88

حقوق نسواں یا مادر پدر آزادی؟محترمہ میمونہ اسلم . منڈی بہاوالدین

63 / 100

حقوق نسواں یا مادر پدر آزادی؟
محترمہ میمونہ اسلم . منڈی بہاوالدین

اسلام ایک ایسا عظیم دین ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا، قرآن حکیم نے ولقد کرمنا بنی آدم کہہ کر اس کے سر پر عزتوں کا تاج سجایا.
مرد ہو یا عورت دونوں ہی انسان اور اللہ تبارک و تعالی کی تخلیق کا شاہکار ہیں
اللہ تعالیٰ نے دونوں کے ساتھ ان کے اعمال کی بہترین جزا کا وعدہ فرمایا، قرآن حکیم سورة النحل میں ہے
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷)
جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر دیں گے۔

بالخصوص اللہ تعالیٰ نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا جو دنیا کے کسی مذہب اور معاشرے نے نہیں دیا، اس نے عورت کو قعر مذلت سے نکال کر عزت کے بلند و بالا مقام پر فائز کیا
تاریخ انسانی کا مطالعہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے…. جزيرہ عرب ہو يا یورپ ، مصر ہو یا یونان ہر جگہ عورت ظلم و ستم کا شکار تھی.
August Bell
نے لکھا ہے قدیم دور میں عورت کی حیثیت انتہائی کم درجے کی تھی، اسے جسمانی طورپر مغلوب کرکے قبضے میں رکھا جاتا تھا، خانگی معاملات تک میں بھی اس کی حیثیت نوکروں سے صرف ایک درجہ زائد تھی، اس کے بیٹے اس کے آقا ہوتے تھےجن کی فرماں برداری اس پر لازم ہوتی تھی.
(عورت اور سماج، ص 16،ڈاکٹر محمد شمس)
یونان جو تہذیب و تمدن کا عظیم گہوارہ سمجھا جاتا تھا وہاں بھی عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی، اس دور کے مشہور یونانی فلسفی سقراط نے کہا تھا ، عورت سے زیادہ فتنے کی کوئی چیز نہیں، وہ دفلی کا درخت ہے جو بظاہر بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس کو چڑیا کھا لیتی ہے تو وہ مرجاتی ہے

اسپارٹ کے قانون میں یہ تصریح موجود تھی کہ ضعیف القُوی شوہروں کو اپنی کم سن بیویاں طاقت ور نوجوانوں کے حبالہ عقد میں دے دینی چاہئیں تاکہ فوج میں قوی سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو.
http://lib bazmeurdu. net
یورپ جو آج مساوات کا دعوے دار ہے وہاں بھی اس دور میں ایسا کوئی قانون موجود نہ تھا جو عورت کو مرد کی زیادتیوں سے پناہ دیتا
(سید جلال الدین، عورت اسلامی معاشرے میں)

John Stuart mill
اپنی کتاب محکومیت نسواں میں لکھتا ہے: انگلستان کے قدیم قوانین میں مرد کو عورت کا مالک تصور کیا جاتا تھا بلکہ وہ اس کا بادشاہ مانا جاتا تھا، شوہرکے قتل کا اقدام اصطلاحا قانونی بغاوت کہلاتا تھا، اگر عورت اسکا ارتکاب کرتی تو اس کی پاداش میں جلا دینے کا حکم تھا

سید قطب لکھتے ہیں
قدیم یورپ بلکہ دنیا بھر میں عورت کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی، قدیم فلاسفہ عرصہ دراز تک اس بات پر سر کھپاتے رہے کہ کیا عورت میں روح بھی ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو وہ انسانی ہے یا حیوانی؟
(اسلام اور جدید ذہن کے شبہات ص 172)
عرب کے مختلف قبائل میں عورت کے حقوق کو نہ صرف پامال کیا جاتا تھا بلکہ اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا، اس سماج میں عورت کی حیثیت فقط ایک جائداد کی تھی ، شوہر کے انتقال کے بعد اسے فروخت کر دیا جاتا تھا، بیوی کو جوئے میں داؤ پر لگا دینے کا رواج بھی عام تھا، نیز اسے خاص مدت تک دوسروں کو کرائے پر دینے کی رسم بد بھی عروج پر تھی
(عورت اور سماج ص 21)

قدیم ہندوستانی معاشرے میں عورت کی مظلومی اور بے بسی کی انتہا یہ تھی کہ اسے شوہر کی چتا پر نذر آتش کر دیا جاتا تھا، بیواؤں کو یہ باور کروایا جاتا تھا کہ ستی ہوجانے کی صورت میں ہی ان کی فلاح و نجات ہے، مہا بھارت اور رامائن میں بھی ستی کا ثبوت ملتا ہے، جو بیوائیں خود کو آگ کے سپرد نہیں کرتی تھیں ان پر کئی طرح کی پابندیاں اور سخت اصول و قواعد لاگو تھے، ایسی بیوگان کا حسن مسخ اور سر منڈوا دیا جاتا تھا تاکہ وہ پرکشش نہ لگیں
(عورت اور سماج ص43)

یہودیت کے مطابق عورت ناپاک وجود ہے اور کائنات میں مصیبت اسی کے سبب ہے
(اسلام کا معاشرتی نظام، ڈاکٹر خالد علوی، ص 466)

انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ Henry – 8
کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں یہ قانون پاس کیا ہوا تھا کہ عورت مقدس کتاب انجیل کی تلاوت نہیں کرسکتی، کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی.
قرآن کریم نے عربوں کے عورت کے ساتھ بہیمانہ سلوک کو سورة النحل میں اس طرح بیان کیا ہے:
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(۵۹)
اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔

مزید قرآن حکیم نے عورت کے حوالے سے ان کی ظالمانہ رسومات کا بیان سورة انعام میں اس طرح کیا ہے
وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَاۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُؕ-سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْؕ-اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(۱۳۹)
اور کہتے ہیں ان مویشیوں کے پیٹ میں جو ہے وہ خالص ہمارے مردوں کیلئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مرا ہوا ہو تو پھر سب اس میں شریک ہیں ۔ عن قریب اللہ انہیں اِن کی باتوں کا بدلہ دے گا۔ بے شک وہ حکمت والا، علم والا ہے۔

اب آئیے عورت کے ساتھ اس دور کی ان سفاکانہ بد سلوکیوں کے مقابلے میں اسلام کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس نے عورت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
اسلام نے سب سے پہلے تو اس حقیقت کو اجاگر کیا عورت و مرد دونوں ایک ہی فرد (آدم) سے وجود میں لائے گئے، ارشاد ربانی ہے خلقکم من نفس واحدۃ دوسرے مقام پر فرمایا خلق منھا زوجھا یعنی اسی فرد(آدم) سے اس کا جوڑا بنایا.. پس معلوم ہوا کہ تخلیق کے لحاظ سے عورت مرد کے وجود کا حصہ ہے.

اسلام نے عورت کو باعزت زندگی کا پورا پورا حق بخشا، اس کی زندگی کے ساتھ کھیلنے والوں سے بروز قیامت سخت حساب کی وعید سنائی، ورنہ اسے تو بہت سے لوگ پیدا ہوتے ہی شرم کے مارے زندہ درگور کر دیا کرتے تھے
وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹)
اور جب زندہ دفن کی گئی سے پوچھا جائے گا کس گناہ کے سبب ماری گئی ؟
اللہ تعالیٰ نے سورہ اسراء میں اولاد کے قتل کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہوئے اسے قابل سزا شرعی جرم قرار دیا، فرمایا :
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ-اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا(۳۱)
اور غربت کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک انہیں قتل کرناکبیرہ گناہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین لکھتے ہیں
زمانۂ جاہلیت میں بہت سے اہلِ عرب اپنی چھوٹی بچیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے، امیر تو اس لئے کہ کوئی ہمارا داماد نہ بنے اور ہم ذلت و عار نہ اٹھائیں… جبکہ غریب و مُفلس اپنی غربت کی وجہ سے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے
(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۱۷۳، نور العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۴۵۴، ملخصاً)
اگرچہ جرم تو دونوں گروہوں کا گھناؤنا تھا، جس کی قرآن و حدیث کے متعدد مقامات پر مذمت کی گئی ہے لیکن اس آیت میں بطورِ خاص غریبوں کو اس ذلیل حرکت سے منع کیا گیا ہے۔

اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی، بیوی، خالہ، پھوپھو.. ہر لحاظ سے عزت بخشی، ان کے باقاعدہ حقوق متعین فرمائے اور ان پر کیے جانے والے مظالم سے انہیں کامل نجات بخشی
حضور اکرم نور مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچیوں کی پرورش کرنے پر عظیم بشارتیں عطا فرمائیں:
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ’’جس کی پرورش میں دو لڑکیاں بالغ ہونے تک رہیں ، وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح پاس پاس ہوں گے، ساتھ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی انگلیاں ملا کر دکھائیں کہ اس طرح۔
( مسلم، کتاب البرّ والصلۃ والآداب، باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۴۱۵، الحدیث: ۱۴۹(۲۶۳۱))

ایک اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش اور حسن سلوک پر جنت کی بشارت عطاء فرمائی..
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’جس کی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اور اس کی توہین نہ کرے اور اپنے بیٹوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
( ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی فضل من عال یتیماً، ۴ / ۴۳۵، الحدیث: ۵۱۴۶
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درج ذیل ارشاد گرامی میں ماؤں کے احترام اور بیٹیوں سے شفقت کو دستوری حیثیت عطا فرما دی گئی ہے:
اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَمَنْعَ وَھَاتِ وَوَاْدَ الْبَنَاتِ
( بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، ان سے مطلوبہ چیزوں سے انکار،  اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ٹھہرا دیا ہے ۔

ایک جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غیر مسلم مقتولہ عورت کی خبر ملی تو آپ نے درج ذیل الفاظ میں سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
مَاکَانَتْ ھَذِہٖ لِتُقَا تِلْ
یعنی یہ عورت تو لڑنے کے لیے نہیں تھی، پھر اسے کیوں قتل کیا گیا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سپہ سالار صحابی خالد بن ولید  ؓ کو ہدایت فرمائی :
’’لاَیَقْتُلَنَّ اِمْرَأۃً وَلاَعَسِیْفًا‘‘
یعنی عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔
حقوق نسواں کے حوالے سے اسلام کا یہی وہ حسین اور مثبت پہلو ہے کہ اسے دیکھ کر اپنے تو اپنے غیر بھی عش عش کراٹھے، دنیا کے تمام غیر جانب دار دانش ور یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام ہی دراصل حقوق نسواں کا حقیقی ضامن ہے۔

اب اسلام کی تمام بیٹیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہرگز ہرگز مغرب کے جھوٹے اور پُرفریب نعروں میں نہ آئیں اور ہمیشہ اسلام کی عظمتوں کا جھنڈا بلند کریں ورنہ ان کی بھی وہی تذلیل ہو گی جو اس وقت یورپ میں عورتوں کی ہو رہی ہے کہ وہ مرد کی ہوس کا کھلونا اور کاروباری تشہیر کا سامان بن چکی ہیں.
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مملکت خدا داد پاکستان کے باشندے ہیں جہاں
دین پہ عمل کا رجحان دوسرے ممالک کی بنسبت زیادہ ہے، یہاں خواتین کو احترام کی نظر سے سے دیکھا جاتا ہے.. جس پر عورتوں کو فخر کرنا چاہیے.
گزشتہ کچھ عرصے سے ایک مخصوص مغرب زدہ طبقے نے عالمی فنڈز کے بل بوتے پر عجیب شور و غل بپا کر رکھا ہے.. عورت کو ناجائز طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بے حد مظلوم اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے، اور اس کی اصل وجہ دین اسلام یا اس کے نمائندے علماء کرام ہیں..
در حقیقت یہ اسلام اور علماء اسلام کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے.
اس مغرب زدہ طبقے نے نہ تو دین کا مطالعہ کیا ہے اور نہ ہی اسے اس سے کوئی غرض ہے.
ایک مسلمان عورت کے اصل میں وہ مسائل ہیں ہی نہیں جن کے یہ کوگ نعرے الاپ رہے ہیں،
اگرچہ اس حقیقت سے بھی انکار بھیممکن نہیں کہ معاشرے میں بہت بگاڑ، حق تلفیاں ، محرومیاں اور بد سلوکیاں ہیں، لیکن یہ بھی سوفیصد کھرا سچ ہے کہ اس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ اسلام سے دوری اور مغرب کی پیروی ہے،
اگر اسلام کو صحیح طور پر پڑھ کر اس پہ عمل کیا جائے اور اپنے آپ کو مغربی فکر و فلسفے سے دور رکھا جائے تو سب کچھ چشم زدن میں ٹھیک ہو سکتا ہے.
اس وقت مغرب میں عورت کی جو حالت زار ہے اس سے پریشان ہو کر وہاں کی عورتیں یا تو خود کشیاں کر رہی ہیں اور یا پھر اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے رہی ہیں
آئیے دیکھتے ہیں کہ عورتوں کے اصل مسائل اور حقوق کون کون سے ہیں ، اگر انہیں پیش نظر رکھا جائے تو سارا معاشرہ جنت نظیر بن جائے.
سب سے پہلے حقوق کی تعریف ملاحظہ ہو.
علامہ شامی نے حق کی تعریف یہ کی ہے
الحق ما يستحق بہ الرجل
حق اسے کہتے ہیں جس میں انسان کا مفاد ہو اور وہ اسے ملنا ضروری ہو
فقہ اسلامی میں اس کی مزید وضاحت حسب ذیل ہے
فالحق فی الشريعة لا یکون حقا إلا إذا اقره الشرع وحکم بوجودہ واعترف لہ بالحمایة ولھذا فإن مصادر الحقوق فی الشريعة ھو الشريعة نفسها ولا يوجد حق شرعی الاولہ
شریعت کی نگاہ میں حق وہی کہلائے گا جس کا شریعت اعتراف کرے، اس لیے شرعی ماخذ کے ذریعے ہی کسی شرعی حق کو پہچانا جاسکتا ہے

اسلام کے مطابق
Women’s Rights
سے مراد عورتوں کے درج درج ذیل حقوق ہیں
جسمانی تحفظ.. معاشی خود مختاری… جنسی استحصال سے بچاؤ.. پسند کی شادی.. افزائش نسل… جائداد کی ملکیت… حسب فطرت تعلیم.. با وقار محفوظ زندگی.
یہ تمام وہ حقوق ہیں جن کا اسلام نے حکومت وقت اور سارے معاشرے کو پابند بنایا ہے.. جو بھی حکمران یا افراد ان سے روگردانی کریں گے وہ رب تعالیٰ کی سخت پکڑ میں آئیں گے.
قرآن مجید کی ایک پوری سورۃ عورتوں کے نام سے ہے.. یعنی سورہ نساء.. اس سورہ میں عورتوں کی عزت و حرمت بھرپور تذکرہ کیا گیا ہے، نیز ان کے حقوق کے حوالے سے ان کی فطرت کے عین مطابق زبردست احکام بیان کیے گئے ہیں، ان کے لیے وراثت کے حصوں کا بیان بھی اسی سورۃ میں کیا گیا ہے.

اگر تعلیم کے حقوق دیکھے جائیں تو اسلام مردوں کی طرح عورتوں پر بھی حصول علم کو فرض قرار دیتا ہے

اگر معاشی حقوق دیکھے جائیں تو اسلام نے نہ عورتوں پر کسی کی مالی کفالت کی ذمے داری ڈالی ہے اور نہ ہی انہیں کمانے کا پابند بنایا ہے، کمانا اور نان و نفقہ کلیتا مردوں کے ذمے ہے.. لیکن بایں ہمہ انہیں مشروط طور پر کمانے کی اجازت بھی ہے اور وہ ملکیت کے حقوق بھی محفوظ رکھتی ہیں.
اگر حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کے حقوق دیکھے جائیں تو قرآن حکیم میں واضح ارشاد ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًاؕ-وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍۚ-وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ-فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹)
اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور عورتوں کو اس نیت سے روکو نہیں کہ جو مہر تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو سوائے اس صورت کے کہ وہ کھلی بے حیا ئی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو پھر اگر تمہیں وہ ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
نیز رحمۃ للعالمین کا فرمان مبارک ہے
خیرکم خیر لاھلہ
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا سلوک اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہے

طلاق کی صورت میں بھی رب کریم نے عورتوں کو با عزت طریقے سے رہائش اور خرچ کے حقوق عطا فرمائے ہیں. قرآن حکیم میں ہے.
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّؕ-وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّۚ-فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّۚ-وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍۚ-وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ(۶) لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖؕ-وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُؕ-لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَاؕ-سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠(۷)

عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق اور انہیں تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگروہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بچہ جَن دیں پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرلو اور اگر تم آپس میں دشواری سمجھو تو عنقریب اسے کوئی دوسری عورت دودھ پلادے گی۔ مالی وسعت رکھنے والے کو چاہئے کہ اپنی گنجائش کے مطابق خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہے تو اسے چاہئے کہ اس میں سے خرچہ دے جو اسے اللہ نے دیاہے ،اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، جلد ہی اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا۔

اگر عزت کے حقوق کی بات کی جائے تو قرآن حکیم نے عورتوں پہ ناجائز تہمت لگانے اور ان کی ناموس سے کھیلنے والے درندوں کے لیے سخت ترین سزاؤں کے احکام ارشاد فرمائے ہیں
سورہ نور میں ارشاد ربانی ہے
وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ(۴) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْاۚ-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵)
اور جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اَسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں ۔ مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اگر پسند کی شادی کے حقوق کی بات کی جائے تو اسلام نے سرپرستوں پر عورتوں کی رضا و رغبت اور مشاورت و اجازت کے بغير ان کے نکاح کو ممنوع قرار دے دیا ہے
پسند کی شادی کے ساتھ ساتھ عورتوں کو مہر کے حقوق بھی عطا کیے گئے ہیں
اگر شوہر ظالم ہے ،یا حق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہے یا دیگر شرعی حقوق سے غافل ہے تو عورت کو خلع اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیا گیا ہے
اسی طرح اسے والدین اور رشتے داروں سے ملاقات، عبادات ، بچوں کی پرورش، طلاق کی صورت میں عقد ثانی، شوہر کی وفات کی صورت میں وراثت کے زبردست حقوق سے نوازا گیا ہے
نیز اس کی حرمت کی پاسداری کے لیے مرد کو ایلاء و ظہار سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں اس پر بھاری جرمانے بطورِ سزا عائد کیے گئے ہیں.

اگر کوئی اسلام کا صحیح مطالعہ نہیں کرتا یا اس پر عمل نہیں کرتا تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام قصور وار ہے،اصل قصور اس کی کم علمی یا بد عملی کا ہے
اب ایک نظر مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب پہ ڈال لیجیے جس کے نتیجے میں
وہاں کی عورت نے اپنا سکون کھویا، شرم وحیا گنوایا، بے لباس ہوئی، چار دیواری کی نعمت سے محروم ہوئی ، اولاد سے دور ہوئی، ماں باپ کو چھوڑا،
مردوں کی ہوس کا نشانہ بنی، ناجائز بچوں کی ماں بنی. غرض اس کی زندگی کا سارا سکون غارت ہو گیا.
اب بھی اگر مسلمان عورتیں اسلام کے بارے میں غلط سوچیں یا علماء کرام کو برا بھلا کہیں تو یہ نری بدبختی نہیں تو اور کیا ہے. مغرب کی تہذیب کسی بھی شریف عورت کے لیے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہو سکتی.
اب یہ جو لبرل عورتیں 8 مارچ کو حق تلفی اور قتل نسواں کے نام پر اودھم مچانے جا رہی ہیں، از روئے عقل و دانش ان کا عورتوں کے فطری حقوق سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ وہی مادر پدر آزادی ہے جو دراصل ان کی دشمن ہے اور جس سے خود مغرب کی عورتیں پناہ مانگ رہی ہیں .
ذرا ایک نظر ان کے عجیب و غریب، بے ہنگم اور بے جا نعرے اور مطالبات ملاحظہ ہوں :
میرا جسم میری مرضی… چادر اور چاردیواری ذہنی بیماری… چادر اور چاردیواری تمہیں مبارک
… میں آوارہ میں بد چلن
… اپنا کھانا خود گرم کرو
… اکیلی آوارہ آزاد… عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں… تمہارے باپ کی سڑک نہیں… دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو.. وغیرہ وغیرہ
خود سوچیے کہ کیا
یہی ایک شریف اور باکردار مسلم عورت کے مسائل اور حقوق ہیں؟ ییقیناً نہیں، ہرگز نہیں.
یہ تو دراصل اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کی خوف ناک سازش، خاندانی نظام کا شیرازہ بکھیرنے کی مذموم کوشش اور عورت سے اس کے شرم وحیا کا زیور چھیننے کی ملعون کوشش ہے.
کیا مرد اور کیا عورت.. دونوں ہی خدا کی ملکیت ہیں، دونوں کی روحیں خدا کی ہیں، دونوں کےجسم خدا کے ہیں اور دونوں پر حکم بھی خدا کا ہے..
مسلمان عورت کوئی آوارہ، بد چلن اور مادر پدر آزاد عورت نہیں ہے، جسے جو بو الہوس مرضی بہکا کے لے جائے.
ایک شریف مسلمان عورت کا یہ اعزاز ہے کہ اس کے ساتھ اس کا پورا گھرانہ ہے، ماں باپ ہیں ، بھائی بہن ہیں ، دادا دادی ہیں، نانا نانی ہیں، چچا ماموں ہیں، خالہ پھوپھو ہیں.. یہ سب اس کے ارد گرد اللہ تبارک و تعالی قائم کردہ بہترین حصار ہیں،جسے کوئی گھٹیا، مجرم اور شیطان عورت ہی توڑ پھینکنا پسند کرے گی.
ایک سچی مسلمان عورت مغرب کی نہیں بلکہ سیدہ فاطمہ و سیدہ عائشہ کی کنیز ہے جو ان پاکیزہ زندگیوں سے اعلی اخلاق و کردار کا درس لیتی ہے… اسے اسلام نے بتایا ہے کہ جب وہ حمل سے ہوتی ہے تو اسے ایک مجاہد، قائم اللیل اور صائم النہار کا ثواب ملتا ہے
اسے اسلام نے بتایا ہے کہ ہر ہر بچے کی ولادت پر اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں
اسے اسلام نے بتایا ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کی صورت میں ہر ہر گھونٹ پر اسے ایک جان کو زندہ کرنے کا اجر ملتا ہے
اسے اسلام نے بتایا ہے کہ وہ جتنے بھی بچے پیدا کر کے ان کی اسلامی تربیت کرے گی ان پر اس کے پاک نبی سیدنا محمد رسول اللہ بروز قیامت فخر فرمائیں گے.
اسے اسلام نے بتایا ہے کہ اگر وی گھر کے کام کاج کرے گی کھانا گرم کرے گی تو یہ اس کے لیے دنیا میں باعث عزت اور آخرت میں باعث نجات ہو گا.
اسے اسلام نے بتایا ہے کہ دوپٹہ اور حجاب اوڑھنا اس کا حسن ہیں ، وہ ان میں اسلام کی شہزادی لگتی ہے اور ان دونوں پہ عمل کر کے وہ اپنے خدا کو راضی کرتی ہے. کیونکہ قرآن حکیم میں ہے
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)
اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اسلام کی انھیں تعلیمات کو پڑھ کر ایس پی اسکاٹ لکھتا ہے
محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہی وہ واحد قانون عطا کرنے والے ہیں جنھوں نے دنیا میں پہلی بارطبقہ نسواں کے لیے قوانین وضع کیے اور ان کے حقوق کو تحفظ دیا
تجلیات، حافظ محمد ثانی ص 230

جسٹس راجند سچر لکھتے ہیں
اسلام عورتوں کو جائداد کے حقوق دینے میں بہت زیادہ فراخ دل اور ترقی پسند رہا ہے
تجلیات ص 220

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ مغرب کو اس کی تمام تر تباہیاں واپس لوٹا کر صرف اور صرف اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا جائے، کیونکہ ساری کی ساری خیر و عافیت اسی میں ہے.
بقول اقبال
اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں