دوستی ، دشمنی کی بنیاد ، اللہ تعالٰی کی رضا 14

دوستی ، دشمنی کی بنیاد ، اللہ تعالٰی کی رضا

56 / 100

دوستی ، دشمنی کی بنیاد ، اللہ تعالٰی کی رضا
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم۔شارجہ
جامع ترمذی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :
” اپنے دوست سے محبت ایک حد تک رکھو، شاید کہ کل وہ تمہارا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے دشمنی ایک حد تک رکھو، ممکن ہے کل وہ تمہارا دوست بن جائے۔”اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا حسن اعتدال میں ہے۔ در حقیقت حسن کے معنیٰ کسی چیز کا اعتدال اور متوازن ہونا ہی ہوتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کی تخلیق احسن تقویم پر بنائی۔ ہر عضو اپنی جگہ پر متناسب بنایا۔ عادات و اعمال میں اعتدال اور توازن کا یہی حسن انسان کی شخصیت کا وقار بڑھاتا ہے۔خوشی میں آپے سے باہر نہیں ہوتا اور غم میں ذہنی توازن نہیں کھوتا، خوشحالی میں فخر کے ڈنکے نہیں بجاتا اور بد حالی میں فقر کا رونا نہیں روتا، اسی طرح دوستی اور دشمنی میں حدود کے اندر رہتا ہے۔انسانوں کے درمیان ہمیشہ ایک جیسے جذبات اور تعلقات نہیں رہتے ۔مزاجوں اور مفادات کا فرق ان میں ٹکراؤ پیدا کرتا ہے،بہت قریبی دوستوں میں نزاع ہو سکتا ہے کیونکہ اس کرۂ ار ضی میں انسانوں کے درمیان تعلقات کا ہر امکان موجود رہتا ہے۔ حدیثِ مذکور میں مومنوں کو یہی سبق دیا جا رہا ہے کہ اپنے دوستوں سے اپنے ایسے راز نہ کہو کہ جب وہ تم سے نا خوش ہوں تو تمہاری عزت سے کھیلنے لگ جائیں۔کسی بھی دوست کی خیر خواہی کا پتہ اسی وقت چلتا ہے جب باہم اختلاف اور نزاع کا موقع سامنے آئے۔
وہ شخص اللہ کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے جو اپنے دوست کی عزت کے درپے ہوجائے اور اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔ بھروسہ اور اعتماد نہ رہے تو دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ نفرت کی بنیادی وجہ اعتماد اور بھروسے کا ٹوٹنا ہوتا ہے۔ اس کا مشاہدہ اور تجربہ ہم آئے روز کرتے ہیں۔مدتوں دوستی نبھانے والے اختلافات ہونے پر ایک دوسرے کے وہ راز اگلنے لگتے ہیں جن سے اختلاف دشمنی میں ڈھل جاتا ہے۔مسند احمدمیں عبداللہ بن عمرو عاصؓ سے مروی ہے:
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین دوست وہ ہیں جو اپنے دوستوں، ساتھیوں کے ساتھ (ہر حال میں)بہتر ہیں۔”
ایک موقع پر رسو ل اللہ نے فرمایا:
“انسان کا دل ہانڈی کے جوش مارنے سے بھی زیادہ تبدیلی کا شکار ہوتا ہے۔”(مسند احمد) ۔
ہر مومن کو اپنی اور دوسروں کی اِسی قلبی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یاد رکھنا چاہئے کہ دوستی اور دشمنی کا جذبہ بھی کسی وقت بدل سکتا ہے اس لئے مومن کم گو اور اپنی لو اللہ سے لگانے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے جذبات، اپنے دکھ، اپنی خواہشوں اور تمناؤں کا اظہار سب سے زیادہ اپنے اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے کیونکہ وہی ایک وفادار دوست ہے، وہی ہمارے دکھوں کا مداوا کر سکتا ہے اور ہماری عزت نفس کا خیال رکھنے والا ہے (والذین آمنوا اشد حباً للہ) ۔
دوستی کے بارے میں جو حدود و قواعد شریعت نے نافذ کئے ہیں دوستی ان کے اندرہی رکھنا ایمان کی تکمیل ہے۔ دوستی اور محبت بھی حلال اور حرام ہوتی ہے۔ حلقہ احباب کی بنیاد اللہ کیلئے اور اللہ کی خاطر ہونا ہی دنیا و آخرت میں سرخرو کا با عث ہے۔
اسی طرح نفرت کے اظہار میں حد سے گزر جانا مومن کا شیوہ نہیں ۔ا س دنیا میں امکانات کا وسیع میدان ہے۔حالات و واقعات نفرت دور کر سکتے ہیں اور مفادات دشمنی کو دوستی میں بدل سکتے ہیں۔ دشمنی کے دوستی میں تبدیل ہونے سے زیادہ امکانات اس بات کے ہوتے ہیں کہ دوستی ، دشمنی میں تبدیل ہوجائے کیونکہ توقعات اور امیدیں ٹوٹنے سے دل دکھتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
کرو نہ کسی سے محبت زیادہ
مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ
مومن کی دوستی اور دشمنی کا پیمانہ اللہ کیلئے ہوتا ہے اس لئے وہ ہوش مند رہتا ہے۔ اپنے سارے راز ،دل کی باتیں اپنے جگری دوست سے بھی نہیں کہتا کہ اس کا اصل محبوب اس کا رب ہے اور مؤمن اختلاف، نزاع و جھگڑے میں اپنے اخلاق و ایمان سے محروم ہونے والے اعمال نہیں کرتا کہ اس کا دشمن انسان نہیں شیطان ہے اور ساری نفرت اور جنگ اسی سے ہونی چاہئے۔
اللہم انا نعوذبک من خلیل ماکر عینہ ترنا و قلبہ یرعانا۔
“اے اللہ! ہم ایسے دوست سے تیری پناہ میں آنے کی التجا کرتے ہیں جس کی آنکھیں ہمیں دیکھتی ہوں اور جس کا دل ہمارا مخالف ہو۔”
اللہم انا نسئلک حب الخیر و الھمنا رشدنا و اعذنا من شرور انفسنا
” اے اللہ! ہم ہر خیر کا سوال کرتے ہیں ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں ہمارے نفس کے شر سے بچا کے رکھیو، آمین۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں