حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 9

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم

10 / 100

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم
امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔
٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص دوستی اورقربت تھی ، دونوں میں بہت گہرے روابط تھے،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ٗاورحضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعدحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چوتھے شخص تھے جنہوں نے دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا، تب ان کی عمرچونتیس سال تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پر سبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔
٭مزیدیہ کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افراد میں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔
٭نیزرسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومتعددمواقع پر ’’شہادت‘‘ کی خوشخبری بھی سنائی تھی،اور’’مظلومیت‘‘کی خبربھی دی تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے دامادبھی تھے، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہااورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح ایامِ جاہلیت میں ابولہب کے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ سے ہواتھا،آپ ﷺ نے جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ حکم {وَأنذِرعَشِیرَتَکَ الأقرَبِینَ} (۱) (یعنی:’’آپؐ اپنے قریبی رشتے داروں کو[اللہ کے عذاب سے]ڈرائیے‘‘)کی تعمیل کے طورپراپنے خاندان ’’بنوہاشم‘‘کوکوہِ صفاپرجمع کرکے دینِ برحق کی طرف دعوت دی ٗ تواس موقع پرابولہب بگڑگیا،اوریوں کہنے لگا: تَبّاً لَکَ ! أمَا دَعَوتَنَا اِلّا لِھٰذا…؟ یعنی:(نعوذباللہ) اے محمد! تم ہلاک جاؤ،کیاتم نے ہمیں اسی لئے یہاں بلایاتھا…؟(۲) ابولہب کی اس بیہودہ گوئی پرآپؐ انتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوئے،جس پرآپؐ کی تسلی ودلجوئی کیلئے سورۃ المسد{تَبّت یَدَا أبِي لَھَب وَتَبَّ…} نازل ہوئی(یعنی :’’ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اوروہ خودبھی ہلاک ہوجائے…‘‘)
اس پرابولہب مزید مشتعل ہوگیااوراس نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اورعتیبہ کوحکم دیاکہ وہ آپؐ کی صاحبزادیوں ( حضرت رقیہ ؓ ،وحضرت ام کلثومؓ)کوطلاق دے کرگھرسے نکال دیں ، چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا۔(۱)
کچھ عرصہ گذرنے کے بعدآپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی شادی اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردی،ان دونوں نے نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی،جہاں اللہ نے انہیں بیٹاعطاء فرمایا،اس کے بعدنبوت کے دسویں سال ایک غلط فہمی کے نتیجے میں یہ دونوں میاں بیوی حبشہ سے واپس مکہ چلے آئے اورازسرِنومشرکینِ مکہ کی طرف سے تکلیفوں اوراذیتوں کے اسی سلسلے سے دوچارہوناپڑا…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے کے بعدمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔
٭حبشہ میں قیام کے دوران ان دونوں میاں بیوی کے یہاں جس بیٹے کی ولادت ہوئی تھی ،اب مدینہ میں قیام کے دوران ان کایہ لختِ جگرجب چھ سال کاتھا…ایک روزاپنے گھرکے سامنے کھیل کودمیں مشغول تھاکہ اس دوران اچانک کسی جانب سے ایک لڑاکامرغاآیا اوراس بچے کی آنکھ میں چونچ ماری،جس کی وجہ سے چنددن شدیدزخمی رہنے کے بعدیہ بچہ داغِ مفارقت دے گیا…اس کے بعدحضرت رقیہ رضی اللہ کی عنہاکی کوئی اوراولادنہیں ہوئی۔
٭حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاہجرتِ حبشہ کے موقع پراپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے دوری اورجدائی کے صدمے کی وجہ سے بیماررہنے لگی تھیں ،اب اپنے اکلوتے کم سن لختِ جگرکی اس اچانک موت نے انہیں نڈھال کرڈالا…جس پروہ مستقل صاحبِ فراش ہوگئیں ،اورپھرجلدہی سن دوہجری میں عین غزوۂ بدرکے روزمدینہ میں ان کاانتقال ہوگیا…تب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خاندانِ نبوت سے رشتہ منقطع ہوجانے پر انتہائی افسردہ ورنجیدہ رہنے لگے،لہٰذا آپ ؐنے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح حضرت عثمان ؓبن عفان رضی اللہ عنہ سے کردیا،اسی دوہرے شرف کی وجہ سے وہ ’’ذوالنورین‘‘ (یعنی دونوروں والا)کے لقب سے معروف ہوئے۔(۱)
٭سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق کے بعدجب آپ ﷺ اپنے رب کی طرف سے غیبی اشارہ ملنے پر(۲) اگلے ہی سال یعنی سن چھ ہجری میں عمرے کی ادائیگی کی غرض سے مکہ کی جانب عازم سفرہوئے،اس موقع پر آپؐ جب مکہ شہرسے کچھ فاصلے پر’’حدیبیہ‘‘نامی مقام پر پہنچے تومعلوم ہواکہ مشرکینِ مکہ توقتل وخونریزی اورفتنہ وفسادپرآمادہ ہیں ، جس پرآپؐ نے ان کے ساتھ گفت وشنیدکی غرض سے بطورِسفیرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کوروانہ
(۱) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سن دوہجری میں ہوئی ،اس کے بعدسن تین ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کانکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاسے ہوا،اورپھرسن ۹ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی غزوۂ تبوک سے مدینہ واپسی کے فوری بعدحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاکاانتقال ہوا،جبکہ اس سے محض ایک سال قبل یعنی سن آٹھ ہجری میں آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاکابھی انتقال ہوچکاتھا۔
فرمایا،حضرت عثمانؓ جب وہاں پہنچے توان لوگوں نے انہیں اپنے پاس روک لیااوریہ خبرمشہورکردی کہ ہم نے عثمان کوقتل کرڈالاہے…تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا’’عثمان کے خون کابدلہ لینافرض ہے‘‘اورپھراس موقع پرآپؐ نے اپنے تمام ساتھیوں سے جاں نثاری وسرفروشی کی وہ تاریخی بیعت لی،جسے ’’بیعتِ رضوان‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے(۱)اس موقع پرآپؐ نے اپناہی ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پررکھتے ہوئے ارشادفرمایا’’یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے‘‘یقینااس سے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اہمیت اورقدر ومنزلت واضح وثابت ہوتی ہے۔
جبکہ اُدھرشہرمکہ میں ان مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کوپیشکش کرتے ہوئے کہا’’ آپ جب عرصۂ درازکے بعدمکہ پہنچ ہی گئے ہیں ، تواب آپ بیت اللہ کاطواف توکرلیجئے‘‘
ان کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے فرمایا: مَا کُنتُ لأفعَل ، حَتّیٰ یَطُوفَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ۔ یعنی’’جب تک خودرسول اللہ ﷺ بیت اللہ کاطواف نہیں کرلیں گے اُس وقت تک میں بھی نہیں کروں گا‘‘ ۔
یقینااس سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول اللہ ﷺ کیلئے موجزن بے مثال قلبی تعلق اوروالہانہ عقیدت ومحبت کااظہارہوتاہے۔
٭دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورسے ہی رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ’’وحی‘‘نیزدیگرضروری اورخاص رازکی باتیں تحریرکروایاکرتے تھے،اورپھراس کے بعدبھی طویل عرصہ تک حضرت عثمانؓ ہی ’’کتابتِ وحی‘‘کامقدس فریضہ انجام دیتے رہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرمایاکرتی تھیں ’’مجھے وہ منظراب بھی بخوبی یادہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمان کواپنے قریب بٹھاکران سے ’’وحی‘‘لکھوایاکرتے تھے…‘‘اس کے بعدمزیدفرمایاکرتی تھیں : فَوَاللّہِ مَا کَانَ اللّہُ لِیُنزِلَ عَبداً مِن نَبِیِّہٖ تِلکَ المَنزِلَۃَ اِلّا کَانَ عَلَیہِ کَرِیماً ۔ یعنی’’اللہ کی طرف سے یقینااپنے کسی ایسے بندے کوہی اپنے نبی کااس قدرخاص قرب عطاء کیاجاسکتاہے کہ جواللہ کے نزدیک اس قابل ہو…‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں