حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ 19

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد

51 / 100

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد
می ہوکرگرپڑے(۱)اورآپؓ کے سرسے مسلسل خون بہنے لگا…
اس المناک واقعہ سے تقریباًپینتیس سال قبل غزوۂ خندق کے یادگاراورتاریخی موقع پرجب مشرکینِ مکہ کانامورشہسوار’’عبدوُد‘‘جس کی بہادری کے بڑے چرچے تھے…اورجس کی بڑی ہیبت ودہشت تھی…ایک موقع پرجب وہ خندق پارکرنے میں کامیاب ہوگیاتھا، اورمسلمانوں کے سامنے پہنچ کرانہیں للکاررہاتھا، تب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کواس کے مقابلے کیلئے نکلنے کاحکم دیاتھا،اس حکم کی فوری تعمیل کرتے ہوئے آپؓ بلاخوف وخطرغروروتکبرکے اُس پتلے کے سامنے جاکھڑے ہوئے تھے…عبدِوُدنے آپؓ پرتلوار کا بھرپوروارکیاتھا،جس کے نتیجے میں آپؓ کے سرمیں کاری زخم آیاتھااوربڑی مقدارمیں خون بہنے لگاتھا،اسی کیفیت میں آپؓ نے پلٹ کراس دشمنِ خداپرایسا بھرپوروارکیاتھاکہ چشم زدن میں وہ زمین بوس ہوگیاتھا۔
پینتیس سال کاطویل عرصہ گذرجانے کے بعداب کوفہ میں دوبارہ آپؓ کے سرمیں عین اس مقام پرکہ جہاں اُس پرانے زخم کانشان بدستورباقی تھا…اسی جگہ اب تلوارکی ضرب لگی اوراُسی طرح بڑی مقدارمیں خون بہنے لگا۔
لوگوں کوجب اس افسوسناک ترین صورتِ حال کی اطلاع ملی تودیکھتے ہی دیکھتے وہاں جمعِ غفیراکٹھاہوگیا،حضرت علیؓ کواٹھاکرگھرلے جایاگیا…جبکہ قاتل ’’ابن مُلجَم‘‘نے جائے واردات سے فرارہونے کی کوشش کی ،تاہم وہاں موجودمجمع نے اسے موقع پرہی دبوچ لیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس قاتلانہ حملے میں شدیدزخمی ہونے کے بعددودن موت وزیست کی کشمکش میں مبتلارہے…اس دوران آپؓ نے عام لوگوں کو ٗاوربالخصوص اپنے صاحبزادگان ودیگراہلِ بیت کومتعددوصیتیں فرمائیں ،اپنے قاتل کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’اگرمیری موت واقع ہوگئی توشرعی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے صرف اسے جائزسزادینا،اس سے زیادہ اسے یااس کے افرادِ خانہ میں سے کسی کوکوئی گزندنہ پہنچانا…اوراگرمیں زندہ رہا تومیں خودفیصلہ کروں گاکہ اسے سزادی جائے،یا معاف کردیاجائے…‘‘
انہی دنوں متعددافرادنے آپؓ سے یہ مطالبہ کیاکہ ’’اے امیرالمؤمنین!آپ اپناکوئی جانشین تومقررکردیجئے‘‘مگرآپؓ نے ایساکرنے سے معذرت کی…اورکسی کواپناجانشین مقررنہیں فرمایا۔
آخرکوفہ میں اسی قاتلانہ حملے کے نتیجے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے۲۱/رمضان سنہ ۴۰ہجری تریسٹھ برس کی عمرمیں امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے اوراپنے اللہ سے جاملے۔(۱)آپؓ کے صاحبزادگان حضرت حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت حسین رضی اللہ عنہ ٗ محمدبن الحنفیہ رحمہ اللہ،نیزبھتیجے حضرت عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہما نے غسل اورتجہیزوتکفین کے فرائض انجام دئیے۔نمازِجنازہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں آپؓ کے درجات بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے نوازیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں