Nizam-ud-Din Aulia 48

خواجہ محمد نظام الدین اولیاء ؒ .

Hazrat Nizam-ud-Din Aulia Dehlvi (R.A)
خواجہ محمد نظام الدین اولیاء ؒ .

تعارف:
خواجہ محمد نظام الدین اولیاء ؒ سلسلہ چشتیہ کے مشہور صوفی بزرگ ہو گزرے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد بخارا سے ہجرت کرکے لاہور اور بعد ازاں بدایوں میں رہائش پذیر ہوئے۔ آپ ؒ بچپن سے ہی نیک خصلت اور صالح تھے جب عہد شباب کو پہنچے تو دل میں عشق حقیقی سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارنے لگااور وہ بے چین رہنے لگے ۔ وہ حق و صداقت کی تلاش میں پھرنے لگے لیکن کوئی ایسا کامل پیر و مرشد نہ ملا جن کے پاس جا کر من کی پیاس بجھتی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت سے انکے دل میں بابا فریدالدین گنج شکر سے ملنے کی تڑپ پیدا ہوئی اور نادیدہ قوت کے زیر اثر ان سے شرف حاصل کرنے پاک پتن کے شہر اجودھن پہنچے۔ ان کے ہاتھ پر بیعت کی اورسلسلہ چشتیہ میں داخل ہو گئے۔ اپنے پیر ومرشد کی کافی عرصہ خدمت کرنے کے بعد ان سے باطنی علوم کی تربیت حاصل کی اور ان کے حکم سے دہلی چلے گئے۔ آپ نے اپنی زندگی میں ہزاروں غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام کیا اور انکا آستانہ سائلین کے لئے باعث سکون بنا۔ ان کی زندگی میں دس ہزار کے قریب زائرین ان کے آستانے پر روازنہ آتے تھے۔ اس وقت سے لیکر آج تک کوئی سوالی ان کے آستانے سے بے مراد نہیں گیا اور کوئی بھوکا بغیر کھائے واپس نہیں پلٹا۔
ابتدائی زندگی:
آپ کا اصل نام شیخ خواجہ محمد نظام الدین اور محبوبِ الٰہی، سلطان المشائخ، سلطان الاؤلیا، سلطان السلاطین اور نظام الدین اولیاء آپ کے القاب تھے۔ آپ کے والد کا نام احمد بن دانیال بخاری تھا۔ ان کے والد محترم ہجرت کر کے ہندوستان آئے۔19 اکتوبر 1237 میں بدایوں میں خواجہ صاحب کی ولادت ہوئی اور اسی شہر میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ پانچ سال کی عمر میں والد فوت ہوگئے تو والدہ نے آپ کی تربیت اور پرورش کی۔
دعوت اسلام:
برصغیر پاک و ہند میں سلسلۂ چشتیہ کی بنیاد خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے رکھی۔ بابا فریدالدین گنج شکر ؒ نے اس کو وسعت دی اور پنجاب تک پھیلایا، اسے منظم کیا اور ایک تحریک کی صورت دی۔ ان کے خلیفہ اعظم حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے اسے اور زیادہ پھیلایا اور معراج کمال تک پہنچادیا۔حضرت خواجہ صاحب نے بیعت عام کا دروازہ کھول رکھا تھا۔وہ گناہ گاروں کو خرقہ پہناتے اور ان سے توبہ کرواتے تھے۔ سب مرید خود کو حضرت خواجہ کا خادم سمجھتے تھے۔ اس لئے ناکردنی باتوں سے پرہیز کرتے۔ آپ نے عام لوگوں سے محبت کی اور محبت کرنا سکھائی۔ لیکن حکمرانوں سے نہ تعلق رکھا اور نہ ان کے نذرونیاز قبول کئے۔
خواجہ نظام الدین دہلی میں ہلال طشت دار کی مسجد کے نیچے ایک حجرہ میں قیام پزیر تھے۔اس کے قریب خواجہ فرید الدین کے چھوٹے بھائی شیخ نجیب الدین متوکل کا مکان تھا جو عالم اور فاضل تھے۔ ان کی صحبت میں بابا فرید گنج شکرؒ کی باتیں سن کر ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔ چنانچہ اجودھن ،پاک پتن پہنچے اور بیعت ہوئے۔ اپنے پیر کی صحبت میں 1257 سے 1258 تک راہِ سلوک کی تربیت حاصل کی۔ دہلی واپس آنے کے بعد بھی اجودھن جاتے اور اپنے پیر سے فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔
اجودھن سے دہلی آئے تو وہاں آپ کو سکون نہ ملا۔ اس لئے دہلی سے متصل غیاث پور میں آ کر مقیم ہوئے۔یہ زمانہ بڑی عسرت اور تنگی میں بسر ہوا، فقر اور فاقہ کے باوجود استغنا کا یہ عالم تھا کہ سلطان جلال الدین خلجی نے کچھ گاؤں پیش کرنا چاہے تو آپ نے لینے سے انکار کردیا۔بعد میں فتوح کا دروازہ کھل گیا اور عسرت اور تنگی جاتی رہی۔ ہزاروں لوگ آپ کے لنگر سے کھانا کھانے لگے لیکن اس کے باوجود آپ کا یہ حال تھا کہ مسلسل روزے رکھتے اور سحری کے وقت بھی اس لئے کھانا نہیں کھاتے تھے کہ شہر میں کچھ لوگ بھوکے سورہے ہونگے۔ آپ ایک درد مند دل رکھتے تھے اور لوگوں سے بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔ لوگ آکر اپنے دکھ درد سناتے تھے۔ آپ ہر ایک کا درد غم سنتے، ان کی دلجوئی کرتے اور پھر بارگاہِ الٰہی میں ان کے لئے دستِ دعا دراز کرتے۔ آپ کی خانقاہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا، امیر و غریب، شہری اور دیہاتی، عالم و جاہل، بوڑھے بچے سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔
خواجہ محمد نظام الدین اولیاء ؒ کی مشہور کتابیں:
انہوں نے انسانیت کی فلاح اور صراط مستقیم کے لئے متعدد کتب لکھیں ۔آج کے جدید دور میں آپ کے ملفوظات کے یہ مجموعے ملتے ہیں:۔
۱۔فوائدالفواد ۲۔افضل الفوائد، ۳۔راحت المجین، ۴۔تختہ الابراروکرامت الا خیار، ۵۔ملفوظات، ۶۔انوارالمجالس
راہ سلوک:
آپ نے راہِ سلوک پر چلنے کی یہ تین قسمیں بتائیں ہیں:
۱۔ سالک: اس راہ پر جو مسلسل چلے وہ سالک ہے۔
۲۔ واقف: جس کو اطاعت و عبادت میں وقفہ حاصل ہو، وہ واقف ہے۔
۳۔ راجع: اور جو وقفہ میں پھر راہِ سلوک کی طرف رجوع نہ کرے وہ راجع ہے۔
تصوف کی حقیقت ، مسائل اور اُن کا حل:
حضرت نظام الدین اولیاء ؒ تصوف کی دنیا کے شہنشاہ تھے۔ان کی تعلیمات کا منبع قرآن مجید اور اسوہ رسول مقبول حضرت محمد ﷺ تھا۔وہ ایسے بزرگ تھے جن کو دنیا کے مال متاع سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ان کا دل ہر وقت یاد الہی سے دھڑکتا تھا۔ ان کے پاس سائلین کا تانتا لگا رہتا تھا اور لوگ ان کی محفل میں آکر دل کا قرار پاتے تھے۔ ان کے پاس ہندو ، مسلمان ، عیسائی اور پارسی سب آتے تھے اور جو ان کے پاس آتا تھا اس کی مراد بر آتی تھی۔ انہوں نے تصوف کی تعلیمات دیتے ہوئے فرمایا کہ اس راہ میں درج ذیل لغرشیں ہوسکتی ہیں:۔
۱۔اعراض ۲۔تفاصل ۳۔سلب مزید ۴۔تسلی ۵۔عداوت
جب کسی عاشق سے کوئی فعل یا حرکت ایسی ہوجائے جو محبوب کو پسند نہ ہو تو محبوب منہ پھیر لیتا ہے، اس کو اعراض کہتے ہیں۔ اس حالت میں عاشق کو چاہئے کہ وہ استغفار اور معذرت کرے۔ جب اس کی معذرت قبول نہیں ہو تو دونوں کے درمیان حجاب پیدا ہوجاتا ہے اس حالت میں عاشق کو چاہئے کہ خشوع و خضوع کے ساتھ توبہ کرے۔ اگر توبہ قبول نہ ہو تو جدائی ہوجاتی ہے۔ اگر توبہ قبول نہ ہو تو عاشق سے اطاعت و عبادت کا ذوق چھین لیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اپنے گزشتہ عبادت کا ثواب بھی کھو بیٹھتا ہے اور محبوب عاشق کے دل میں جدائی کی عام صورتیں پیدا کردیتا ہے جس کو ’’تسلی‘‘ کہتے ہیں۔اس سے عاشق کی محبت عبادت میں بدل جاتی ہے۔ سالک کو خطرہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہئے۔ اس کا نام عزیمت ہے۔ پھر اس عزیمت کو عمل میں منتقل کردینا چاہئے۔ فرماتے ہیں کہ درویش اہلِ عشق ہوتے ہیں۔ اور علماء اہلِ عقل۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی پناہ کی محبت قلب کے غلاف میں ہوتی ہے، گناہ کا صادر ہونا ممکن ہے۔ لیکن جب محبت قلب کے گردونواح میں آ جائے تو پھر گناہ صادر نہیں ہوتا۔
صبر، رضا اور توکل راہِ سلوک میں لازمی چیزیں ہیں۔ مصیبت کے وقت شکایت نہ کرنا صبر ہے۔تکلیف اور مشکلات میں کراہت کا اظہار نہ ہونے دینا، رضا ہے۔
توکل کی اقسام:
توکل کی تین اقسام ہیں:
۱۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے حال کا دانا و بینا سمجھ کر اس سے سوال کرے۔
۲۔ دوم یہ کہ بچوں جیسا توکل کہ وہ ماں سے دودھ نہیں مانگتے لیکن پھر بھی انہیں دودھ مل جاتا ہے۔
۳۔ تیسری قسم مردوں کی ہے کہ وہ اپنے غسال کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جس طرح غسال چاہتا ہے، مردے کو غسل دیتا ہے۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے نزدیک سب سے اعلیٰ توکل یہی ہے۔
سماع کابیان:
سلسلہ چشتیہ میں سماع جائز ہے۔ اس سلسلے کے خواجگاں کوسماع سے دلچسپی رہی ہے۔ حضرت محبوبِ الٰہی کو بھی سماع سے گہرا لگاؤ تھا۔’’فوائدالفواد‘‘ میں کثرت سے سماع کا ذکر آیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ سماع آواز کی ایک موزوں صورت ہے اس لئے حرام نہیں ہے۔ اسی سے تحریکِ قلب ہوتی ہے۔اگر یہ تحریک یادِ حق کے لئے ہے تو مستحب ہے۔ اگر فساد کی طرف مائل ہو، تو حرام ہے۔سماع سے درج
ذیل تین سعادتیں ہوتی ہیں:۔
۱۔ انوار ۲۔احوال ۳۔ آثار
اورتین عالم سے یہ سعادتیں حاصل ہو تی ہیں:۔
ا۔ملک ۲۔جبروت ۳۔ ملکوت
یہ تین چیزوں پر نازل ہوتی ہیں:۔
ا۔ارواح: انوار عالمِ ملکوت سے ارواح پر
۲۔قلوب: احوال عالم جبروت سے قلوب پر
۳۔ جوارح: آثار عالمِ ملکوت سے جوارح پر نازل ہوتے ہیں۔
پہلے انوار، پھر احوال اور آخر میں آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ آثار کے نزول سے جسم میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ سماع کے لئے یہ شرطیں لازمی ہیں:۔
ا۔ سنانے والا مرد ہو، لڑکا یا عورت نہ ہو۔
۲۔ جو شعر سنا جائے، وہ ہزلیات اور فواحش سے پاک ہو
۳۔ سننے والا خدا کے لئے سنے
۴۔ آلاتِ سماع مثلاً چنگ، رباب اور دوسرے ساز نہ ہوں۔
۵۔ محفلِ سماع میں عورتیں نہ ہوں۔
فقر و فاقہ:
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ فقروفاقہ کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کی مخلوق سے محبت تھی، کسی سے عناد رکھنا طریقت کے خلاف سمجھتے تھے۔ آپ نے نہ کسی کو بُرا کہا اور نہ کسی کا برا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ کسی کو برا کہنا برا ہے۔ لیکن برا چاہنا اُ س سے بھی برا ہے۔خواجہ صاحب بادشاہوں کی صحبت سے ہمیشہ دور رہتے تھے اور ان سے کسی حال میں بھی ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔ سلطان جلال الدین خلجی کو خواجہ صاحب سے ملنے کی بڑی تمنا تھی، لیکن اس کی تمنا پوری نہیں ہوئی۔ ایک مرتبہ علاؤالدین خلجی نے فتح کی خوشی میں پانچ سو اشرفیاں خانقاہ کی لئے بھیجیں۔ یہ دیکھ کر ایک خراسانی قلندر نے کہا کہ یہ ہدیہ مشترک ہوتا ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا اگر تنہا لیا جائے تو اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ کہ کر تمام اشرفیاں اس قلندر کے حوالے کردیں۔سلطان علاؤالدین خلجی کی وفات کے بعد قطب الدین مبارک شاہ تخت نشین ہوا۔ وہ بدگمانی کی وجہ سے آپ کا دشمن ہوگیا۔ اس نے آپ کو حاضر ہونے کا حکم دیا، لیکن آپ نے کہلا بھیجا کہ بزرگوں کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ درباروں میں جائیں اور بادشاہوں کے مصاحب بنیں۔ بادشاہ نے یہ عذر قبول نہ کیا اور حکم دیا کہ دربار میں ہفتہ میں دو بار ضرور آیا کریں۔ لیکن آپ کسی بھی حالت میں جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ جس روز آپ کو سلطان کے دربار میں آنا تھا اسی روز بادشاہ خسرو خان کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا۔
انتقالِ پُر ملال:
حضرت محبوبِ الٰہی کے ذریعے چشتیہ سلسلہ کا اثر برصغیر پاک و ہند کے ہرحصہ میں پہنچ گیا۔ آپ کے خلفاء وقتاً فوقتاً روانہ ہو کر مختلف علاقوں میں جاتے اور وہا رشدوہدایت کا سلسلہ جاری کرتے۔ایک روایت کے مطابق آپ نے بڑے بڑے شہروں میں بڑے مرتبہ کے سات سو خلفاء روانہ کئے جنہوں نے اپنے عرفان سے اس سر زمین کو فیض یاب کیا۔ اس طرح ہر مکان اور ہر قطعہ تک اپنا فیض پہنچا کر 1325 میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کا مزار آج بھی دہلی میں مرجعء خلائق خاص و عام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں