حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ 0

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – خلافت کیلئے انتخاب

51 / 100

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ – خلافت کیلئے انتخاب
رسول اللہ ﷺ تادمِ آخرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے انتہائی مسرورومطمئن رہے اورزندگی بھرشفقت وعنایت کامعاملہ فرماتے رہے۔
آپؐ کامبارک دورگذرجانے کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورمیں بھی حضرت علیؓ کوخاص حیثیت اورقدرومنزلت حاصل رہی ، حضرت ابوبکرؓ اہم فقہی امورمیں ان سے مشاورت کرتے رہے اوران کی اصابتِ رائے پرمکمل یقین واطمینان کا اظہارکرتے رہے۔
خلیفۂ دوم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی اپنے دورِخلافت میں بکثرت حضرت علیؓ سے مشاورت کیاکرتے تھے، فتحِ بیت المقدس کے یادگاراورتاریخی موقع پرجب سلطنتِ روم کی طرف سے یہ مطالبہ کیاگیاتھاکہ فریقین کے مابین ’’معاہدہ‘‘ کے موقع پرمسلمانوں کے خلیفہ خودبیت المقدس آئیں …تب حضرت عمرؓ نے اکابرصحابۂ کرام سے اس سلسلہ میں مشورہ کیاتھا اوران کی رائے دریافت کی تھی ،اس موقع پربعض حضرات نے یہ مشورہ دیاتھاکہ’’ اے امیرالمؤمنین! آپ کووہاں نہیں جاناچاہئے ، تاکہ رومیوں کویہ احساس ہوکہ ہم مسلمان ان کاہرمطالبہ تسلیم کرناضروری نہیں سمجھتے،اوریوں ان پرہماری مزیدہیبت قائم ہوجائے۔
جبکہ حضرت علیؓ نے یہ مشورہ دیاتھاکہ ’’اے امیرالمؤمنین!آپ کووہاں جاناچاہئے ، تاکہ اس طرح فریقین کے مابین خیرسگالی اورباہمی اعتمادواطمینان کے جذبات پروان چڑھ سکیں ‘‘۔
حضرت عمرؓ نے اسی رائے کوپسندکرتے ہوئے خودبیت المقدس جانے کافیصلہ فرمایاتھا، اورمدینہ سے اپنی اس غیرموجودگی کے موقع پرحضرت علیؓ کوہی اپنانائب وجانشین مقرر کیاتھا۔
اورپھرحضرت عمرؓ جب قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شدیدزخمی ہوگئے تھے، تب اپنی شہادت سے قبل آپؓ نے اپنے جانشین کے طورپرجن چھ افرادکے نام تجویزکرتے ہوئے یہ وصیت کی تھی کہ یہی چھ افرادباہمی مشاورت کے بعدتین دن کے اندرآپس میں سے ہی کسی کو ’’منصبِ خلافت ‘‘کیلئے منتخب کرلیں …انہی چھ افرادمیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔(۱)
اسی طرح خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران بھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوبدستوریہی قدرومنزلت حاصل رہی،حضرت عثمانؓ مختلف دینی وانتظامی امورمیں ہمیشہ حضرت علیؓ سے مشاورت کرتے رہے،جبکہ حضرت علی ؓ بھی ہمیشہ ان کی معاونت کرتے رہے،خصوصاًباغیوں نے جب شورش برپاکی ٗ اس نازک ترین موقع پرحضرت علیؓ ہی باربارمختلف تدبیروں کے ذریعے ان باغیوں کوسمجھانے بجھانے اوررفع دفع کرنے کی کوششیں کرتے رہے…مزیدیہ کہ اُن دنوں حضرت علیؓ نے اپنے دونوں جوان بیٹوں یعنی حضرت حسن ٗنیزحضرت حسین رضی اللہ عنہماکومسلسل حضرت عثمان کے گھرکی نگرانی پرمقررکئے رکھا…تاکہ شرپسندکوئی موقع پاکرگھرکے اندرداخل نہ ہوسکیں ، غرضیکہ ان دونوں جلیل القدرشخصیات میں باہم بڑی محبتیں اورقربتیں رہیں ،اورآپس میں یہ ہمیشہ شیروشکرکی مانندرہے۔
اورپھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکے طویل محاصرے کے بعدآخرجب انہیں نہایت بیدردی کے ساتھ شہیدکردیاگیا…اوریہ المناک خبرحضرت علیؓ تک پہنچی توآپؓ حیرت زدہ رہ گئے،اورانتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوگئے،حتیٰ کہ شدتِ غم کی وجہ سے آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے…کیونکہ باقی تمام صحابۂ کرام کی طرح یہ خبران کیلئے بھی بالکل غیرمتوقع تھی،دراصل اس بغاوت اورفتنے کے موقع پران سبھی حضرات کایہی خیال تھاکہ یہ وقتی معاملہ ہے…کیونکہ دوردرازکے علاقوں سے آئے ہوئے یہ باغی کچھ عرصے بعدتنگ آکرخودہی واپس لوٹ جائیں گے…نیزیہ کہ ان باغیوں کی سرکوبی کی غرض سے بعض دوردرازکے علاقوں سے اسلامی لشکرکی مدینہ کی جانب روانگی کی خبریں بھی موصول ہورہی تھیں … لہٰذاان تمام حضرات کایہی خیال تھاکہ اس معاملے کاکوئی نہ کوئی مناسب حل ضرورنکل آئے گا…یا…زیادہ سے زیادہ یہ کہ اس فتنے کی آگ کوبجھانے کی غرض سے حضرت عثمان ؓ خودہی ’’منصبِ خلافت‘‘سے دستبرداری اختیارکرلیں گے…کیونکہ باغیوں کامحض یہی مطالبہ تھا…جان لینے دینے کاتووہاں کوئی معاملہ ہی نہیں تھا…لیکن اب جوکچھ ہوگیا…یعنی حضرت عثمان ؓ کاقتلِ ناحق…اوروہ بھی اس قدربھیانک طریقے سے اوراس قدروحشیانہ اندازمیں …یہ توکسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا،لہٰذااس غیرمتوقع ظلم وبربریت کی وجہ سے دیگرتمام صحابۂ کرام کی مانندحضرت علیؓ بھی انتہائی صدمے اوررنج وغم کی کیفیت سے دوچارتھے۔
خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اس المناک واقعے کے بعدایک اہم ترین معاملہ یہ درپیش تھاکہ منصبِ خلافت کی ذمہ داری اب کون سنبھالے گا…؟ظاہرہے کہ اُس معاشرے میں یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں تھی کہ حضرت علیؓ سے بڑھ کرکوئی اوراس منصب کااہل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ لوگوں نے بار بارحضرت علیؓ کے سامنے اس بات کامطالبہ اوراصرارکیاکہ آپ یہ منصب سنبھال لیجئے… لیکن حضرت علیؓ ہرباریہی جواب دیتے رہے کہ ’’ہمارے خلیفہ قتل کردئیے گئے…اورمیں ان کی جگہ منصبِ خلافت سنبھال کربیٹھ جاؤں …مجھے ایساکرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے…لہٰذاکسی اورکوتلاش کرو…‘‘لوگوں کی طرف سے اصرار…جبکہ حضرت علیؓ کی طرف سے معذرت اورانکار…چندروزیہی سلسلہ چلتارہا…آخر مہاجرین وانصارمیں سے سرکردہ افراد پرمشتمل متعددحضرات نے حضرت علیؓ سے ملاقات کی اورانہیں منصبِ خلافت سنبھالنے پرآمادہ کیا…تب آپؓ نے ان کی بات کوردکرنامناسب نہیں سمجھا اوراپنی طرف سے آمادگی کااظہارکیا۔
اوریوں سن ۳۵ ہجری میں ماہِ ذوالحجہ کے آخری دنوں میں مدینہ منورہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خلیفۂ چہارم کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں