حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ 13

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ

61 / 100

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ –
رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کاتعلق قبیلۂ قریش کے معززترین خاندان ’’بنوعدی‘‘سے تھا ٗجوکہ مکہ شہرکے مشہورومعروف محلہ ’’شُبیکہ‘‘میں آبادتھا۔بچپن کے بعدجب شباب کی منزل میں قدم رکھا توقبیلۂ قریش سے تعلق رکھنے والے دیگرمعززافرادکی مانندتجارت کواپنامشغلہ بنایا،فنونِ سپہ گری ٗشمشیرزنی ٗ نیزہ بازی ٗ تیراندازی ٗاورگھڑسواری میں خوب مہارت حاصل کی۔اس کے علاوہ پہلوانی اورکُشتی کے فن میں بھی انہیں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ شہرکے قریب ہرسال ’’عُکاظ‘‘کا جومشہورومعروف اورتاریخی میلہ لگاکرتاتھا ،اس میں بڑے بڑے دنگلوں میں شرکت کرتے اور’’قوتِ بازو‘‘کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔
مزیدیہ کہ بچپن میں ہی لکھناپڑھنابھی سیکھا،عربی لغت ٗ ادب ٗ فصاحت وبلاغت ٗ خصوصاً تقریروخطابت کے میدان میں انہیں بڑی دسترس حاصل تھی ،شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ حکمت ودانش …نیزفنِ تقریروخطابت پرمکمل عبور…یہی وہ خوبیاں تھیں جن کی بناء پرقریشِ مکہ ہمیشہ نازک اورحساس مواقع پرگفت وشنیدکی غرض سے انہی کواپنا ’’سفیر‘‘ اور ’’نمائندہ‘‘بناکربھیجاکرتے تھے۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمان بہت زیادہ مظلوم ولاچارتھے…یہی وجہ ہے کہ اُس بے بسی وکسمپرسی کے دورمیں دینِ اسلام قبول کرنے والوں کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ،اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘یعنی’’بھلائی میں سبھی سے آگے بڑھ جانے والے‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے…انہی خوش نصیب اورعظیم ترین افرادمیں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔
مزیدیہ کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں