حیا اور حجاب کی اہمیت 14

حیا اور حجاب کی اہمیت

63 / 100

حیا اور حجاب کی اہمیت
14 فروری کو دنیا بھر کے لوگ ویلنٹائنز ڈے مناتے اور اس موقع پر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ تعلق کے اظہار کے لیے تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے اور اپنی وابستگی کا اظہار کرنے کے لیے مختلف طرح کی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ ویلنٹائنز ڈے کا آغاز تو مغربی سماج سے ہوا تھا لیکن رفتہ رفتہ یہ مسلمان سماج اور معاشروں میں بھی داخل ہوتا چلا گیا اور اب مسلمان بھی اس طرح کے تہواروں کو بڑی شدومد کے ساتھ مناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس قسم کے تہواروں کو منانے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اسلام میں خوشی کے تہوار کے طور پر عیدین کو منانے کی رغبت دلائی گئی ہے جبکہ غیر محرم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی بھرپور طریقے سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اسلامی معاشرت میں محرم رشتہ داروں کے ساتھ تعلق، وفا اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کا پورا ضابطہ موجود ہے۔ اسلام میں غیر محرموں سے تعلق داری اور شناسائی کا واحد ذریعہ نکاح کو قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔ اسلام بداخلاقی اور بے راہ روی کے تمام امکانات اور ذرائع کو مسدود کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے مختلف مقامات پربرائی کی شدید انداز میں مذمت کی ہے۔ سورہ نور کی آیت نمبر 32 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”اور تم مت قریب جاؤ زنا کے‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بُرا راستہ ہے‘‘۔ کتاب وسنت میں بے حیائی اور بدکرداری کی روک تھام کے لیے بہت سی تدابیر کو اجاگر کیا گیا ہے ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ حجاب کا اہتمام: اسلام میں خواتین کو پردہ داری کا اہتمام کرنے کی تلقین کی گئی ہے؛ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر31 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور کہہ دیجئے مومن عورتوں سے (بھی) (کہ) وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں اور وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی اور نہ وہ ظاہر کریں اپنی زینت کو مگر جو (خود) ظاہر ہو جائے اس میں سے۔ اور چاہیے کہ وہ ڈالے رکھیں اپنی اوڑھنیوں کو اور اپنے گریبانوں پر، اور نہ وہ ظاہر کریں اپنی زینت (بناؤ سنگھار) کو مگر اپنے خاوندوں کے لیے یا اپنے باپوں (کے لیے) یا اپنے خاوندوں کے باپوں (کے لیے) یا اپنے بیٹوں (کے لیے) یا اپنے شوہروں کے (دیگر) بیٹوں (کے لیے) یا اپنے بھائیوں (کے لیے) یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں کے لیے) یا اپنے بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں کے لیے) یا اپنی (جیسی دوسری) عورتوں (کے لیے) یا (ان کے لیے) جن کے مالک بنے ان کے دائیں ہاتھ (یعنی زر خرید غلاموں کے لیے) یا تابع رہنے والوں (خدمت گار) مردوں میں سے (جو) شہوت والے نہیں (ان کے لیے) یا ان بچوں (کے لیے) جو نہیں واقف ہوئے عورتوں کی چھپی باتوں پر اور نہ وہ مارا کریں اپنے پاؤں (زمین پر) تاکہ جانا جائے جو وہ چھپاتی ہیں اپنی زینت سے اور تم توبہ کرو اللہ کی طرف سب اے ایمان والو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ احزاب میں مومنہ عورتوں کو حجاب اوڑھنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ احزاب کی آیت نمبر59 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے نبی (ﷺ) کہہ دیجئے اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مومنوں کی عورتوں (سے) (کہ) وہ لٹکایا کریں اپنے اوپر اپنی چادریں یہ (بات) زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو وہ ایذا نہ دی جائیں‘‘۔
2۔ مردوں کو نگاہیں جھکانے کا حکم: جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے خواتین کے لیے پردے کو ضروری قرار دیا ہے اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں مردوں کو بھی اپنی نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے تاکہ معاشرے میں بدنظری کی وجہ سے برائی کی نشوونما نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر30 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”مومن مردوں سے کہہ دیجئے (کہ) وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں اور وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی یہ زیادہ پاکیزہ ہے ان کے لیے‘ بے شک اللہ خوب خبردار ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں‘‘۔
3۔اجنبی جگہ پر اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے برائی کی روک تھام کے لیے اجنبی جگہ پر بلا اجازت داخل ہونے سے بھی منع کیا ہے؛ تاہم اگر کسی معلوم جگہ پر انسان کا سازوسامان موجود ہو تو وہاں پر انسان بلا اجازت داخل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر 27اور 28میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو‘ نہ داخل ہوا کرو (دوسرے) گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ یہاں تک کہ تم انس حاصل کر لو (یعنی اجازت لے لو) اور سلام کر لو ان کے رہنے والوں پر۔ یہی بہتر ہے تمہارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پھر اگر تم نہ پاؤ ان میں کسی ایک کو تو تم نہ داخل ہو ان میں یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جایا کرو‘ وہ زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے لیے‘‘۔
4۔ خلوت کے اوقات میں بچوں کا اجازت کے ساتھ کمرے میں داخل ہونا: معاشرے میں اخلاقی ضابطوں کو بہتر بنانے کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ بچے عشاء کی نماز کے بعد،فجر کی نماز سے پہلے اور ظہر کی نماز کے بعد والدین کے کمروں میں بھی بلا اجازت داخل نہ ہوں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو‘ چاہیے کہ اجازت طلب کریں تم سے وہ لوگ جن کے مالک بنے تمہارے دائیں ہاتھ اور وہ لوگ (بھی) جو نہ پہنچے ہوں بلوغت کو تم میں سے تین مرتبہ (یعنی تین اوقات میں) فجر کی نماز سے پہلے اور جب تم اتار دیتے ہو اپنے کپڑے دوپہر کو اور عشا کی نماز کے بعد ( کہ یہ) تینوں پردے (خلوت) کے اوقات ہیں تمہارے لیے۔ نہیں تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان کے بعد (یعنی ان اوقات کے علاوہ) بکثرت پھرنے (یعنی آنے جانے) والے ہیں تم پر‘‘۔
5۔ نکاح کا اہتمام: ہمارے معاشرے میں برائی کی روک تھام کے لیے جلد از جلد نکاح کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اپنے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کی کوششوں کی وجہ سے نکاح کو مؤخر کرتے رہتے ہیں اور بہت سے لوگ غربت اور فقیری کے خوف سے بھی نکاح میں تاخیر کرتے ہیں جبکہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی غربت اور فقر کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر32 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور نکاح کرو بے نکاح (مردوں اور عورتوں کا ) اپنے میں سے اور (ان کا جو) نیک ہیں تمہارے غلاموں میں سے اور تمہاری لونڈیوں (میں سے) اگر وہ ہوں گے محتاج (تو) غنی کردے گا اُنہیں اللہ اپنے فضل سے‘‘۔
6۔ شرعی سزاؤں کا نفاذ: اگر کوئی شخص اخلاقی قدروں کو پامال کرکے برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسلام میں اس کے لیے کڑی سزاؤں کو مقرر کیا گیا ہے۔ ان سزاؤں کا مقصد معاشرے میں ایسے عناصر کی بیخ کنی کرنا ہے جو بے راہ روی میں مبتلا ہیں تاکہ معاشرے کو پاک وصاف رکھا جا سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نور کی آیت نمبر2 میں برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سوکوڑوں کے تقرر کی سزا کا اعلان فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوا: ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد کو پس کوڑے مارو ‘ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے اور نہ پکڑے تمہیں ان دونوں سے متعلق نرمی اللہ کے دین میں اگر ہو تم ایمان لاتے اللہ اور یوم آخرت پر اور چاہیے کہ حاضر ہو ان دونوں کی سزا کے وقت مومنوں میں سے ایک گروہ‘‘۔
احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ سزا جس کا ذکر سورہ نور کی اس آیت میں مذکورہے وہ غیر شادی شدہ بدکار مردوں اور عورتوں کے لیے ہے جبکہ شادی شدہ بد کرداروں کے لیے اسلام میں سنگسار کی سزا کو مقرر کیا گیا ہے۔ سورہ نور میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے برائی کی نشرواشاعت میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے عذابِ الیم کی بھی وعید سنائی ہے۔ سورہ نور کی آیت نمبر19 میں ارشاد ہوا: ”بے شک وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ پھیلے بے حیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں‘‘۔
7۔ حیا: کتاب وسنت میں برائی کی روک تھام کے لیے جہاں پر دیگر بہت سی تدابیر کو اجاگر کیا گیا ہے وہیں پر حیا داری کی اہمیت کو بھی بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں: (۱)۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘ (۲)۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا: ”(حیا سے مت روکو) حیا ایمان میں سے ہے‘‘۔ (۳)۔ صحیح مسلم میں حضرت عمرانؓ بن حصین کو سنا، وہ نبیﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے‘‘۔
انسان کو اپنی ذات میں حیا پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور دوست احباب کو بھی حیا کی تلقین کرنی چاہیے اور خصوصاً والدین کو اپنی اولادوں کی سرگرمیوں پر گہری توجہ دینی چاہیے کہ کہیں وہ غلط صحبت میں بیٹھ کر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث تو نہیں ہو رہے۔ اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے سے بے حیائی اور بے راہ روی کاخاتمہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے معاشرے کو بے حیائی اور فحاشی سے بچ کر حیا داری کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں