0

دعا کا اثر

59 / 100

دعا کا اثر
اللہ میاں جی آپ تو اپنے بندوں کی ہر جائز خواہش پوری کرتے ہیں ناں پلیز میری یہ دعا پوری کر دیں بارش برسا دیں
محمد علی
دایان ایک بہت ہی نیک اور سمجھدار لڑکا تھا۔پڑھائی لکھائی میں دل لگانے والا اور اپنے بزرگوں کی اطاعت اور عزت کرنے والا۔دایان جس گاؤں میں رہتا تھا وہ گندم کی فصل کے حوالے سے بہت مشہور تھا۔
پر اس بار پورا سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زمین فصل کے لئے بالکل تیار نہیں تھی۔دایا ن اپنے بڑوں اور گاؤں کے دوسرے لوگوں کے منہ سے گندم کی فصل کے حوالے سے پریشانی کی باتیں سنتا رہتا تھا۔ ایک دن دایان کے ابو اس کی امی سے بات کر رہے تھے کہ گھر کی مرمت کے لئے انھوں نے قرض لیا تھا۔
اور فصل کی کٹائی پر ادائیگی کا وعدہ کیا تھا۔پر بارشیں نہ ہونے سے تو اچھی فصل کی کوئی امید ہی نہیں۔دایان کے ابو قرض کی ادائیگی کے لئے بہت پریشان تھے۔
دایان اپنے ابو سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔

وہ ان کی پریشانی کا سن کر بہت پریشان ہو گیا تھا۔

اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنے ابو کی پریشانی دور کرنے کے لئے کیا کرے۔اسی پریشانی میں وہ قرآن کا سبق پڑھنے مسجد چلا گیا۔مولوی صاحب نے سبق سنتے ہوئے دایان کی بے دھانی خاص طور پر محسوس کی۔چھٹی کے بعد جب سب بچے جا رہے تھے تو مولوی صاحب نے دایان کو روک لیا۔
سب بچوں کے جانے کے بعد مولوی صاحب نے دایان سے پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے آج تم کس سوچ میں گم تھے۔دایان نے ان کو ساری بات بتائی۔
مولوی صاحب شفقت سے مسکرائے اور بولے”میں خوش ہوا کہ تم اپنے ابو کی پریشانی پر ان کے لئے اتنے پریشان ہو گئے۔
تم ایک اچھے بچے ہو“دایان بولا کہ” مولوی صاحب میں کیسے اپنے ابو کی پریشانی دور کروں۔“مولوی صاحب نے کہا”بیٹا انسان کی اوقات ہی کیا ہے کہ وہ خود سے کچھ کر سکے۔جو رب آزمائش ڈالتا ہے وہ ہی اس کا حل بھی نکالتا ہے۔
دایان بیٹا تم اللہ سے اپنی پریشانی کا حل مانگو۔اور پورے یقین سے مانگو۔اللہ اپنے بندوں کی ضرور سنتا ہے۔مولوی صاحب سے بات کرکے دایان بہت خوش ہو گیا۔
رات سونے سے پہلے دایان نے امی سے کہا کہ صبح اسے نماز کے لئے ضرور جگائیں۔
صبح اس نے دل لگا کر نماز پڑھی اور پورے خلوص سے اللہ سے اپنے ابو کی پریشانی کے لئے دعا مانگی۔اور بارش کا انتظار کرنے لگا۔پورا دن گزر گیا پر بارش نہ ہوئی پر دایان ہر روز لگاتار نماز ادا کرتا رہا اور دعا مانگتا رہا۔کافی دن گزر گئے ۔
دایان ایک بار پھر مولوی صاحب کے سامنے اپنی پریشانی لے کر گیا۔مولوی صاحب بولے دایان بیٹا اپنا یقین ٹوٹنے مت دینا بعض اوقات اللہ کو اپنے بندوں کا مانگنے کا انداز اتنا پسند آتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ میرا بندہ بار بار مانگے۔
اگلی صبح دایان پھر پورے دل سے نماز کے لئے کھڑا ہوا اور نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔
”پیارے اللہ میاں جی مجھے معلوم ہے آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں ہمیشہ آپ سے ایسے ہی اپنے دل کی باتیں کرتا رہوں۔
اللہ میاں جی میں اپنے ابو کے لئے بہت پریشان ہوں۔اگر اس سال ہماری گندم کی فصل اچھی نہ ہوئی تو میرے ابو اپنا وعدہ پورہ نہیں کر سکیں گے۔اللہ میاں جی آپ تو اپنے بندوں کی ہر جائز خواہش پوری کرتے ہیں ناں پلیز میری یہ دعا پوری کر دیں بارش برسا دیں۔
میں ہمیشہ آپ کا اچھا بندہ بن کر رہوں گا۔“
ابھی احمد نے ہاتھ چہرے سے ہٹائے نہیں تھے کہ اس چھوٹے سے گاؤں کے چاروں طرف گہرے کالے بادل آگئے تھے۔دایان دوڑ کر باہر نکلا اور کالے بادلوں کو دیکھ کر خوشی سے اپنے امی اور ابو کو آوازیں لگائیں۔
امی ابو آئیں دیکھیں میری دعا قبول ہو گئی۔اللہ میاں جی آپ کا بہت شکریہ۔آئی لو اللہ میاں جی۔چھم چھم برستی بارش میں زمین پر امی ابو اور آسمان پر فرشتے اللہ کے اس ننھے بندے کی پہلی دعا کی قبولیت کی خوشی کو دیکھ رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں