حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ 10

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – ہمہ گیرشخصیت: شجاعت وبہادری

9 / 100

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – ہمہ گیرشخصیت: شجاعت وبہادری
اللہ عزوجل نے اپنے اس برگزیدہ بندے یعنی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوگوناگوں اوصاف وکمالات سے نوازاتھا،ان کی شخصیت میں جامعیت وہمہ گیری نمایاں نظرآتی تھی،اس چیزکامختصرتذکرہ درجِ ذیل ہے:
شجاعت وبہادری کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کاجائزہ لیاجائے توہم دیکھتے ہیں کہ میدانِ کارزارمیں وہ ہمیشہ پیش پیش نظرآتے رہے،رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران جتنے بھی غزوات پیش آئے ،ہرموقع پرحضرت علیؓ شریک رہے بلکہ پیش پیش رہے اورجرأت وشجاعت کے بے مثال کارنامے دکھاتے رہے…سوائے غزوۂ تبوک کے (سن ۹ ہجری میں ) کیونکہ اُس موقع پرآپ ﷺ نے تبوک کی جانب روانگی کے وقت مدینہ میں حضرت علیؓ کواپنے اہلِ بیت کی حفاظت وخبرگیری کی ذمہ داری سونپی تھی، تب حضرت علیؓ نے عرض کیاتھاکہ : یَا رَسُولَ اللّہ، ھَل تُخَلِّفنِي فِي النِّسَائِ وَ الصِّبیَان؟یعنی’’اے اللہ کے رسول!کیاآپ مجھے عورتوں اوربچوں میں چھوڑے جارہے ہیں ؟‘‘ (۱) اس پر آپؐ نے جواب دیا: أَمَا تَرضَیٰ أن تَکُونَ مِنِّي بِمَنزِلَۃِ ھَارُونَ مِن مُوسَیٰ؟ غَیرَ أنَّہٗ لَا نَبِيَّ بَعدِي (۲) یعنی’’اے علی!کیاآپ کویہ بات پسندنہیں کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہوجوہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی…؟ ہاں البتہ یہ کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہے‘‘۔(۳)
الغرض غزوۂ تبوک کے موقع پرخودرسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شریک نہیں ہوئے تھے…جبکہ اس کے سواباقی ہرغزوے میں آپؓ شریک رہے ،بلکہ پیش پیش رہے ،اورشجاعت وجرأت کے بے مثال جوہردکھاتے رہے۔
خصوصاً(سن سات ہجری میں )غزوۂ خیبرکے موقع پرحضرت علیؓ کاکردارہمیشہ ناقابلِ فراموش تصورکیاجاتارہے گا…جب اسلامی لشکرکی وہاں آمدکے موقع پرخیبرکے یہودی قلعہ بندہوکربیٹھ گئے تھے،محاصرہ کافی طول پکڑچکاتھا،صورتِ حال کافی سنگین اورباعثِ تشویش تھی…اس دوران فریقین کے مابین متعدچھوٹی بڑی جھڑپوں کی نوبت آتی رہی،تاہم کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکا…آخرایک روزرسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:’’لَاُعطِیَنَّ الرّایَۃَ غَداً رَجُلاً یُحِبَّ اللّہَ وَ رَسُولَہٰٗ وَ یُحُبُّہُ اللّہُ وَ رَسُولُہٗ‘‘ یعنی ’’کل میں جھنڈاایسے شخص کوعطاء کروں گاجواللہ اوررسول سے محبت کرتاہے ٗ اوراللہ اوررسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ‘‘
ظاہرہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ بہت بڑی خوشخبری تھی ،اوربہت بڑی گواہی تھی اُس شخص کے بارے میں کہ جسے کل علم سونپاجاناتھااورسپہ سالاری وقیادت کی ذمہ داری جس کے حوالے کی جانی تھی …اس کے حق میں یہ بہت بڑی گواہی تھی کہ وہ’’ اللہ اوررسولؐ سے محبت کرتاہے، نیزاللہ اوررسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔
چنانچہ لشکرمیں موجودبڑے بڑے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ رات اسی آرزو میں گذاری کہ کاش کل صبح رسول اللہ ﷺ میرانام پکاریں …اورجب صبح کاسورج طلوع ہوا، تورسول اللہ ﷺ کی آوازگونجی’’أینَ عَلي؟‘‘ یعنی ’’علی کہاں ہیں ؟‘‘ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضرِخدمت ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے انہیں عَلَم (جھنڈا) عطاء فرمایا، نیزفتح اورخیروبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے انہیں رخصت فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلامی لشکرکی قیادت کرتے ہوئے دشمن کی جانب پیش قدمی کرنے لگے،آمناسامناہوا، کافی سنسنی خیزاوراعصاب شکن قسم کی جنگ لڑی گئی۔
اس موقع پریہودی فوج کی قیادت ’’مرحب‘‘نامی شخص کررہاتھا ٗجس کابڑارعب اوردبدبہ تھا،اورجس کی بہادری کے بڑے چرچے تھے…مزیدیہ کہ وہ اُس دورکابڑانامی گرامی پہلوان بھی تھا۔
چنانچہ اس نے انتہائی غروروتکبرکے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوللکارا،جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پرایسابھرپوروارکیاکہ غروروتکبرکاوہ پتلا… پلک جھپکتے میں ہی زمیں بوس ہوگیا، اورپھرآخرتمام شہر’’خیبر‘‘مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگیا،اور یوں رسول اللہ ﷺ اپنے لشکرسمیت کامیاب وکامران واپس مدینہ تشریف لے آئے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ تمام غزوات کے موقع پر ٗ بالخصوص’’غزوۂ خیبر‘‘کے موقع پرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمات ٗجرأت وشجاعت ٗاورجذبۂ سرفروشی یقیناتاریخِ اسلام کاسنہری باب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں