قاسم علی شاہ 79

درجن تیرہ

65 / 100

درجن تیرہ
(قلم کلامی :قاسم علی شاہ)
ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی میں بزنس کے طلباء کو بزنس پر تحقیق کرنے کے لیے کہا گیا۔ تحقیق کی غرض سے طالب علم انارکلی لاہور میں گئے وہاں پر اُنہوں نے دیکھا کہ ایک جوس شاپ پر بہت رش ہے۔ جب وہ اس شاپ پر پہنچے تو تھوڑے ہی مشاہدے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایک جوس گلاس کے ساتھ ایک چھوٹا گلاس مفت دیتے ہیں۔ اُنہوں نے سوچا کہ شاید مشروب پینے کے بعد رہ جانے والی تھوڑی سی تشنگی کو دیکھتے ہوئے وہ چھوٹاگلاس مفت دے رہے ہیں۔ طالب علموں نے دکاندار سے پوچھا کہ آپ ایک گلاس کے ساتھ چھوٹا گلاس مفت کیوں دیتے ہیں؟ اُس نے جواب دیا کہ میں نے اپنے تجربہ سے سیکھا ہے،پورے سے تھوڑا سا زیادہ دینا چاہئے۔ سیر کی بجائے سواسیر دینا چاہیے۔ دنیا کے درجن بارہ ہیں لیکن میرے درجن تیر ہ ہیں۔اس سے میرے کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔ میری سیل میں اضافہ ہوتا ہے۔لٰہذامَیں اپنے تجربات کو مدّنظر رکھتے ہوئے تھوڑا زیادہ دیتا ہوں۔

جدید تحقیقات کے مطابق جولوگ اپنے وعدے سے کچھ زیادہ دیتے ہیں، طے شدہ بات سے زیادہ کام کرتے ہیں ،اپنے کام میں ریٹرن کرتے ہیں،کام کا معاوضہ زیادہ دیتے ہیں، کام کے ساتھ شکریہ ادا کرتے ہیں، لوگوں کی زندگیوں میں ویلیوز لے کر آتے ہیں ، ایسے لوگ زیادہ ترقی کرتے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں درجن تیرہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ زمانہ طالب علمی میں بننے والی درجن تیرہ کی عادت ساری زندگی فائدہ دیتی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں درجن تیرہ یہ ہے کہ آنے والے کل کا سبق ایک دن پہلے یاد کر لیا جائے۔ سبق کو تھوڑا پہلے دہرا لیا جائے۔تھوڑا سا زیادہ یاد کر لیا جائے۔پیپر دیتے وقت پیپر چیک کرنے والے کے لیے آسانی پیدا کر دی جائے۔درجن تیرہ یہ بھی ہے کہ اپنی پڑھائی کو آسان بنایا جائے۔ آپ آج کی تاریخ لکھیں اور’’ درجن تیرہ‘‘ کے فلسفے کو اپنی زندگی میں شامل کرلیں، پھر ایک سال بعد دوبارہ اس تاریخ کو دیکھیے گا، آپ کومعلوم ہو گا کہ آپ کی زندگی میں بہت سی آسانیاں صرف درجن تیرہ کے فلسفے کو اپنانے کی وجہ سے ہو گئی ہیں۔ جب تک ہر شخص اپنے درجن تیرہ نہیں کرے گا اُس کے لیے ترقی ممکن نہیں ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کا ایک حصہ مختلف جگہوں پر سیکھنے میں گزارتا ہے پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب سیکھے ہوئے کو عملی طور پر لاگو کرتا ہے۔تمام سیکھی ہوئی چیزیں آپس میں ملائی جاتی ہیں، آہستہ آہستہ ایک تصویر بنتی ہے۔ ہم میں سے اکثر ایک دم سے تصویر بنانا چاہتے ہیں جبکہ کبھی بھی تصویر ایک دم سے نہیں بنا کرتی۔ چیزیں ہمیشہ حصوں میں بنتی ہیں۔جب چیزوں کو صبر کا دامن پکڑ کر ملایا جائے تو تصویر بنتی ہے،کاموں کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنا قدم اٹھائیں ، محنت کریں ، قربانی دیں ، اپنے کام سے محبت کریں ، تھوڑا زیادہ کریں، درجن تیرہ کریں،چھوٹا کام خود ہی بڑا ہو جائے گا۔کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا ،نیت کام کو چھوٹا یا بڑا بناتی ہے۔

▪️درجن تیرہ کے لیے مواقع
وہ لوگ جودرجن تیرہ کے فلسفے کے مطابق زیادہ کام کر رہے ہیں اور وہ قابل بھی ہیں لیکن اُجرت ، معاوضہ یا تنخواہ کم مل رہی ہے تو اُنہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یا تو ان کی تنخواہ بڑھ جائے گی یا پھر وہ جگہ ان کا انتظار کر رہی ہے جہاں پر تنخواہ زیادہ ہے۔ دنیا میں قابل انسان کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ دنیا کی کوئی بات، کوئی زنجیر قابل انسان کا راستہ نہیں روک سکتی۔اپنا بہترین اور وعدے سے زیادہ کرنے والے قابل لوگوں کی مثال طوفان کی مانند ہے ،یہ دریا کی مانند ہوتے ہیں،یہ سمندر اور خوشبو کی طرح ہوتے ہیں، اِن کی مثال خنکی اور ٹھنڈی ہوا جیسی ہے۔ یہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں ، وہ رُکتے نہیں ہیں ۔ ان کے راستے میں مشکلات ، تنقید، چیلنجز آتے ہیں ، لوگ باتیں کرتے ہیں لیکن وہ اپناسر جھکائے چلتے رہتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ منزل ان کے سامنے ہوتی ہے۔

▪️بروقت فیصلہ کامیابی کا ضامن
وہ شخص کامیاب ہے جو حال میں اپنے ویژن کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے مؤثرعادات کو اپناتا ہے ۔ وقت پر بڑے فیصلے اور وژن کے مطابق فیصلے نہ کیے جائیں تو آنے والا وقت مشکل ہوجاتا ہے۔عقل مند وہی ہے جس کی نگاہ مستقبل پر ہوتی ہے۔دنیا میں وہی لوگ ، ادارے ، قومیں اورملک ترقی کرتے ہیں جو دور نگاہ رکھتے ہیں۔جن کا وژن ہوتا ہے۔وہ تمام لوگ جو صرف آج کے لیے جیتے ہیں ان کا آنے والا کل مشکل ہو جاتا ہے۔ ہماری قوم کے زوال کی ایک بہت بڑی وجہ دیہاڑی والی سوچ ہے۔لوگ صرف آج کے دن کا سوچتے ہیں اور آج کے دن کے لیے ہی کماتے ہیں۔آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں کرتے، جو مستقبل میں فائدہ دے ۔ہم بحیثیت قوم اپنے کل کی تیاری نہیں کرتے ، ایسا کام نہیں جو مستقبل کو محفوظ کر دے۔ ایک مثال مشہور ہے کہ ایک شخص کوئی میڈیسن بیچا کرتا تھا، جس کے لیے اسے مارکیٹنگ بھی نہیں کرنی پڑتی تھی۔ جس کے بارے میں اُس کا کہنا تھا کہ یہ مجھے بیچنی نہیں پڑتی یہ خود ہی بِک جاتی ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس میڈیسن میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی، کل کو وقت بدلا اور یہ ناکام ہوگئی تو کیا کرو گے؟ ا س شخص نے جواب دیاجب کل آئے گا تو دیکھا جائے گا۔جب وقت بدلا اس میڈیسن کی جگہ کسی اور میڈیسن نے لے لی اور وہ میڈیسن بیچنے کی کوشش میں بھی نہ بکی، تو اِس نے لوگوں اورسسٹم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔حالانکہ یہ نقصان اُس کی اپنی پہلے سے تیاری نہ ہونے کی وجہ سے تھا،کوئی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔

ہمارے ناکام ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ پہلے سے تیاری نہ کرنا بھی ہے۔ وہ لوگ جو وقت سے پہلے اپنی صلاحیتوں ، عادات کے لیے کام کرتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ وہ درجن تیر ہ کے فلسفے پر چلے جاتے ہیں۔تھوڑا سا زیادہ کام کرتے اور دوسروں کو تھوڑا زیادہ دیتے ہیں۔دنیاوی سوچ کے مطابق نقصان محسوس ہوتا ہے لیکن اللہ کے نظام میں اگر آپ کچھ زیادہ کریں گے تو اُس کا بدلہ آنے والے دنوں میں دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کا علم، فہم، دولت بڑھتا ہے، آسانیاں پیدا ہوتی اورحیثیت سے زیادہ ملتا ہے، زندگی میں اللہ تعالیٰ کا کرم بڑھ جاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت یہ سوچتی ہی نہیں، وقتی فوائد اور نتائج پرکھتے رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کو اتنا محدود دیکھتے ہیں کہ درجن تیر ہ کے فلسفے پر یقین نہیں کرتے۔اس کے علاوہ تنگ دل لوگ درجن تیرہ پر عمل نہیں کر سکتے۔

▪️سخاوت مال سے نہیں دل سے ہوتی ہے
ہمارے بچے نہ تو اپنے والدین کو کبھی درجن تیرہ کرتے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اِس پر عمل کرتے ہیں۔ بچے نصیحتوں سے زیادہ والدین کے عمل کو دیکھ کرسیکھتے ہیں۔جیب تنگ ہونے کا دل کے تنگ ہونے سے تعلق نہیں ہے۔ جیب تنگ ہو سکتی ہے، انسان کو دل کا تنگ نہیں ہونا چاہیے۔ سخاوت مال سے نہیں دل سے ہوتی ہے۔ اگر دل بڑا ہے تو مال کم بھی ہو گا تب بھی سخاوت کم نہیں ہوگی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ایسا انسان جو بخیل ہے اس کے پاس مال کاآ جانا ایک عذاب ہے۔‘‘

سیب کاٹنے پر چندمنٹ لگتے ہیں لیکن اگر چند سکینڈ اور لگا کر اس کے چھوٹے بیج بھی نکال کر مہمان کو پیش کیے جائیں تویہ درجن تیرہ ہے ،جو آپ کی شائستگی کو ظاہر کرتا ہے ۔آپ کپڑے سیتے ہیں۔گاہک کے لیے کپڑے تیار کرلیے ہیں ۔اب اس کو ایک عام سے شاپر میں بھی دئے جاسکتے ہیں لیکن آپ تھوڑی سی تکلیف کرکے اس کو اچھے طریقے سے پیک کردیتے ہیں اور ساتھ میں اپناکارڈ بھی رکھ دیتے ہیں تو یہ درجن تیرہ ہے ، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے گاہک سے مخلص ہیں اور اس کا احساس رکھتے ہیں ۔آ پ سویٹ کا کاروبار کرتے ہیں ۔آپ کے پاس کوئی فرد آکر مٹھائی کا ریٹ پوچھتا ہے تو ساتھ ہی آپ نفیس پلیٹ میں دو عددگلاب جامن رکھ کر اس کو پیش کردیتے ہیں ۔یہ درجن تیرہ ہے جو آپ کے حسن اخلاق کو ظاہر کرتا ہے ۔آپ رکشے میں بیٹھ کر گھر آئے اور اترنے کے بعد ڈرائیور کو کرائے کے ساتھ جوس یا چائے پینے کے لیے کچھ اضافی رقم بھی دے دی ، یہ درجن تیرہ ہے جو آپ کو اپنائیت بھرا انسان ثابت کرتا ہے۔آپ کے گھرآنے والاالیکٹریشن ، ڈاکیا یا کارپینٹر ، جب کام مکمل کرے تومعاوضے کے ساتھ ساتھ آپ اس کو چائے پلاتے ہیں یا کھاناکھلاتے ہیں ، یہ درجن تیرہ ہے جو آپ کو ایک بہترین انسان ثابت کرتا ہے ۔
آ پ کسی سے حال احوال پوچھتے ہیں اور ساتھ میں اس کی خوشحال زندگی کے لیے دُعابھی دیتے ہیں ۔آپ دوسروں سے مسکرا کر ملتے ہیں ۔ لفٹ میں جاتے ہوئے کسی کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں ۔بس میں سفر کرتے ہوئے اپنی سیٹ دوسروں کوپیش کردیتے ہیں۔اپنی گاڑی میں کسی کو لفٹ دے دیتے ہیں اور کسی انسان کے پاس بھاری بیگ ہو اس کے اٹھانے میں مدد کرتے ہیں تو یہ درجن تیرہ والا سلوک ہے، جو لوگوں کے دِلوں میں آپ کے لیے اپنائیت اور عزت بڑھاتا ہے.

اگرہمارے روّیوں میں درجن تیرہ آجائے تو زندگی میں سکون اور اطمینان آنا شروع ہو جائے گا۔ درجن تیرہ کا مطلب ہے حق دار کو حق سے زیادہ دینا۔ کاروبار ، نوکری الغرض کسی بھی کام میں ترقی کرنے کے لیے یہ مزاج اپنانا بہت ضروری ہے اور جو بھی شخص اس رویے کو اپنا لیتا ہے توپھر ہر طرف سے خوشحالی ، ترقی، محبت اور نیک تمنائیں سمیٹتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں