٹھل سمیت۔ شرط لگانے والا گھبرا گیا اور راہی سے کہنے لگا جائو جی آپ کی بات نہیں ہو رہی ،مقصد اس کا یہ تھا ڈنٹھل سمیت چھولیا کھانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ کی مخلوق میں بڑی ورائٹی ہے۔ مندرجہ بالا واقعہ لکھنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ سراج الحق صاحب نے عمران خاں کی پی ڈی ایم کو کی گئی پیشکش کہ ایک ہفتے کا دھرنا دو تو وہ استعفیٰ کا سوچیں گے ،کے جواب کہہ دیا کہ وہ عمران خان کی ہفتے کے دھرنے کی خواہش بھی پوری کر دیں گے مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کا جواب ضرور آئے گا کہ قبلہ آپ کی بات نہیں ہو رہی۔ دنیا جانتی ہے کہ سراج الحق تو جماعت اسلامی کے کارکنوں کو لے کر چھ ماہ کا دھرنا بھی دے دیں گے۔ دوسری بات یہ کہ پی ڈی ایم کو تو کہیں سے این او سی لینا پڑے گا۔ اسی این او سی کی بنیاد پر خان صاحب نے سوا سو دن کا دھرنا دیا تھا۔ مگر سراج الحق صاحب اپنے دھرنے کو رنگین نہیں بنا سکتے کہ گرتے ہیں لوگ گرمئی بازار دیکھ کر۔ غالب نے بھی تو دھرنا دیا تھا: دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں میرے قارئین !مجھے تو فکر لاحق ہے کہ ہمارے بچوں کا کیا بنے گا کہ بچگانہ کام تو حکومت نے شروع کر رکھے ہیں کہ کوئی دھرنے دیتا ہے تو کوئی ریلی نکالتا ہے ،کوئی مزید بڑے دھرنے کے لئے آزماتا ہے ۔ اک تماشہ لگا ہوا ہے سب خوش ہیں کہ عوام تماشائی بنی ہوئی ہے یعنی توجہ ہٹی ہوئی ہے۔ بچوں کو کورونا کے نام پر گھروں میں مقید کر رکھا ہے بلکہ بچوں نے محلوں میں اودھم مچایا ہوا ہے یا گھر والوں کو انگیج کر رکھا ہے کہ بچے تو بچے ہیں ان کے ساتھ آن لائن آپ بیٹھیں گے ان کی اسائن منٹ لینے آپ جائیں گے اور ان کو سمجھائیں گے بھی آپ ہاں فیس آپ پوری دیں گے آج میں سب سے چھوٹے بیٹے عزیز بن سعد کی اسائن منٹ لینے گیا تو راستے میں مجھے کہنے لگا ابو لگتا ہے کہ سکول دسمبر میں بھی شاید نہ کھلیں اور ہم بغیر امتحان کے نویں میں پہنچ جائیں اس کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے میں گہری سوچ میں چلا گیا پھر سوچ کر ہنسنے لگا کہ کبھی کسی نے یہ بھی سچ ہی کہا تھا لکھو گے پڑھو گے تو ہو گے خراب،ہائے ہائے یہ کتنا سچ ثابت ہوا کہ ہمارا کرکٹر وزیر اعظم ہے اور پڑھنے لکھنے والے پتہ نہیں کہاں ہیں ،کورونا کی آڑ میں حکومت کی تعلیم دشمنی ہمارے وارے میں نہیں۔ مجھے ان باتوں کا خیال یونہی نہیں آیا میں سید ارشاد احمد عارف کا کالم پڑھ رہا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ برطانیہ میں سکول کھلے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ وہاں پڑھائی ہو رہی ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ برطانیہ میں کورونا نے زیادہ قیامت ڈھا رکھی ہے مگر انگریز بہت سمجھدار ہے کہ پڑھائی ازبس ضروری ہے جہالت کورونا سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ جہالت ماشاء اللہ اسمبلیوں میں زیادہ ہے۔ جاہل وزراء کے اقوال زریں لکھنے بیٹھوں تو کالم تمام ہو جائے اور تو اور زرتاج کل کوڈ 19کو بھی انیس پوائنٹس کہتی تھیں۔ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انداز گلستان کیا ہو گا۔ اصل بات یہ ہے کہ تعلیم ہماری ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔ ہمیں تو چھٹیاں دینے کا بس موقع چاہیے اصل میں ہم تعلیم ہی کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں کہ اس تعلیم سے پہلے ہم ہیروز نکال چکے ہیں، ایجوکیشن کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے میری پی ایف اے کے صدر مزمل اقبال صدیقی سے بات ہو رہی تھی وہ کہنے لگے کہ پرائمری سکول کے بچوں کو صرف بیس دن پڑھائی کے ملے ہیں، والدین بہت پریشان ہیں مزمل اقبال قریشی نے پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے تحت فری ایجوکیشن کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ایجوکیٹر کی مستقلی کا مسئلہ ہے اور جائز ہے مگر پھروہی بات ان کی ترجیحات۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بنی گالہ کے راستے تو سیل کر دیے گئے مگر مری روڈ پر ان کا دھرناہے۔ بہت ہنسی آتی ہے جب سوچتا ہوں کہ یہ وہی لیڈرہیں جو مزدور کی تنخواہ بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا ارادہ رکھتے تھے اور اساتذہ کے حوالے سے ان کے نظریات بہت ارفع تھے وہ تو خیر روزگار کا بھی کہتے تھے کہ اگر دوسرے ملکوں سے آ کر یہاں نوکریں کریں گے چلیے وہ تو کچھ لوگ آئے بھی مگر وہ سارے ان کے دوست تھے تم ہی نہ سن سکے اگرقصہ غم سنے گا کون کس کی زبان کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے ناسمجھوں کون سمجھائے کہ تعلیم کو اولین ترجیحات میں پہلے نمبر پر ہونا چاہیے ،ہمارا تو اصل حوالہ ہی یہ ہے اسلام کی بنیاد ہی قرا سے پڑی اور پھر حضرت محمد ﷺ کو تو معلم بنا کر بھیجا گیا۔ معاشرے کو بنانے اور سدھار نے میں اسی تعلیم کا رول ہے پھر وہی رونا کہ وہاں کون کس کو سمجھائے۔ تعلیم کی کہ کاش کوئی صورت نکل آئے کہ ہمارے بچے دوبارہ سکول جانے لگیں مجھے اند یشہ یہ ہے کہ فارغ رہ کر وہ کسی اور طرف نکل جاتے ہیں خاص طور پر کالج کے بچوں میں تو بگڑنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہوتی ہے وہ کرائم کی طرف چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا جہاں کے سب کام ہو رہے ہیں ۔جلسوں اور ریلیوں میں ہی کتنا گھڑمس تھا ،بازاروں مارکیٹوں اور منڈیوں میں بے پناہ رش ہوتا ہے باقی احتیاط کریں اور کہیں میں نے دیکھا کہ سکولوں میں تو ننھے بچے بہت زیادہ ایس او پیز کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک اور بات بہت تلخ ہے کہ چھوٹے سکولوں کو بغیر پڑھائے والدین فیس بھی نہیں دیتے اور چھوٹے سکول بغیر پڑھائے اساتذہ کو تنخواہ بھی نہیں دیتے بلکہ نکال دیتے ہیں اور یہ چھوٹے سکول تعداد میں بہت زیادہ ہیں کچھ تو کرایہ بھی نہیں دے سکتے اور بند ہو گئے ایک شعر کے ساتھ اجازت: کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں