حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 17

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – خلافت کیلئے انتخاب

51 / 100

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ – خلافت کیلئے انتخاب
خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعدچھ حضرات کے نام تجویزکرتے ہوئے (جن میں اقرباء پروری کے شا ئبہ سے بچنے کیلئے اپنے بیٹے عبداللہ ٗنیزاپنے بہنوئی حضرت سعیدبن زیدرضی اللہ عنہ کوشامل نہیں کیاتھا) یہ وصیت کی تھی کہ یہی چھ افرادباہم مشاورت کے بعدآپس میں سے ہی کسی کومنصبِ خلافت کیلئے منتخب کرلیں …‘‘وہ چھ افرادیہ تھے:
۱۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔ ۲۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
۳۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔۴۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔۵۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ۔۶۔حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ۔
نیزاس موقع پریہ تاکیدبھی فرمائی کہ ان چھ حضرات میں سے کسی ایک کے انتخاب کایہ کام زیادہ سے زیادہ تین دن کی مدت میں بہرصورت طے پاجائے،تاکہ معاملہ طول نہ پکڑ نے پائے…اوریوں منافقین اورخفیہ دشمنوں کوکسی سازش کاموقع نہ مل سکے۔
چنانچہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوری بعدان چھ حضرات میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی دستبرداری کااعلان کردیا،البتہ اس عزم کا اظہار کیاکہ وہ اس سنگین ترین معاملے کی مسلسل خودنگرانی کرتے رہیں گے (۱)لہٰذااب انہوں نے مسلسل ان پانچ افرادکے ساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کیا…توابتداء میں ہی حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت کی عظیم ذمہ داری قبول کرنے سے معذرت کرلی…پھررفتہ رفتہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اورپھرحضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ نے بھی معذرت کااظہارکیا…جس پرعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اورحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقاتیں کرتے رہے،لیکن ان دونوں حضرات کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ مل سکا… حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقررکردہ تین دن کی مہلت تیزی کے ساتھ اختتام پذیرہورہی تھی…تب آخرعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مہاجرین وانصارمیں سے اکابرصحابہ کارجحان معلوم کرنے کی غرض سے بارباران کی جانب رجوع کیا،تب اکثریت کارجحان حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب نظرآیا،جس پرآخریکم محرم سن ۲۴ہجری مسجدنبوی میں نمازکے وقت جب تمام اکابرِصحابہ جمع تھے،حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے، تب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے معاملے کی نزاکت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مسلمانوں کیلئے جلدازجلدکسی خلیفہ کے انتخاب کی ضرورت واہمیت کے بارے میں مختصرتقریرکی،اس بارے میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس تاکیدی وصیت کاحوالہ بھی دیاکہ ’’یہ اہم ترین معاملہ فقط تین دن کی مدت کے اندرطے پاجاناچاہئے‘‘۔ اورپھراس سلسلے میں اپنی بھرپورکوشش اورجدوجہدکا ٗ نیزاکابرِ صحابہ کے ساتھ اپنی طویل ملاقاتوں اورمسلسل مشاورت کاتذکرہ بھی کیا،اورپھرفرمایاکہ’’ اس تمامترکوشش اورتگ ودوکے نتیجے کے طورپرجوصورتِ حال سامنے آئی ہے وہ یہ کہ اکثریت کارجحان عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ )کی جانب ہے…‘‘
یہ کہنے کے بعدحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اٹھے اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے پہنچ کر ان کے ہاتھ پربیعت کی،اورپھرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، ودیگرتمام مسلمانوں نے بھی بیعت کی…یوں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومسلمانوں کے خلیفۂ سوم کی حیثیت سے منتخب کیاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں