پاک افغان معاملات 0

خطے کا امن: پاکستان کا کردار

51 / 100

خطے کا امن: پاکستان کا کردار
جنگ زدہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے دوحہ میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے پس منظر میں پیر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی فوج کے سربراہ جنرل آسٹن ملر اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی ملاقات غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ملاقات میں افغان امن عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے دوسرے اُمور بالخصوص علاقائی سیکورٹی کی صورتحال زیر غور آئی۔ جنرل باجوہ نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا جبکہ زلمے خلیل زاد نے اِس حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ دوحہ میں طالبان اور کابل حکومت کے درمیان افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں جو مذاکرات ہورہے تھے ان کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور اب 5جنوری کو دوسرا اور شاید فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوگا۔ افغان صدر اشرف غنی نے دوسرے مرحلے کے مذاکرات دوحہ کی بجائے افغانستان میں ہی کسی جگہ منعقد کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ قصۂ زمین برسرزمین اختتام کو پہنچایا جائے۔ افغان امن عمل پاکستان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے نہ صرف طالبان کو مذاکرات کی طرف لاکر افغانستان ہی نہیں پورے خطے کے امن واستحکام کو یقینی بنانے کی
راہ ہموار کی بلکہ وہ عالمی امن کے لئے بھی بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں بھیجی گئی اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے حصے کے طور پر پاکستان کا کردار انتہائی فعال اور شاندار رہا ہے۔ پاک فوج کے امن دستوں نے ان علاقوں میں قیام امن کے لئے جو خدمات انجام دیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں نے ان پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جہاں تک افغان امن کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پاکستان کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اب جبکہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے، کابل حکومت اور طالبان باہمی مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا تصور اس صورت میں ممکن ہے جب کابل کی حکومت اور طالبان مستقبل کے سیاسی ڈھانچے پر متفق ہو جائیں۔ اس حوالے سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس ڈھانچے کو عملی شکل دینے کے بعد اس کے نفاذاور اس پر عملدرآمد کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ امریکہ اس سلسلے میں پاکستان سے مستقل رابطے میں ہے اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ جغرافیائی تاریخی ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے حوالے سے افغانستان کے امن واستحکام میں پاکستان کا کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن بدقسمتی سے پاکستان دشمنی کے باعث بھارت امریکہ پر دباؤ ڈال کریہ کردار اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے حالانکہ بھارت سے افغانستان کی سرحدملتی ہے نہ کوئی دوسری قدر مشترک ہے۔ امریکہ کو اس حوالے سے امن کے مفاد میں درست فیصلہ کرنا ہوگا اور درست فیصلہ یہی ہے کہ بھارت کو افغانستان سے دور رکھے ورنہ اس خطے میں پائیدار امن واستحکام کاخواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ نئے ڈیموکریٹک امریکی صدر جوبائیڈن سبکدوش ہونے والے متلون مزاج ری پبلکن صد ر ٹرمپ کے مقابلے میں ایک متحمل مزاج اور مدبر سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ وہ بھارت کو جو پہلے ہی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں کے لئے استعمال کررہا ہے، افغانستان میں مداخلت کا موقع نہیں دیں گے۔ اس خطے ہی نہیں پوری دنیا کے امن کا انحصار اس بات پر ہے کہ افغانستان کے فیصلے صرف افغان کریں پاکستان اس سلسلے میں ان کی جو مدد کرسکتا ہے پہلے بھی کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں