حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 18

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – شرم وحیاء

51 / 100

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – شرم وحیاء
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فطری طورپرہی انتہائی شرمیلے تھے،شکل وصورت بھی بہت اچھی اورجاذبِ نظرتھی،اس پرمزیدیہ کہ شرم وحیاء کے غلبے کی وجہ سے چہرے پرہمہ وقت عجیب سی معصومیت چھائی رہتی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کاارشادہے:(لِکُلِّ دِینٍ خُلُقٌ وَ خُلُقُ الاِسلَامِ الحَیَاء) (۱) ترجمہ:(ہردین کاایک خاص اخلاق ہواکرتاہے،اوردینِ اسلام کاخاص اخلاق ’’حیاء‘‘ ہے ) ۔
یعنی دنیامیں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہرایک کے ماننے والوں اورپیروکاروں کاکوئی خاص مزاج ہواکرتاہے اوران میں ایسی کوئی خاص صفت یاعادت نمایاں ہوتی ہے جوانہیں دوسرے سبھی انسانوں سے ممتازکرتی ہے اورجسے ان کی شناخت سمجھاجاتاہے۔
اسی طرح دینِ اسلام کابھی ایک خاص امتیازی وصف اورایک خاص پہچان ہے،اورہ ہے:’’شرم وحیاء‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادکی روشنی میں دینِ اسلام میں ’’شرم وحیاء‘‘کی اہمیت ٗنیز مسلمان کیلئے اس کی ضرورت کوسمجھ لینے کے بعداب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ کایہ ارشادملاحظہ ہو: أَصْدَقُھُم حَیَائً عُثْمَان ۔ (۱) یعنی’’سب سے بڑھ کرسچے حیاء دارتوعثمان ہیں ‘‘۔
’’حیاء ‘‘کی اس قدراہمیت ٗاورپھرحضرت عثمان ؓ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ اتنی بڑی گواہی کہ’’ سب سے بڑھ کرسچے حیاء دارتوعثمان ہیں ‘‘اس سے یقینا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کی بڑی منقبت ثابت ہوتی ہے۔مزیدیہ کہ آپؐ کے اس ارشادکی رُوسے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ حضرت عثمان ؓکی حیاء مصنوعی اورنقلی نہیں تھی،محض دکھاوے والامعاملہ نہیں تھا…بلکہ یہ حیاء تصنع اوربناوٹ سے پاک…فطری ٗسچی ٗ اور خالص تھی…!
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں : کَانَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ مُضطَجِعاً فِي بَیتِي کَاشِفاً عَن فَخِذَیہِ أو سَاقَیہِ ، فاَستَأذَنَ أَبُوبَکر ، فَأَذِنَ لَہٗ ، وَھُوَ عَلَیٰ تِلکَ الحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ استَأذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَہٗ ، وَھُوَ کَذلِکَ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ استَأذَنَ عُثمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ وَسَوَّیٰ ثِیَابَہٗ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَت عَائِشَۃُ ؛ یَا رَسُولَ اللّہ! دَخَلَ أَبُوبَکر فَلَم تَھتَشَّ لَہٗ وَلَم تُبَالِ بِہٖ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَم تَھتَشَّ لَہٗ وَلَم تُبَالِ بِہٖ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثمَانُ فَجَلَستَ فَسَوَّیَتَ ثِیَابَکَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَلَا أستَحِيْ مِن رَجُلٍ تَستَحِيْ مِنہُ المَلَائِکَۃُ ۔ (۲) ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ ایک روزمیرے گھرمیں لیٹے ہوئے تھے اس حالت میں کہ آپ کی ران سے ٗ یا پنڈلی سے کپڑاکچھ ہٹاہواتھا۔اس دوران ابوبکر(رضی اللہ عنہ) نے اندرآنے کی اجازت چاہی۔آپؐ نے انہیں اجازت دی ، جس پروہ اندرآئے اورآپؐ کے ساتھ کچھ گفتگوکی، جبکہ اس دوران آپؐ اسی کیفیت میں رہے۔اس کے بعدعمر(رضی اللہ عنہ)نے اندرآنے کی اجازت چاہی،آپؐ نے انہیں بھی اجازت دی ، جس پروہ اندرآئے اورآپؐ کے ساتھ کچھ گفتگوکی،تب بھی آپؐ اسی کیفیت میں ہی رہے۔اس کے بعدعثمان(رضی اللہ عنہ)نے اندرآنے کی اجازت چاہی،تب آپؐ سیدھے ہوکربیٹھ گئے اوراپنالباس بھی درست کیا، تب عثمان (رضی اللہ عنہ) اندرداخل ہوئے اورکچھ گفتگوکی۔پھرجب یہ حضرات چلے گئے تومیں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول!ابوبکر(رضی اللہ عنہ)جب اندرآئے توآپؐ نے ان کی وجہ سے کوئی خاص فکرنہیں کی(یعنی ان کی آمدپر آپ نے اپنی ہیئت یالباس وغیرہ درست کرناضروری نہیں سمجھا)۔پھرعمر(رضی اللہ عنہ)اندرآئے،ان کی آمدپربھی آپ نے کوئی خاص فکرنہیں کی۔اورپھرعثمان(رضی اللہ عنہ) اندرآئے ، تب آپ سنبھل کربیٹھ گئے اوراپنالباس بھی درست کیا؟اس پرآپؐ نے ارشادفرمایا: ’’کیامیں اس شخص سے شرم نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ‘‘۔(۱)
نیزحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شرم وحیاء کی وجہ سے کیفیت یہ تھی کہ خلوت میں بھی کبھی برہنہ ہوکرغسل نہیں کیاکرتے تھے۔
نیزیہ کہ قبولِ اسلام کے وقت جب رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی تھی ٗ اس کے بعدکبھی زندگی بھراپنے اُس ہاتھ (یعنی دائیں ہاتھ)سے شرمگاہ کونہیں چھوا…اسے ’’شرم وحیاء ‘‘کامظہرکہاجائے…؟یارسول اللہ ﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت کااثرکہہ لیاجائے…بہرحال کیفیت یہی تھی…!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں