کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ 14

دلی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ: کسان مورچہ کا دلی میں پریڈ ختم کرنے لیکن احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان

59 / 100

دلی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ: کسان مورچہ کا دلی میں پریڈ ختم کرنے لیکن احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان
نڈیا میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسانوں کی نتظیم متحدہ کسان مورچہ نے منگل کی شام دلی میں فوری طور پر ’ٹریکٹر پریڈ‘ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

منگل کی صبح ہزاروں کسان مختلف رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے ٹریکٹروں سمیت داخل ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس سے جھڑپوں میں ایک کسان کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران ان کے کم از کم 80 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زخمی اہلکاروں پر احتجاج کرنے والے کسانوں نے حملہ کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے دلی پولیس کے ترجمان اِش سنگھل کے حوالے سے بتایا کہ ’بعض مقامات پر مظاہرین پرتشدد ہوگئے تھے۔ تشدد کے دوران پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔‘

اس سے پہلے دلی کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے تنبیہ کی تھی کہ پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ کسان مورچہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’غیر سماجی عناصر‘ تحریک میں گھس گئے تھے۔

کسان مورچہ نے منگل کی شام پریڈ کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن کہا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق پریڈ ختم کیے جانے کے اعلان کے باوجود بعض کسانوں کو اپنے ٹریکٹروں پر لال قلعے کی طرف جاتے دیکھا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی اپیل اور کسانوں کا تشدد سے لاتعلقی کا اظہار
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ دلی سے واپس لوٹ آئیں۔

کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے، انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قامبل مذمت اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔’

کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انھوں نے حکومت سے اہیل کی کہ ’کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زرعات کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔‘

ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’دلی میں مناظر حیران کن ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے کیے گئے پرتشدد اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ اس سے پرامن کسانوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ کسان لیڈروں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ٹریکٹر ریلی معطل کر دی ہے۔ میں تمام حقیقی کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دلی سے نکل آئیں‘۔

عام آدمی پارٹی نے بھی دلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔

عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کیا کہ ‘تحریک گزشتہ دو ماہ سے پر امن طریقے سے جاری تھی۔ کسان راہنماؤں نے کہا ہے کہ جو لوگ آج تشدد کے لیے ذمہ دار تھے وہ تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ باہر سے آنے والے عناصر تھے۔ وہ جو بھی تھے، تشدد نے یقینی طور پر تحریک کو کمزور کیا ہے، جو اب تک اتنے امن اور ڈسپلین کے ساتھ چل رہی تھی۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں