دوستی کا پھل 17

حضرت سلیمان علیہ السلام

61 / 100

حضرت سلیمان علیہ السلام
حضرت سلیمان علیہ السلام صرف نبی ہی نہیں تھے،بلکہ بہت زیادہ طاقت رکھنے والے بادشاہ بھی تھے
ہماء بلوچ
پیارے بچو!نبی سلیمان علیہ السلام ،نبی داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام صرف نبی ہی نہیں تھے،بلکہ بہت زیادہ طاقت رکھنے والے بادشاہ بھی تھے۔آپ علیہ السلام نے زمین کے بہت بڑے حصے پر حکومت کی۔
اللہ نے آپ علیہ السلام کو ایسی طاقتیں دی تھیں جن کے بارے میں سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام بچپن ہی سے بہت زیادہ سوجھ بوجھ ،عقل اور سمجھ رکھتے تھے۔سامنے والی کی بات جلد سمجھ لیتے۔نتیجہ نکالتے اور فیصلہ کرتے۔

ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے کم عمری میں اپنی دانائی کی باتوں اور قانون کا اصول بنا کر سب کو چونکا دیا تھا۔ہوا یوں کہ ایک روز غصے میں بھرے ہوئے دو آدمی حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا:اے نبی علیہ السلام”میرا غلے سے بھرا ہوا کھیت تھا

اس آدمی کی بھیڑ بکریاں اس میں گھس آئیں اور میری کھڑی فصل تباہ کر گئیں۔“داؤد علیہ السلام نے سارا قصہ سن کر فیصلہ سنایا:”چروا ہے کہ غلطی سے کسان کا نقصان ہوا،اس لئے وہ اپنی بھیڑ بکریاں کسان کو دے۔اس سے اُس کا نقصان پورا ہو گا۔

پاس ہی بیٹھے سلیمان علیہ السلام جو اس وقت کم عمر تھے اپنے والد سے عرض کرنے لگے۔”ابا حضور،آپ علیہ السلام کا فیصلہ بالکل صحیح ہے مگر کیا میں اپنی رائے دے سکتا ہوں؟“داؤد علیہ السلام نے کہا:”ہاں،ضرور دو۔“سلیمان علیہ السلام نے ادب سے کہا:”میرا مشورہ ہے کہ چرواہے کے سب جانور کسان کو دئیے جائیں۔
وہ ان کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے۔اور کسان کا کھیت چرواہے کے حوالے کیا جائے۔وہ اس میں ہل چلائے،اناج اگائے جب فصل پک کر تیار ہو،تب چرواہا کھیت کسان کو واپس کرے اور کسان بھیڑ بکریاں ان کے مالک کو لوٹا دے۔اس طرح دونوں کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ کسی کی محنت پر پانی پھیرنا کیسا لگتاہے؟“
ہمیں نہ صرف اپنی چیزوں کی حفاظت کرنی چاہئے،بلکہ دوسروں کی چیزوں کی بھی حفاظت کرنی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں