سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ 0

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ – کارنامے اورخدمات

51 / 100

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ – کارنامے اورخدمات
خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس وسیع وعریض اسلامی سلطنت کانظم ونسق بحسن وخوبی چلانے کی غرض سے متعددبنیادی اقدامات کئے جن کی اہمیت وافادیت وقت کے ساتھ ساتھ خوب نمایاں ہوتی چلی گئی۔مثلاً:
۱… ہجری اسلامی کیلنڈرکاآغاز۔
۲…عُمالِ حکومت یعنی مختلف علاقوں کے سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ محاسبہ اوران پرکڑی نگاہ رکھنا۔
۳…مفتوحہ علاقوں میں بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔
۴…مفتوحہ علاقوں میں حفاظتی اقدام کے طورپرمتعددنئی فوجی چھاؤنیاں تعمیرکی گئیں جن میں سے ہرچھاؤنی میں ہمہ وقت کم ازکم چارہزارگھوڑے جنگی مقاصدکیلئے تیاررہتے تھے۔ ۵… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعددنئے قلعے تعمیرکروائے۔
۶…پہلی بارباقاعدہ فوج اورپولیس کامحکمہ قائم کیاگیا۔
۷…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔
۸…مستقل احتیاطی فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔
۹…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔
۱۰…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت مہیاکی گئی۔
۱۱…باقاعدہ عدالتی نظام رائج کیاگیا ٗنیزقاضی مقررکئے گئے۔
۱۲…بیت المال قائم کیاگیا۔
۱۳…رقبوں اورسڑکوں کی پیمائش کی گئی۔
۱۴…مردم شماری کی گئی۔
۱۵…کاشتکاری کانظام قائم کیاگیا،اس مقصدکیلئے متعددنہریں کھدوائیں ٗملک کے طول وعرض میں آبپاشی کے نظام کوبہتربنایاگیا۔
۱۶…مفتوحہ علاقوں میں چارہزارنئی مساجدتعمیرکی گئیں ۔
۱۷…مساجدمیں روشنی کاانتظام کیاگیا۔
۱۸…اماموں ٗ مؤذنوں ٗ اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقررکئے گئے۔
۱۹…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقررکئے گئے۔
۲۰…’’نظامِ وقف‘‘قائم کیاگیا۔
۲۱…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے ملک کے طول وعرض میں متعددبڑے بڑے گودام تیارکئے گئے۔
۲۲…اسلامی ریاست کاباقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔
٭…ملکی نظم ونسق سے متعلق ان شاندارکارناموں ٗبے مثال خدمات ٗاوریادگاراقدامات کے علاوہ مزیدیہ کہ :
٭…نمازِتراویح میں مسلمانوں کوایک امام کی اقتداء میں متحداوریکجاکیاگیا۔
٭…تاریخِ اسلام میں پہلی بار’’امیرالمؤمنین‘‘کالقب استعمال کیاگیا، جبکہ اس سے قبل خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کیلئے ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘(یعنی:رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ)کالقب استعمال کیاجاتاتھا۔
اورپھرخلیفۂ اول کے بعدجب حضر ت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خلافت کامنصب سنبھالا،توابتداء میں انہیں ’’خلیفۃُ خلیفۃِ رسولِ اللہ‘‘کہاگیا (یعنی:رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے خلیفہ)لیکن سبھی نے اس اشکال کوشدت کے ساتھ محسوس کیاکہ یکے بعددیگرے خلفاء کا یہ سلسلہ توبڑھتارہے گا…لہٰذاکتنی بارلفظ’’خلیفہ‘‘ کا اضافہ کیاجائے گا؟چنانچہ غوروفکرکے بعد’’خلیفہ‘‘کی بجائے پہلی بارحضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کیلئے ’’امیرالمؤمنین‘‘ کا لقب استعمال کیاگیا،اورپھربعدمیں آنے والے خلفاء کیلئے بھی یہی لقب استعمال کیا جاتا رہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں