18

دعوتِ شیراز. ڈاکٹر عبدالقدیر خان

57 / 100

دعوتِ شیراز. ڈاکٹر عبدالقدیر خان
حسین احمد شیرازی صاحب کو کون نہیں جانتا۔ کم از کم میں تو ان کو 1976سے جانتا ہوں۔ ہمہ گیر شخصیت کے مالک، پُرمزاح، ہمیشہ مسکراتا چہرہ، ہمیشہ بہار کی طرح نوجوان، 1976اور 2021ءمیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی، اللہ پاک نظربد سے محفوظ رکھے۔ سدابہاری کی وجہ غالباً مزاحیہ باتیں کرنا، مزاحیہ باتیں تحریر کرنا اور مزاحیہ باتیں سنانا ہے۔ قبل اسکے کہ انکی نئی اور دل کو موہ لینے والی کتاب پر کچھ لکھنے کی جسارت کروں‘ آپ کو 1976 میں لے چلتا ہوں۔ جولائی 1976ءکے اواخر میں بھٹو صاحب مرحوم (ﷲ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!) نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام میری نگرانی میں اٹامک انرجی کمیشن سے علیحدہ کردیا۔ میں چھ ماہ سے وہاں ایڈوائزر کے طور پر کام کررہا تھا اور کام کیا جھک مار رہا تھا۔ میں نے بھٹو صاحب کو خط لکھ دیا کہ اس طرح یہ کام ناممکن ہے اور میں واپس ہالینڈ جارہا ہوں۔ انھوں نے ملاقات کے لئے فوراًبلایا اور تمام تفصیل سن کر (مثلاً منیر احمد خان صرف بی ایس سی الیکٹریکل انجینئرنگ ہیں اور امریکہ کے گمنام پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ نارتھ کیرولائنا سے نو ماہ کا ڈپلومہ اسی فیلڈ میں حاصل کر رکھا ہے) پروجیکٹ کو فوراً علیحدہ کرکے مجھے اسکا سربراہ بنا دیا۔ ہم دل و جان سے کام میں لگ گئے،پرانی بلڈنگ (گیراجز) میں ایئرپورٹ کے سامنے کام شروع کردیا۔ تمام سامان ہوائی جہاز سے منگوایا جانے لگا کہ ہمارے پاس وقت بہت کم تھا۔ بھٹو صاحب نے وہ تمام سہولتیں دیدیں جو خودمختار طریقہ سے کام کرنے کیلئے ضروری تھیں۔ سامان جب اسلام آباد ایئرپورٹ پر آنے لگا تو ایک دن میجر صدیق نے بتایا کہ کسٹم آفیسر صاحب سامان کھول کر دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا ان کی خدمت میں عرض کردیں کہ یہ اہم پروجیکٹ کا سامان ہے جو وزارتِ دفاع کے زیرسایہ ہے اگر آپ پھر بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو سامنے ہمارا دفتر ہے آپ تشریف لے آئیں۔ وہ آگئے، خوبصورت، درمیانہ قد، گورا رنگ، الیکٹرانک کا سامان کھول کر بیٹھ گئے اور رسیدوں سے موازنہ کرنے لگے۔ میرے پاس اس وقت لیفٹیننٹ جنرل علی ضامن نقوی آئے ہوئے تھے وہ جنرل ضیا کے بہت قریب تھے اور جنرل ضیاء الحق نے ان کو ایٹمی پروگرام کیلئے اپنا مشیر سیکورٹی لگایا تھا۔ انھوں نے جب یہ تماشہ دیکھا تو شیرازی صاحب کو بتایا کہ یہ بہت اہم پروگرام کا سامان ہے ‘ ڈیفنس سے متعلق ہے‘ آپ کبھی اس کو نہ کھولیں اس کو جنرل ضیاء کا حکم سمجھیں۔ بہرحال شیرازی صاحب نے اپنا فرض ادا کیا اور کلیرنس دیدی۔ پھر بہت اچھے دوست بن گئے۔ انکے اسسٹنٹ آغا صاحب تھے، نفیس انسان، ان کو شیرازی صاحب نے ضروری ہدایات دیدیں اور ہمیں کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔ غالباً شیرازی صاحب اسسٹنٹ کلکٹر تھے۔ انھوں نے ازراہِ مہربانی رن وے پر ریڈ لائٹس لگوادیں اور ہمیں اجازت دیدی کہ ہم رن وے کراس کرکے اپنا سامان اپنے دفتر لے جائیں۔

یہ تھی محبت اور یہ تھی ملک سے محبت اور مدد۔ پھر شیرازی صاحب کا تبادلہ ہوگیا اوروہ غائب ہوگئے۔ 1991 میں مجھے ایک کانفرنس کی صدارت کرنے قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور جانا پڑا۔ وہاں کمشنر (اعلیٰ شاعر) مرتضیٰ برلاس صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان کے کلام کا عاشق ہو گیا،وہاں سے ملتان آیا۔ میئر مرحوم ڈوگر صاحب نے نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا اور عشائیہ دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ پہلی صف میں ہمارے پیارے گمشدہ دوست شیرازی صاحب بیٹھے ہیں، اُٹھ کر گیا ‘گلے ملا۔ اور تقریر میں پچھلی دوستی کا تذکرہ کیا اور سب پر یہ راز فاش کردیا کہ قاسم بھٹی اور سیٹھ عابد، شیرازی صاحب کے آگے طفلِ مکتب ہیں۔ شیرازی صاحب نے نیوکلیر ٹیکنالوجی اور کہوٹہ کا جتنا سامان بغیر انسپکشن اور بغیر ڈیوٹی نکالا اس کی بدولت ہم بہت جلد ایٹمی قوت بن گئے۔ لوگ ہنس پڑے اور اس طرح شیرازی صاحب سے رابطہ قائم ہوگیا اور پھر وہ لاہور آگئے۔ نوکری سے فارغ ہوئے تو پریکٹس شروع کردی اور مجھے میری سالگرہ پر کیک اور پھول بھیجنا کبھی نہ بھولے۔

چند سال پہلے میرے عزیز دوست جناب شوکت ورک اور میں نے کئی ساتھیوں کے ساتھ لاہور میں ایک فلاحی اسپتال تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اس کے لئے زکوٰۃ، صدقہ، خیرات، عطیات جمع کرتے ہیں۔ ایک OPD بنائی جہاں پچھلے چند برسوں میں سات لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا ہے اور دوائیں بھی مفت دی ہیں۔ ہم تمام مخیر حضرات کے تہہِ دل سے شکرگزار ہیں۔ اس فلاحی کام میں بھی شیرازی صاحب نے بہت مدد اور رہنمائی کی اور اب بھی رہنمائی اور مدد فرما رہے ہیں۔

دیکھئے باتیں بہت اہم تھیں کہ میں آپ کو شیرازی صاحب کی پوشیدہ اعلیٰ شخصیت سے متعارف کرائوں۔ ﷲ پاک ان کو تندرست ، خوش و خرم رکھے اور طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین!

اب چند باتیں دعوتِ شیراز سے متعلق۔ دیکھئے شیرازی ماہر اہل قلم ہیں ان کی اس سے پیشتر شائع کردہ کتاب بابو نگر نے تمام شائع شدہ کتابوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ، کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اگر یہ یورپ اور امریکہ کے مصنف ہوتے تو ارب پتی بن گئے ہوتے۔ یہاں بے چارے غریب لوگ کم ہی کتب خریدتے ہیں مگر جو پڑھے لکھے ہیں اور صاحبِ استعداد ہیں وہ شیرازی صاحب کی کتاب شائع ہوتے ہی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا وہی حال ہے جو پچاس کی دہائی میں ابن صفی کی جاسوسی کتب کی مقبولیت کا تھا۔ بابو نگر اور دعوت شیراز طنزو مزاح کا خزینہ ہیں۔ آپ کو نہ صرف مزاحیہ باتیں ملیں گی بلکہ ان میں چھپی ہوئی ہدایات و نصیحتیں بھی ملیں گی۔ دعوتِ شیراز پر جناب امجد اسلام امجد صاحب اور جناب خورشید ربانی صاحب نے نہایت اعلیٰ تاثرات شائع کئے ہیں۔ ان دونوں ماہرین نے شیرازی صاحب کی شخصیت اور کتاب کے ہر پہلو پر تبصرہ کیا ہے اور نہایت اعلیٰ اشعار بھی پیش کئے ہیں۔شیرازی صاحب کی شخصیت پر یہ دو اشعار پیش خدمت ہیں۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں